آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ٹی 20، سیریز میں بابر اور افتخار نے پرفارم کیا، تینوں شعبوں میں ناکام رہے، مصباح الحق

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی جب تک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 180 170,رنز نہیں کریں گے اس وقت ہم کس طرح جیت سکتے ہیں۔آسٹریلیا کی سیریز میں صرف دو بیٹسمین بابر اعظم اور افتخار احمد پرفارم کر پائے باقی کوئی بیٹسمین اپنا حصہ نہیں ڈال سکا ۔ افتخار احمد جس طرح کھیلا ہے وہ مثبت چیز ہے۔انہوں نے افتخار احمد کے ساتھ نوجوان بولرز موسی خان کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے اسے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پلس پوائنٹ قرار دیا، ان کا کہناہےکہ موسی نے جس اسپیڈ کے ساتھ بولنگ کی، وہ ایک پازیٹو سائن ہے اور مجھے یقین ہےکہ آگے چل کر وہ مزید بہتر بولنگ کرے گا۔آسٹریلیا نے پاکستان کو تینوں شعبوں میں آوٹ کلاس کرتے ہوئے اپنی برتری ثابت کی، ہم کسی بھی شعبے میں توقعات کے مطابق پرفارم کرنے میں ناکام رہے ۔پی سی بی پوڈکاسٹ میں ہفتے کو ایک انٹر ویو میں مصباح الحق نے ٹیسٹ سیریز میں میزبان ملک کو ٹف ٹائم دینے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم زیادہ تجربہ کار اور ایسے کھلاڑیوں

پر مشتمل ہے جو آسٹریلوی وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ مصباح الحق نے کہا کہ نوجوان فاسٹ بولرموسی خان نے اچھی رفتار کے ساتھ بولنگ کی ، مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے کار آمد ہوں گے ۔کھیلوں کے تینوں شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے ۔پاکستان ٹیم میں فٹنس اور ڈسپلن پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔آسٹریلیا اور ہماری فیلڈنگ میں واضع فرق تھا ۔ہم آسٹریلیاکے ٹاپ تین کھلاڑیوں کو آوٹ نہیں کرسکے۔ٹیسٹ ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑی ہیں امید ہے اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔ہیڈ کوچ کا کہنا ہےکہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بابر اعظم اور افتخار احمد نے بہتر پر فارم کیا، باقی کسی بیٹسمین سے رنز نہیں ہوئے۔ مختصر فارمیٹ کی اس کرکٹ میں کم ازکم 180 یا اس سے زیادہ رنز ہوں گے تو جیت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ آسٹریلوی بولرز نے رائٹ ایریا میں بولنگ کرکے ہمارے بلے بازوں کو رنز کرنے سے باز رکھا، ہمارے بولرز ایسا نہیں کرپائے، ان کے ٹاپ تھری بیٹسمنوں کو ہم جلد آؤٹ کرنے کے ساتھ رنز بنانے سے بھی نہیں روک سکے۔ اس کے ساتھ فیلڈنگ کا بھی واضح فرق دکھائی دیا۔ ہمیں بولنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ کی خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔فٹنس میں بھی بہتری لانا پڑے گی۔

اسپورٹس سے مزید