تحریر: انعام الحق نامی۔۔لندن کسی خطے میں اس وقت ایک کی بجائے دو قوموں کی تشکیل کا عمل شروع ہو جاتا ہے جب اس کا ایک گروہ زبان، رنگ، نسل، علاقہ یا مذہبی بنیادوں پر دوسرے کو حقیر سمجھنا شروع کر دے اور اسے اس کا جائز مقام دینے سے انکاری ہو جائے۔ ایسے میں آپ مظلوم کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے کہ اس نے مزاحمت کیوں کی۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں پر خالصتاً مذہبی بنیادوں پر جبر1819ء میں رنجیت سنگھ کے سری نگر پر قبضے سے شروع ہوا۔ سری نگر کی مسجد کو تالے لگا کر دیگر تمام مساجد کو سرکاری قبضے میں لے لیا گیا اور گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مغلوں کے برعکس رنجیت سنگھ نے غریبوں پر بھی ٹیکسوں کی بھر مار کر دی تو بے شمار کشمیری مسلمان پنجاب، لاہور اور راولپنڈی وغیرہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس وقت کے مورخ رنجیت سنگھ کے27سالہ دور کو کشمیر کی تاریخ کا بد ترین دور قرار دیتے تھے مگر اس کے بعد آنے والے ڈوگرہ راج نے رنجیت سنگھ کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ گلاب سنگھ اور اس کی اولاد کشمیر اور کشمیریوں کو ذرخرید جائیداد اور غلام سمجھتے تھے۔ مسلمانوں سے بیگار لی جاتی اور انھیں حقوق ملکیت بھی حاصل نہ تھے۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانیں کسی بھی ذی شعور انسان کے رونگٹے کھڑے کر دینے کیلئے کافی ہیں لیکن افسوس کہ ان تما م تر تاریخی حقائق کے باوجود کچھ ناعاقبت اندیش بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ بنتے ہوئے 1947ء کی مسلمانانِ کشمیر کی بغاوت کو مذہبی فساد ، کبھی اسپانسرڈ تحریک اور کبھی تقسیم ’’ریاست‘‘ کی سازش گردانتے ہیں۔ ان کی یہ خیالی ’’ریاست‘‘ جو درحقیقت گلاب سنگھ کی اولاد کی ذاتی جاگیر تھی (جو خود انگریز سرکار کے باجگذار تھے) میں عوام اور بالخصوص مسلمان اکثریت کو انسانی تو کیا جانوروں کے برابر بھی حقوق حاصل نہ تھے۔1947ء کی بغاوت دراصل انھیں مظالم کے تسلسل کا انجام تھا جس کا آغاز1924ء میں سری نگر کی سرکاری ریشم کی مل کے پانچ ہزار مسلم مزدوروں کی ہڑتال سے ہوا۔ وہ تنخواہ بڑھانے اور مل میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہندو پنڈتوں کی بدمعاشیوں کی روک تھام کا مطالبہ کر رہے تھے جو ان کو ملنے والی تنخواہ کا کچھ حصہ بھی چھین لیا کرتے تھے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ نے مطالبات ماننے کی بجائے ہڑتالیوں سے نمٹنے کیلئے (مہاراجہ پرستوں کے ہیرو) ہری سنگھ کی کمان میں فوج بھیجی۔ ہری سنگھ کے حکم پر مزدوروں کو بری طرح مارپیٹ کر نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا اور ان کے لیڈر کو دوران گرفتاری تشدد سے ہلاک کر دیا گیا۔ اس ’’عظیم ریاست‘‘ میں مسلمانوں کی آبادی 96فیصد جب کہ ان کی شرح خواندگی 0.8فیصد تھی۔ ان محرومیوں کی شکایت کیلئے سری نگر کے کچھ مسلمانوں نے انگریز وائسرائے لارڈ ریڈنگ کو خط لکھا تو پرتاب سنگھ نے شکایت کنندگان کو گولی مارنے کا حکم دے دیا۔ انگریز ریذیڈنٹ کی مداخلت سے ایسا تونہ ہوسکا لیکن اس نے فی الفور مراسلہ لکھنے والے سید الدین شال کو ریاست بدر کردیا۔ اس جبر ودرندگی کا نقطہ عروج 13جولائی 1931ء کو دیکھنے میں آیا جب22 نہتے لوگوں کو سری نگر جیل میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ دوسری طرف اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ پونچھ کے علاقے کے ہزاروں فوجی پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر واپس آچکے تھے۔ انہوں نے باہر کی دنیا اور جنگیں دیکھی ہوئی تھیں اور لڑنا بھی جانتے تھے۔ اب ڈوگرہ حکومت کے ظلم و جبر کو یوں سر جھکا کر برداشت کئے جانا ان کیلئے ناممکن تھا۔ پھر برِ صغیر میں اٹھنے والی آزادی کی تحریک اور تحریکِ پاکستان کے اثرات بھی اس طرف آنالازمی تھے۔ حالات کو بھانپتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپریل1947ء میں راولاکوٹ کے دورے کے فوراََ بعد فوج کی تعداد دگنی کرنے کے احکامات جاری کر دئیے اور پوری ریاست میں مسلمان افسران سے چارج لے کر ہندو وں اور پنڈتوں کو دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کو امر تسر سے جموں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ تمام شہروں میں اس کی برانچیں قائم کر کے اس کے کارکنوں کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی گئی۔ جولائی1947ء کو سری نگر کی وادیِ کانگڑہ میں ریاست کے تمام ہندو راجوں اور مہاراجوں کی خفیہ بیٹھک میں آر ایس ایس کو ریاستی فوج کی نگرانی میں ریاست سے مسلمانوں کی ’صفائی‘ کرنے کا ٹاسک دیا گیا اور پونچھ سے اس کا آغاز کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ستمبر1947ء میں وزیر پونچھ نے مسلمانوں کو تمام لائسنس یافتہ ہتھیاروں سمیت کلہاڑیاں، چھرے، برچھیاں اور چار انچ سے لمبے چاقو تھانوں میں جمع کروانے کا حکم صادر کیا جب کہ دوسری طرف چارہزار ہندو خاندانوں میں جدید اسلحہ تقسیم کیا گیا۔ پونچھ کے گرد و نواح کی ناکہ بندی کر کے دفع144نافذ کر دی گئی۔ مطلب مہاراجہ ہری سنگھ نے قتل و جبر کے ذریعے مسلمانوں سے تمام علاقے خالی کروانے کا مکمل منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ ان حالات کو بھانپتے ہوئے ریاست میں موجود انگریز افسر استعفے دے کر ریاست سے نکل چکے تھے لیکن دوسری طرف پونچھ کے ریٹائرڈ فوجی بابائے پونچھ خان محمد خان کی قیادت میں مسلح جدوجہد کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ وہ راولپنڈی میں پیرس ہوٹَل کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر اسلحہ اور چندہ جمع کرنے کیلئے سرگرم ہو چکے تھے۔ وہیں سے انھوں نے حکومتِ پاکستان سے امداد کی اپیلیں بھی کیں اور قبائلی علاقوں تک رابطے بھی قائم کئے۔ ستمبر 1947ء کے پہلے ہفتے میں سردار ابراہیم بھی ان کے پاس آ پہنچے تو مری میں سیاسی و فوجی قیادت کا خفیہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جنگ آزادی کو تین سیکٹروں میں تقسیم کر کے ہر سیکٹر کیلئے ایک ایک کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اس اجلاس میں اکتوبر کے پہلے ہفتے سے باقاعدہ جنگ آزادی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ 22 کو جب قبائلی لشکر آیا تو پونچھ کے گرد و نواح کے کئی علاقے پہلے ہی آزاد کروائے جا چکے تھے اور ڈوگرہ فوج پسپا ہو رہی تھی۔ اس لیے اس پروپیگنڈے میں کوئی سچائی نہیں کہ قبائلیوں کی آمد سے قبل ریاست کے لوگ شاید چین کی نیند سو رہے تھے اور ہندو مسلم آپس میں شیر و شکر زندگی گذار رہے تھے۔ پونچھ اور دیگر علاقوں کی ہندو آبادی لوٹ مار میں اپنی فوج اور آر ایس ایس کے غنڈوں کی بھر پور حمایت و امداد کر رہی تھی۔ یہ علاقے فتح ہونے کے بعد کئی گوردواروں میں جمع کئے گئے اسلحے کے ذخائر بھی برآمد ہوئے۔ قبائلی لشکر چونکہ کوئی پیشہ ور فوج نہیں تھی اور ان میں طرح طرح کے لوگ بھی شامل تھے جس وجہ سے بے شمار کوتاہیاں بھی ہوئیں لیکن مہاراجہ کی سرپرستی میں جو ظلم ہندوئوں اور سکھوں نے مسلمانوں پر ڈھائے اس کے مقابَل قبائلی اور کشمیری مسلمانوں کا ہندوئوں کے ساتھ سلوک مثالی تھا۔ اس کی گواہی خود کرشنا مہتا جو کہ ایک ہندو افسر کی جوان سال بیوی تھی اور اپنی بچیوں سمیت ان تمام حالات سے خود گذر کر ہندوستان پہنچی ، سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا۔ اس کی مشہور کتاب ’ایک ماں کی سچی کہانی‘ کا ہر صفحہ مسلمانوں اور قبائلی سرداروں کے حسن سلوک کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جنگ آزادی کے بعدآزاں کشمیرکی قیادت اور پاکستانی افسر شاہی کے اقتدار پرستانہ اور تھانیدارانہ رویوں کی وجہ سے ایسی کہانیوں اور حالات سے آنے والی نسلوں کو آگاہ رکھنے اور اس تاریخ کو باضابطہ محفوظ و مرتب کرنے کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہ کیا گیا۔ ان کی اول و آخر ترجیح اقتدار اور حصول مفاد ٹھہری اور اس کاہلی اور نااہلی کی وجہ سے پنجاب ٹیکسٹ بک کی کتابوں کو جوں کا توں آزاد کشمیر کے نصابوں میں ٹھونس دیا گیا۔ ان نصابی کتابوں میں آپ کو محمود غزنوی اور غوری کے کارنامے تو ملیں گے لیکن اپنی تاریخ بارے میں سوائے راجہ للتا دتیہ اور سلطان زین العابدین کے سرسری ذکر کے ڈوگرہ راج کے اس آخری دور میں لوگوں پر کیا بیتی، اس پر کوئی تحقیق و معلومات موجود نہیں۔