آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

9 نومبر 1989 کو دیوارِ برلن گرائی گئی اور 30 سال بعد اسی روز حکومت پاکستان نے مذہبی روا داری کے تحت کرتار پور راہداری کا افتتاح کرکے نفرتوں کی دیواریں منہدم کرنے کی کوشش کی مگر اسی روز ہی بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا کیس کا فیصلہ سنا کر یہ کوشش ناکام بنادی۔ 

بھارتی عدالت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کو جائز قرار دیدیا ہے اور سابق چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اس فیصلے سے متعلق محض یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ جب آپ کے پاس کہنے کو کوئی اچھی بات نہ ہو تو خاموش رہنا چاہئے۔ 

بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ متنازع جگہ پر رام مندر ہی بنے گا جبکہ مسلم فریق کو ایودھیا میں کسی نمایاں جگہ پر مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ زمین دیدی جائے۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے عہد میں ایودھیا کے مقام پر بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے متعلق ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے بھگوان رام کی جنم بھومی ہے اور یہاں مندر کو گرا کر مسجد تعمیر کی گئی۔ 

بھارتی سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران محکمہ آثار قدیمہ نے بابری مسجد کی جگہ کسی مندر کی باقیات کے ثبوت تو پیش کئے مگر یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ مغل دور میں مندر کو گرا کر مسجد تعمیر کی گئی۔ 

یہ بات بھی حتمی نہیں کہ جس مندر کے آثار دریافت ہوئے وہ ہندو دھرم کا ہی مندر تھا۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے 6 دسمبر 1992کو بابری مسجد پر دھاوا بول کر اسے شہید کردیا مگر اس جھگڑے کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔ 

1949میں 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب اس تنازعہ کے مرکزی کردار نروانی اکھاڑے والے بابا ابھیرام داس نے بابری مسجد سے بھگوان رام کی مورتی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور پھر فسادات کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 

بھارتی مصنفین کرشنا جھا اور دھریندر جھا کی کتاب ’’ایودھیا داد ڈارک نائٹ‘‘ میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق بابری مسجد سے بھگوان رام کی مورتی برآمد ہونے کا معجزہ ایک سوچ سمجھا منصوبہ تھا جسے ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے انجام تک پہنچایا گیا۔ 

اس کتاب کے مطابق جعلسازی سے بھگوان رام کی مورتی برآمد کرنے میں وہی لوگ ملوث تھے جنہوں نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا۔ 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب یہ لوگ جمع ہوئے اور مسجد کے موذن محمد اسماعیل کو مارپیٹ کر بھگا دیا گیا اور مسجد میں بھگوان رام کی مورتی لا کر رکھ دی گئی۔ 

جب صبح ہوئی تو مسجد سے اذان کے بجائے ’’رام لیلا‘‘ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ دھرم اور راج نیتی کا منجن بیچنے کے لئے دہکائی گئی نفرتوں کی چنگاریاں سلگتی رہیں اور مسلسل ہوا دیئے جانے کے بعد تب بھڑک اُٹھیں جب رام جنم بھومی تحریک شروع ہو گئی۔ 

بی جے پی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے جلتی پر تیل پھینکنے کا کام کیا اور گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لئے رتھ یاترا لیکر نکل پڑے۔ ایل کے ایڈوانی کی اس یاترا سے اتر پردیش میں بھونچال آگیا۔ 

اس دوران وشوا ہندو پریشد کے کلیان سنگھ نے بابری مسجد جا کر کار سیوا کرنے کی اجازت طلب کی اور حلف نامہ جمع کروایا کہ ان کی کار سیوا کے نتیجے میں مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا اور سیوک مسجد کی حفاظت کریں گے، بھارتی سپریم کورٹ نے اس یقین دہانی پر وشوا ہندو پریشد کو علامتی کار سیوا کی اجازت دیدی۔ 

اس کار سیوا کے درپردہ مقاصد کچھ اور تھے، منصوبہ بندی کے مطابق پانچ دسمبر 1992 کو جنونیوں نے بابری مسجد گرانے کے ارادے ظاہر کر دیئے مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور پھر 6 دسمبر کو یہ مناظر پوری دنیا نے دیکھے کہ کار سیوا کے نام پر آنے والے بلوائیوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ 

اس روز بابری مسجد کے مینار ہی نہیں گرے، بھارتی جمہوریت اور سیکولر ازم کی عمارت بھی زمین بوس ہوگئی۔ بی جے پی کے رہنمائوں نے مجرمانہ کردار ادا کرتے ہوئے بلوائیوں کی پشت پناہی کی۔ اس سانحہ پر کئی انکوائری کمیشن اور کمیٹیاں بنیں۔ 

سپریم کورٹ نے ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی کیخلاف مقدمات چلانے کا حکم بھی دیا لیکن سانحہ بابری مسجد کے حقیقی کرداروں کو سزا نہ ہو سکی۔ دیدہ دلیری کا یہ عالم رہا کہ وشوا ہندو پریشد کئی سال تک 6دسمبر کو ’’شوریا دِوس‘‘ یعنی بہادری کے دن کے طور پر فخریہ انداز میں مناتی رہی۔

اس جھگڑے کو حل کرنے کے لئے مصالحت اور قانونی کارروائی سمیت تمام ممکنہ آپشنز پر غور ہوا۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے طویل سماعت کے بعد 30ستمبر 2010 کو فیصلہ سنایا کہ متنازع زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرکے تینوں فریقین کو دیدیا جائے۔ 

ایک حصہ لیلا مندر کی تعمیر کیلئے ہندو مہاسبھا کو دیدیا جائے، دوسرا حصہ مسجد کی غرض سے مسلم سنی وقف بورڈ کے حوالے کردیا جائے جبکہ تیسرا حصہ بابا ابھیرام داس کے نرموہی اکھاڑے کو دیدیا جائے۔ اس فیصلے کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تو چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں بنچ تشکیل دیا گیا۔ 

بھارتی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ 1949میں بابری مسجد میں بھگوان رام کی مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بےحرمتی کے مترادف تھا، یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد سے مسلمانوں کو بیدخل کرنیکا عمل اور پھر 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گرانے کا اقدام غیر قانونی اور غیر منصفانہ تھا، یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر بنائی گئی مگر پھر بھی رام مندر کی تعمیر کو جائز قرار دیدیا گیا ہے اور مسلمانوں کو محض متبادل زمین دینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ 

گاہے خیال آتا ہے کہ مہاتما گاندھی زندہ ہوتے تو بھارتی سپریم کورٹ کی اس ناانصافی کیخلاف احتجاج کرتے، یہ مطالبہ لیکر مرن بھرت رکھتے کہ بابری مسجد کی جگہ مسلمانوں کو دیدی جائے۔ ممکن ہے کوئی ہندو انتہا پسند انہیں قتل کردیتا مگر ثنات عقل کے آثار تو دکھائی دیتے۔