آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سابق امریکی صدر رچرڈ نِکسن کا شاندار محل

امریکی صدور کے محلات ہر دور میں عوام کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ امریکی صدر چرڈ نِکسن 1969ء میں امریکا کے 37ویں صدر بنے۔ سان کلیمنٹے، کیلی فورنیا کے ساحل پر لاس اینجلس اور سان ڈیگو کے درمیان واقع ایک ساحلی مقام ہے۔ اورنج کاؤنٹی کا یہ جنوبی شہر اپنے خوبصورت سمندر، پہاڑی سلسلوں کے بہترین نظاروں، موافق موسم اور تعمیرات میں ہسپانوی دور کے آرکیٹیکچر کے باعث امریکا سمیت دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 

اسی خوبصورت مقام پر سابق امریکی صدر رِچرڈ نِکسن کا گھر بھی ہے، جسے رچرڈ نکسن کاویسٹرن (مغربی) وہائٹ ہاؤس کہا جاتا ہے، کیونکہ سابق امریکی صدر سرکاری وہائٹ ہاؤس سے باہر جب بھی جاتے تھے تو وہ اسی گھر میں رہائش اختیار کرتے تھے اور یہیں سے مملکتی امور بھی انجام دیا کرتے تھے۔

ہسپانوی طرز کے آرکیٹیکچر کے باعث اسے La Casa Pacificaکا نام دیا جاتا ہے، جس کا انگریزی زبان میں مطلب The House of Peace (امن کا گھر) ہے۔

ہسپانوی طرز کا تعمیرشدہ یہ شاندار اور وسیع محل آرکیٹیکٹ کارل لِینڈبوم نے ڈیزائن کیا تھا، جسے 1926ء میں سان کلیمنٹے کے بانی فائنانسر ہیملٹن ایچ کاٹن نے تعمیر کروایا تھا، جو کہ امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کا حمایتی تھا۔ صدر نکسن نے ہیملٹن ایچ کاٹن کی بیوہ سے 1969ء میں یہ محل خریدلیا۔ جلد ہی اس کا نام ’ویسٹرن وہائٹ ہاؤس‘ پڑگیا۔ ہر امریکی صدر کے ثانوی گھر کو ’وہائٹ ہاؤس‘ کا نام دینے کی روایت کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔

محل کو خریدنے کے بعد صدر نِکسن نے اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کروائیں۔ ان میں سےکچھ تبدیلیاں ذاتی پسند جبکہ کچھ سرکاری امور کی انجام دہی کو خفیہ رکھنے کے مقصد کے تحت کروائی گئیں۔ ٹینس کورٹ کو سوئمنگ پول میں تبدیل کیا گیا اور جائیداد کےایک بڑی حصے کو 15ہزار فٹ C-Shaped دیوار تعمیر کرواکر بند کردیا گیا۔

محل میں جابجا ٹائل اور لکڑی کے فرش، خوبصورت Groin-Vaultedچھت اور محرابی دروازے نظر آتے ہیں۔ ساحل سمندر کا نظارہ کرتا دفتر(جوصدر نکسن کے زیراستعمال رہتا تھا)، انٹرٹینمنٹ پویلین، ماسٹر سوئٹ (ترمیم اور توسیع کردہ باتھ روم اورالماری کے ساتھ)، صحن کے ساتھ کلاسیکی انداز میں سجایا گیا دیوان خانہ اور اس کے مرکز میں ہاتھ سے پینٹ کیا گیا ٹائل کا فوارہ اور پھر بعد میں تعمیرکروایا گیا جدید انداز کا ٹینس کورٹ، یہ سب اس شاندار محل کے چھ خصوصی اور نمایاں خدوخال ہیں۔ 

مرکزی محل کی تعمیر 9ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہے جبکہ دو بیڈ رومز پر مشتمل گیسٹ ہاؤس، گیسٹ کوارٹرز کے ساتھ پول ہاؤس اور اسٹاف کے لیے رہائش کا بندوست اس کے علاوہ ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ محل 9بیڈ رومز اور 14باتھ رومز پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پول اور بڑا سبز موٹر کورٹ بھی شامل ہے۔

1974ء میں واٹر گیٹ اسکینڈل کے باعث صدارت کے منصب سے مستعفی ہونے کے بعد رچرڈ نِکسن اور ان کی بیوی نے اپنی زندگی اسی محل میں گزاری۔ سابق امریکی صدر نے اپنی یادداشتیں بھی اسی محل میں رہتے ہوئے تحریر کیں۔ 1977ء میں پہلی بار انھوں نے برطانوی ٹیلی ویژن صحافی ڈیوڈ فروسٹ کو تفصیلی انٹرویو دینا قبول کیا۔ نِکسن کے 12انٹرویوز کی سیریز چار ہفتوں تک ہر ہفتے تین انٹرویوز کے حساب سے ’میوچوئل براڈ کاسٹنگ کارپوریشن‘ کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ ان انٹرویو زمیں نِکسن نے کھل کراپنے خلاف بنائے گئے واٹر گیٹ اسکینڈل پر اظہارِ رائے کیا۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق، ان انٹرویوز میں نِکسن کی باتوں سے اس الزام کو تقویت ملتی تھی کہ انھوں نے واٹر گیٹ اسکینڈل سے بچنے کے لیے قانون کو اپنا راستہ اپنانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی دانستہ کوششیں کیں۔ یہ ایک ایسا الزام ہے، جس سے وہ 1994ء میں اپنے انتقال تک انکاری رہے۔

1980ء کے اواخر میں رچرڈ نکسن اور ان کی بیوی نے یہ شاندار محل فروخت کردیا تھا اور وہ پارک رِج، نیو جرسی منتقل ہوگئے تھے۔ اس وقت یہ محل ادویات سازی کی صنعت سے وابستہ ایک سابق چیف ایگزیکٹو آفیسرگیون ایس ہاربرٹ کی ملکیت ہے ۔ گیون ایس ہاربرٹ نے ارد گرد کی خالی زمین پر انفرادی پرتعیش محلات کے انکلیو تعمیر کروائے، البتہ نکسن کا محل اس وقت بھی اپنی اصل حالت میں موجودہے۔ 

اس وقت یہ ایک نجی رہائش گاہ ہے اور عوام کے لیے بند ہے۔ رچرڈ نِکسن نے اس محل کو 26ایکڑ اراضی کے ساتھ خریدا تھا، تاہم دیگر انفرادی محلات کی تعمیر کے بعد نِکسن کا وہائٹ ہاؤس اس وقت تقریباً چھ ایکڑ رقبہ پر رہ گیا ہے، جس میں 450فٹ بیچ فرنٹ بھی شامل ہے۔

اپنی ایک سو سالہ تاریخ میں اس محل میں صرف تین خاندان رہائش پذیر رہے ہیں اور تیسرے مالک گیون ایس ہاربرٹ اسے 2015ء سے فروخت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 2015ء میں پہلی بار انھوں نے اس شاندار محل کو فروخت کرنے کی قیمت 75ملین ڈالر مقرر کی تھی، جس میں ناکامی کے بعد انھوں نے پہلے اس کی قیمت کم کرکے 69ملین ڈالر اور پھر 63.5ملین ڈالر کردی۔ اب چوتھی کوشش میں انھوں نے اسے57.5ملین ڈالر کے پرائس ٹیگ کیساتھ ایک بار پھر مارکیٹ میں  فروخت کیلئے پیش کیا ہے۔

تعمیرات سے مزید