آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پیپلز پارٹی کے سیاسی قبلے لاڑکانہ میں معمول کی صبح بے نور سے ہٹ کر، ایک نئی صبح کی نمود ہوئی ہے۔ تبدیلی و تازگی کے جذبات و احساسات سے لبریز صبح پُرنور کے اجالے نے ملک بھر کو جاری نظامِ بد (اسٹیٹس کو) کو اکھاڑ پھینکنے کا پیغام نہیں دیا؟ جو قومی لازمے کے طور پر ناگزیر ہوگیا ہے۔ لاڑکانہ کے بدلے ووٹروں سمیت کون نہیں جانتا اور سمجھتا کہ کیسے مرکز اقتدار میں تبدیلی آکر بھی منجمد اداروں، سرکاری ڈھانچے کی کھلی نااہلی، قیادت اور کابینہ کے تضاد، سست ترین عدالتی و احتسابی عمل، بدستور برائلر پارلیمان اور ڈوبتے سہمتے میڈیا کے اضافے کے ساتھ الیکشن 18ء کے دوش پر آئی گنجلک تبدیلی اتنی گنجلک ہوتی جا رہی ہے کہ جاڑے کی خوشگوار آمد پر بھی لوگ لُو کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ شاید یقین نہیں آ رہا کہ رُت کی تبدیلی وہاں لے جائے گی یہاں جانا ان کا حق اور ضرورت۔ کسی تو تلخ تجربہ سے گزریں یا گزر رہے ہیں کہ موسم پر بھی بے ایمان ہونے کا شک ہے۔ پریشان حال اہلِ لاڑکانہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں جلد ہی موقع مل گیا کہ ووٹ کو عزت دیتے اپنا اندر باہر لے آئیں۔ ورنہ مولانا فضل الرحمٰن کو تو نجانے کیا کیا جتن کرنا پڑ رہے ہیں، کیا کیا باہر آ رہا ہے، لیکن مطمئن نہیں ہو رہے ہیں۔ لگتا ہے انہیں آزادی مارچ مطمئن کرے گا نہ جکڑ بند دھرنا۔ اللہ کرے کوئی صورت بن جائے کہ ایک ضمنی انتخاب انہیں بھی مل جائے اور ان کے مدارس کے شاگرد نما کارکن یہ موقع پائیں کہ ثابت کر دیں کہ وہ کوئی لاڑکانہ کے ووٹر نہیں جو کوئی تبدیلی چاہتے ہیں بلکہ وہ بدستور مولانا کے سحر کے اسیر ہیں۔

جو کچھ لاڑکانہ میں ہوا خوب ہوا۔ کہاں، فقط پی پی کا امیدوار ہی نہیں، پارٹی کی موروثی قیادت، بھٹو کے نواسے اور زرداری کے بیٹے کا پولیٹکل سیکرٹری جمیل سومرو جو برسوں سے بلاول ہاؤس میں پارٹی اور قیادت میں رابطوں کے لیے پل کی سی خدمات انجام دیتا رہا، پارٹی قیادت کا اتنا وفادار، اتنا بااعتماد اور کہاں جمعہ جمعہ کے تبدیل سیاسی پس منظر والا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا ٹکٹ ہولڈر، پی ٹی آئی کا تائیدی امیدوار لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں جمیل سومرو کو پچھاڑ دیتا ہے۔ نصف صدی سے سندھ کی مکمل بے لچک میں کیسی عجب تبدیلی ہوئی ہے جو پارٹی کے محفوظ ترین قلعے میں وارد ہوئی۔ بھلے سے فصیل توڑنے کے لئے چھوٹے چھوٹے آبشاروں نے دھارا بن کر ہی پورا زور لگایا لیکن یہ بھی دیکھئے کہ پی پی کی سکہ بند وفا کو بہا لے جانے والے تبدیلی دھارے میں مولانا فضل الرحمٰن کا پڑھا پانی بھی شامل تھا، نجانے اسی ناقابل یقین انتخابی اتحاد اور سیاسی مفاہمت کی برکت ہے کہ کراچی تا لاڑکانہ سندھی بھائیوں پر مسلط کرپٹ اور کالی گورننس، جس نے انہیں 12سال میں کچرے کے متعفن پہاڑ ، پیاس اور مصنوعی قحط، ایڈز اور پولیو، اجڑے سکول، خریدی نوکریاں، اذیت ناک سیاسی تابعداری کے سوا کیا دیا؟

