آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا کی کامیاب معیشتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی معیشتوں کی ترقی ایکسپورٹس گروتھ سے حاصل کی جو اس وقت دنیا کا کامیاب ماڈل ہے۔ دنیا میں10سرفہرست ایکسپورٹس ممالک میں پہلے نمبر پر چین ہے جس کی ایکسپورٹس 1.99کھرب ڈالر ہے، دوسرے نمبر پر امریکہ 1.45کھرب ڈالر، تیسرے نمبر پر جرمنی 1.32کھرب ڈالر، چوتھے نمبر پر جاپان 635ارب ڈالر، پانچویں نمبر پر جنوبی کوریا 512ارب ڈالر، چھٹے نمبر پر فرانس 507 ارب ڈالر، ساتویں نمبر پر ہانگ کانگ 502ارب ڈالر، آٹھویں نمبر پر نیدرلینڈ 495ارب ڈالر، نویں نمبر پر اٹلی 454ارب ڈالر اور دسویں نمبر پر برطانیہ 407ارب ڈالر ہے۔ بھارت 268ارب ڈالر ایکسپورٹس کے ساتھ 20ویں نمبر پر آتا ہے جبکہ 2018 میں پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹس صرف 23.6 ارب ڈالر رہی اور جنوبی ایشیائی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے فی کس 120ڈالر بنتے ہیں جبکہ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 42.2ارب ڈالر ہے جو آبادی کے لحاظ سے 270ڈالر فی کس بنتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹس خطے کے دیگر ممالک کی طرح بڑھنے کے بجائے کم کیوں ہوئیں؟

گزشتہ پانچ چھ برسوں میں پاکستان کی ایکسپورٹس 26ارب ڈالر سے کم ہوکر 21ارب ڈالر تک آچکی ہیں جبکہ رواں مالی سال 2019-20 میں وزیراعظم اور مشیر تجارت نے ایکسپورٹس ہدف 27ارب ڈالر رکھا ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹس کے بارے میں گزشتہ ہفتے فیڈریشن نے ایکسپورٹس سے متعلقہ اعلیٰ حکام، TDAPکے CEOعارف خان، سینئر ڈی جی رافع بشیر، فارن سروس اکیڈمی کے چین، افغانستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر پروگرام ثمر جاوید کی سربراہی میں 42رکنی سفارتی وفد اور ڈائریکٹر TDAPبختیار احمد کی سربراہی میں 28بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات کئے جانے والے ٹریڈ اور انویسٹمنٹ کمرشل قونصلرز سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں جو اُن کے کورس کا حصہ تھیں۔ میں نے فیڈریشن کی جانب سے ملکی ایکسپورٹس سمیت ایک معاشی جائزہ پیش کیا۔میں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کی معیشت 61فیصد سروس سیکٹر، 19فیصد مینوفیکچرنگ اور 20فیصد ایگری کلچر سیکٹر پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹس 23 ارب ڈالر ہے جس میں 12سے 13ارب ڈالر ٹیکسٹائل ایکسپورٹس شامل ہیں جبکہ گزشتہ سال پاکستان کی امپورٹس 60ارب ڈالر تھیں جس کے نتیجے میں ہمیں ناقابل برداشت تجارتی خسارہ ملا۔ پاکستان کی ایکسپورٹس میں ٹیکسائل، کلاتھنگ، لیدر، رائس، سیریل، کنفکشنری، کیمیکلز، سیمنٹ، فشری، نمک، منرلز، اسپورٹس اور سرجیکل گڈز، کارپٹ اور فارما شامل ہیں جبکہ امپورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات، پلاسٹک خام مال، مشینری، آئرن اینڈ اسٹیل، ڈائز اور کیمیکلز، بلڈنگ میٹریل، خوردنی تیل اور بیج، فرٹیلائزر، چائے اور پیپرشامل ہیں ۔

TDAPکے موجودہ CEOعارف خان ملکی ایکسپورٹس بڑھانے میں بڑے پرعزم نظر آتے ہیں۔ ایکسپورٹرز نے ان سے اپنے دیرینہ سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈ کی عدم ادائیگیوں کے ایکسپورٹ پر منفی اثرات کے بارے میں بتایا ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر مہینے ایکسپورٹرز سے ملاقاتیں کریں گے۔ گزشتہ دنوں TDAPکے سابق چیئرمین اور میرے دوست طارق اکرام جنہیں وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے ملکی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے ایک اسٹڈی تیار کرنے کی ذمہ داری دی ہے، نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے مجھ سے تفصیلی ملاقات کی۔ طارق اکرام کا کہنا تھا کہ ان کی اسٹڈی کا فوکس وہ ممالک تھے جہاں دیگر ممالک سے وہ مصنوعات امپورٹ کی جارہی ہیں جو پاکستان انہیں سپلائی کرسکتا ہے۔ مثلاً مراکش 20ملین ڈالر چاول امپورٹ کرتا ہے جس میں بھارت سے 18ملین ڈالر بھارت اور پاکستان سے صرف 2ملین ڈالر چاول امپورٹ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں،میں نے فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے مراکش میں تعینات پاکستان کے نئے سفیر حامد اصغر خان سے بات کی ہے اور ان شاء اللہ ہم دسمبر کے پہلے ہفتے میں فیڈریشن کا اعلیٰ سطح وفد مراکش لے کر جارہے ہیں جس میں پاکستانی چاول کے فروغ کیلئے سفیر پاکستان کی رہائش گاہ پر ’’بریانی فیسٹیول‘‘ بھی منعقد کیا جائے گا۔ فیسٹیول میں مراکش کے تمام بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے پرچیز ڈائریکٹرز کو مدعو کیا جائے گا۔

چاول کے علاوہ ہم ٹیکسٹائل، سرجیکل اور اسپورٹس گڈز، فوڈ آئٹمز، فارماسیوٹیکل کے ممتاز ایکسپورٹرز کو بھی اپنے ہمراہ مراکشی وفد میں لے کر جارہے ہیں جو وزارت تجارت کی افریقی ممالک سے تجارت بڑھانے کی Look Africaپالیسی کے تناظر میں ہے۔ اِسی طرح اگر ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چند سال پہلے پاکستان کی افغانستان سے تجارت 2.7ارب ڈالر سالانہ تھی جو اَب کم ہوکر صرف 500ملین ڈالر رہ گئی ہے جس کی وجوہات میں پہلے نمبر پر افغانستان کے راستے نیٹو سپلائی میں کمی اور حکومت پاکستان کی جانب سے امپورٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کا نفاذ ہے جس کی وجہ سے افغانستان کا 80فیصد کارگو اب ایران کی چابہار اور بندرعباس پورٹس کو منتقل ہو گیا ہے اور افغانستان کی ایران سے تجارت بڑھ کر 2.8ارب ڈالر سالانہ پہنچ گئی ہے جو 5ارب ڈالر تک متوقع ہے جو پہلے پاکستان کی تجارت تھی۔ ہمیں ہر ملک کی امپورٹس کا تجزیہ کرنا ہوگا کہ وہ کون سی مصنوعات ہیں جو دوسرے ممالک سے امپورٹ کی جارہی ہیں اور جنہیں ہم پاکستان سے بھی ایکسپورٹس کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور روپے کی قدر مستحکم رکھنے کیلئے ملکی ایکسپورٹ میں اضافے کی اشد ضرورت ہے جو دیگر ترقی یافتہ ممالک کا کامیاب ماڈل بھی ہے۔