آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مولانا کا مسئلہ اقتدار نہیں الیکشن میں مسلسل دھاندلی ہے، حمداللّٰہ

کراچی (جنگ نیوز) جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما حافظ حمداللّٰہ نے کہا کہ ہمارا مسئلہ اقتدار نہیں انتخابات میں تسلسل سے دھاندلی ہے۔

ہم اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں، 2013ء کے انتخابات میں بھی دھاندلی ہوئی مگر 2018ء کی طرح کسی جامع منصوبے کے تحت نہیں ہوئی، 2008ء کے انتخابات میں بھی دھاندلی ہوئی ہم کب تک اسے برداشت کریں گے، اب انتخابات میں دھاندلی قطعاً برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،مولانا فضل الرحمن کی جنگ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جنگ ہے، پچیس جولائی کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں نے 2018ء کے انتخابات کو جعلی اور دھاندلی زدہ قرار دے دیا تھا۔

پارلیمنٹ میں جانے پر رضامند نہیں تھے دیگر اپوزیشن جماعتوں کی رائے کے احترام میں پارلیمنٹ گئے، پارلیمنٹ میں صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی سے مقابلہ کیا، ہماری جنگ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ تھی، حکومت کے خلاف جمہوری ہتھیار استعمال کرنا ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کی کوشش شروع کرنے میں بہت تاخیر کر دی وزیراعظم کی تقریر اور حکومتی رہنماؤں کے قبل از وقت بیانات کی وجہ سے مذاکرات کا ماحول خراب ہوا، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی گفتگو سے مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے، میری اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن دھرنا دیں گے اور دو تین ہفتے سے پہلے واپس نہیں جائیں گے۔

نواز شریف، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن اس وقت ایک صفحہ پر ہیں، مولانا فضل الرحمن کی مذاکرات کے لیے وزیراعظم کے استعفے کی شرط ابھی تک برقرار ہے، جے یو آئی صرف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملنے کے لیے تیار ہے۔

میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن بہت کچھ کھو دینے کے بعد کچھ پانے کی کوشش کررہے ہیں، مولانا نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کی کال سے پیچھے ہٹتے نظر نہیں آرہے بلکہ ان کے لہجہ کی تلخی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، 2018ء کے انتخابات پر تقریباً تمام جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے لیکن اس پر سب سے زیادہ بے چین اور پریشان جمعیت علمائے اسلام ہے، پچھلے سال 25 جولائی کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی کوشش رہی کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں کا بائیکاٹ کریں۔

مولانا کی خواہش رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں دھرنا دے کر موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش کریں، لیکن جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی قائل نہیں ہوئیں تو مولانا نے3 اکتوبر کو سولوفلائٹ لیتے ہوئے آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا، انتخابات میں شفافیت پر تو مختلف جماعتوں کے تحفظات ہیں مگر صرف مولانا ہی اتنے بے چین اور بیتاب کیوں ہیں، مولانا کی اس بے بسی اور بیتابی کے پیچھے ایک پس منظر ہے جس کی وجہ سے مولانا بہت کچھ کھو دینے کے بعد کچھ پانے کی کوشش کررہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اپنے 30 سالہ سیاسی کیریئر میں آدھے سے زائد وقت مختلف وفاقی و صوبائی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں، یہ مولانا کا ہی کمال ہے کہ مرکزی سطح پرا نتہائی کم ووٹ لینے کے باوجود پچھلے 16سالوں سے مختلف حکومتوں میں شامل رہے ہیں، 1993ء میں جے یو آئی ایف کو صرف 2 اعشاریہ 4 فیصد ووٹ ملے لیکن پھر وہ بینظیر حکومت کاحصہ بنے اور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے، مولانا پیپلز پارٹی کے اتحادی تو بنے لیکن بعد میں انہوں نے بینظیر بھٹو کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے خاتون کو قبول نہیں کیا تھا بلکہ برداشت کیا تھا۔

1997ء میں مولانا فضل الرحمن اسمبلی تک پہنچنے میں ناکام رہے لیکن پرویز مشرف کی آمریت کے بعد مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کیریئر میں اہم موڑ آیا، 2002ء کے انتخابات کے بعد مولانا کو سیاسی اہمیت ملنا شروع ہوئی، ان انتخابات میں مولانا کی جماعت کو 6 فیصد ووٹ پڑے لیکن ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے وہ خیبرپختونخوا میں اکرم درانی کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ق لیگ کے ساتھ بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے میں بھی کامیاب رہے، یہ وہ دور تھا جب ایم ایم اے نے سترہویں ترمیم منظور کرانے میں پرویز مشرف کی مدد کی تھی، عجیب بات یہ ہے کہ 2006ء میں نواز شریف اور عمران خان نے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کی اور نواز شریف نے مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مولانا مشرف کے ایل ایف او کی حمایت نہ کرتے تو ملک کا اتنا نقصان نہ ہوتا۔

2008ء میں مولانا کی جماعت کو صرف 2 اعشاریہ 2 فیصد ووٹ پڑے مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن کر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن گئے، 2013ء کے انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے مولانا پیپلز پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، مولانا کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی سے ملک کو مارشل لاء کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

2013ء میں مولانا کی جماعت کو پھر صرف  3 اعشاریہ 2 فیصد ووٹ ملے مگر یہ مولانا کا کمال تھا کہ اس دفعہ وہ پیپلز پارٹی کے اتحاد سے باہر آکر ن لیگ حکومت کے ساتھ مل گئے اور ایک بار پھر پانچ سال کیلئے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن گئے، مسلسل حکومتوں کا حصہ رہنے کے بعد مولانا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ تو دور کی بات 16سال بعد پہلی بار قومی اسمبلی تک بھی نہ پہنچ سکے، مولانا دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن یہ مولانا کا ہی کمال ہے کہ جس پارلیمنٹ کو وہ جعلی کہہ رہے تھے اور حلف نہ لینے کا اعلان کررہے تھے اسی پارلیمنٹ کے ذریعہ صدر مملکت بننے کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی بے چینی اور پریشانی مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ فوری طور پر تحریک انصا ف کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں اور سب کھودینے کے باوجود کچھ نہ کچھ پانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید