آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برطانیہ میں پولیس کانسٹیبلوں پر ہر چوتھے منٹ میں حملہ، صرف 4 فیصد حملہ آور جیل جاتے ہیں

لندن( جنگ نیوز) برطانیہ میں پولیس کانسٹیبلوں پر ہر چوتھے منٹ حملہ کیا جاتا ہے تاہم حملہ کرنے والے صرف4فیصد نفگے جیل جاتے ہیں برطانوی اخبار ایکسپریس کے مطابق پولیس افسران پر حملہ کرنے والے آزاد ہیں اور صرف چھوٹی سی تعداد ہی جیل بھیجی جارہی ہے یہ انکشاف پریشان کن اعداد سے ہوا ہے، معلوم ہوا ہے کہ دو تہائی حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی اور صرف ان کی چار فیصد تعداد ہی جیل بھیجی جاتی ہے، یہ اعداد وشمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پولیس لیڈرز کا اندازہ ہے کہ فرنٹ لائن پر ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ہر 4منٹ پرنشانہ بنایاجاتا ہے، بہت سارے لیڈرز کا کہنا ہے جسٹس سسٹم فورس کو تحفظ دینے میں ناکام ہورہاہے اور مزید کارروائیوں اور زیادہ سخت سزائوں کی ضرورت ہے، تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 2018کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں پولیس پر 26295 حملے کئے گئے تاہم صرف 8ہزار 265 لفگوں کو سزادی گئی، صرف 1103کو جیل بھیجا گیا 15سو سے زائد کو معطل سزائے قید دی گئی یا مشروط طورپر ڈسچارج

کردیا گیا 2ہزار 8اور سو کو کمیونٹی سزائیں دی گئیں جبکہ 2427پر جرمانے کئے گئے صرف280 کیسوں میں مجسٹریٹوں نے حملہ آوروں کو حکم دیا کہ وہ زخمی افسران کو جرمانہ ادا کریں، اس سال ایک نیا قانون عمل میں آیا ہے جس سے پولیس اور ایمرجنسی ورکرز پر حملہ کرنے والوں کی زیادہ سے زیادہ سزا دو گنی کرکے 12 ماہ کردی گئی ہے بہر حال پولیس لیڈرز زیادہ سزائوں کا مطالبہ کررہے ہیں ڈائریکٹر آف پبلک پروسیکیوشنز مکس ہل کیوسی سے پولیس چیفس کے ساتھ مذاکرات کئے ہیں جس میں پولیس پر حملہ آوروں کو چارج کرنے کی تعداد پر ان کی گہری تشویش کاجائزہ لیا گیا کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ سرکاری اعداد وشمار صورتحال کی مکمل تصویر فراہم کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ بہت ہی کم حملوں کی رپورٹ کی جاتی ہے، پولیس فیڈریشن کے مطابق انگلینڈ اور ویلزکے جمع کردہ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال پولیس پر دوملین سے زائدحملے ہوئے ہیں اور فیڈریشن زیادہ محفوظ آلات تک رسائی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کررہی ہے کرائون پروسیکیوشن سروس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر آف پبلک پروسیکیوشنز نے پولیس کے ساتھیوں سے ان کی تشویش سننے کے لئے بات کی ہے ہم اب ایمرجنسی ورکرز پر حملوں پر کارروائی کے لئے مشترکہ طورپر سی پی ایس گائیڈنس کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے رضا مند ہوگئے ہیں جو عنقریب شائع کی جائے گی حالیہ مہنوں کے دوران ٹیمبر ویلی پی سی اینڈر یوہارپرسمیت کئی ہولناک واقعات میں پولیس کو درپیش خطرات کی نشاندہی ہوئی ہے۔

یورپ سے سے مزید