لاڑکانہ میں، ووٹر کو عزت دینے والی صبح پُرنور کی آمد پر ایک بیس بائیس سالہ بدحال سے لڑکے کو ٹی وی اسکرین پر واک پوک دیتے سوال کی طاقت کا استعمال کرتے دیکھ کر رو ح خوش ہو گئی۔ ٹی وی نیوز رپورٹر نے جب اسے روک کر پوچھا کہ پیپلز پارٹی لاڑکانہ میں کیسے ہار گئی؟ لاڑکانہ کے نومولود ووٹر سے سوال تو جاندار تھا، لیکن بے جان سے پریشان حال معلوم دیتے لڑکے کا جواب سوال سے کہیں زیادہ جاندار، آنکھیں کھول دینے والا، جھٹ سے بولا: انہوں نے کیا کیا ہے؟ کہاں خرچے وہ 90ارب روپے جو لاڑکانہ کی ترقی کے لئے دیئے گئے، جس کا بہت شور مچا۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔ بس وہ دیکھیں (کیمرہ مین کو مخاطب کرکے دور اشارہ کرتے ہوئے) ایک پل بنایا ہے، وہ بھی صحیح نہیں بنا۔ چبھتے سوالوں پر مشتمل جواں سال ووٹر کا جواب پیپلز پارٹی کی خوبرو جوان رعنا موروثی مشتعل قیادت کا اشتعال کم کرنے کے لئے کافی نہیں، جو انوکھے انتخابی نتیجے سے سیخ پا نظر آ رہے ہیں۔ اور ٹی وی اسکرینوں پر ان کا غم و غصہ دیدنی اور مولانا فضل الرحمٰن کے انتخابی نتیجے پر اشتعال سے بھی کہیں زیادہ معلوم ہوا، ظاہر ہے ایک تو نوجوانی، پھر اسٹیٹس کو کے تحفظ کا جواں عزم ہے۔ لیکن اس سوال کا درست جواب وہ دیں گے تو بات بنے گی کہ کیا لاڑکانہ کے ہر گھر میں بھٹو اب بھی موجود ہے۔ لیاری کے گھروں میں تو نہ رہا، اب لاڑکانہ کی خبر آئی۔ اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا پڑے گا کہ کس نے ہر گھر سے بھٹو کو باہر نکالا، کیوں نکالا؟ کیوں نکالا کا جواب تو میڈیا نے ساتھ ساتھ دیا۔ جب دیا، جب بھٹو کو ہر گھر سے نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی تھی۔ لاہور سے نکالا گیا، پورے پنجاب اور خیبر پختونخوا سے نکالا گیا، جواب تلاش کرنے کی نہیں، جواب پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایک بڑا سوال اس تناظر میں یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ کی گریجویشن ایک تو پہلے ہی پارٹی میں تازگی اور ملکی سیاست کے لئے ناکافی تھی، لیکن جتنی کچھ پارٹی میں تبدیلی کی توقع تھی، وہ بھی نہ ہوئی۔ ولایتی گریجویشن نے تازہ دم قیادت کو تازہ ذہن نہ بنایا۔ مخالفین پی پی کے لئے یہ کوئی مسرت کا سماں نہیں ہے۔ بطور سب سے بڑی وفاقی جماعت پی پی کا یہ زوال باعث تشویش ہے، جبکہ نئی وفاقی پی ٹی آئی، ایک سال میں ہی پنجاب میں بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے اور یہ بھی کوئی امید نہیں کہ پی پی کے انکل ہوش میں آئیں گے جبکہ لاڑکانہ میں الیکشن پی پی کا چراغِ سحری بن کر انہیں واضح پیغام دے گیا۔

ادارتی صفحہ سے مزید