آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میرا دوسرا گھر ’کراچی پریس کلب کی کچھ خوشگوار یادیں‘

سلمان نسیم

کراچی کے مصروف ترین علاقے، صدر کے سرور شہید روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب پاکستان کا پہلا پریس کلب ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔ اور پاکستان کا سب سے بڑا پریس کلب ہونے کا ریکارڈ بھی اس کے پاس ہے، اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے بھی خوش قسمت واقع ہوا ہے، کیوں کہ سندھ اسمبلی، سندھ سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ، آرٹس کونسل یہاں سے پیدل مسافت پر ہیں، تو اخباری دفاتر بھی قریب ہیں، جس کی وجہ سے صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی میں بھی سہولت رہتی ہے۔

کراچی پریس کلب 1955 ءمیں قائم ہوا۔ ایوب خان، بھٹو، جنرل ضیاءالحق، پرویز مشرف کے دور حکومت میں صحافت پر پابندیوں کے خلاف ہر اول دستے کا کام سر انجام دیتا رہا ہے۔ ہر طرح کی تحریک یہیں سے اٹھتیں تھیں۔ آزادی اظہار رائے کی ہر تحریک پریس کلب سے ہی چلی، اس پر اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔

جہاں پریس کلب نے ہر سیاسی و سماجی تحریکوں کو ہمیشہ اپنا پلیٹ فارم مہیا کیا ،وہیں پریس کلب نے ہمیشہ اپنے ممبران اور ان کے اہل خانہ کو بھی ہمیشہ جوڑے رکھا۔ بچپن سے ہی جب سے ہوش سنبھالا تو ہمارے والد محترم کی طرف سے ہم بہن بھائیوں کو ایک بات سیکھا دی گئی تھی کہ کراچی پریس کلب تمھارا دوسرا گھر ہے۔ اور تب سے آج تک پریس کلب کو ہم نے اپنا دوسرا گھر ہی تصور کیا۔ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ پریس کلب میں گزرا ہے اور یہاں سے جڑی بہت سی حسین یادیں اس دل میں محفوظ ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے بچپن سے ہی ہم جشن آزادی والا دن پریس کلب میں گزارا کرتے تھے، جہاں بچوں کے لئے رنگارنگ پروگرام کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ بچوں کی لیمن ریس، پتلی تماشا، خواتین کے لئے میوزیکل چیئرز ہوتے تھے۔ اور رات کو میوزیکل شوز کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ تو کبھی پردہ اسکرین پر اردو فلم لگائی جاتی تھیں،جن کو کلب ممبرز اور ان کی فیملیز بہت ذوق و شوق سے دیکھا کرتے تھے۔

پروگرام کے دوران کھانے پینے کے بھی بہترین انتظامات ہوا کرتے تھے۔ حلوہ پوری، بریانی بہاری کباب اور گرما گرم چائے کے اسٹال لگا کرتے تھے۔ فیملیز فنکشنز میں کراچی پریس کلب کے ممبران اور ان کی فیملیز ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے تو پریس کلب میں سب سے زیادہ پروگرامز جناب محمود علی اسد مرحوم اور طاہر نجمی صاحب کے ادوار میں منعقد ہوئے،جس میں 14 اگست 23 مارچ اور 25 دسمبر کو رنگا رنگ پروگرامز شامل تھے، جہاں بچوں کے کھیل تماشوں کے بعد کلب ممبران کے لئے لکی ڈرا رکھا جاتا ،جس میں سب سے بڑا انعام عمرہ کا ٹکٹ ہوتا تھا۔ 

اس کے علاوہ کلر ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈر، واشنگ مشین وغیرہ جیسے کئی انعامات رکھے جاتے تھے۔فنکشن کے اختتام پر کلب ممبران اور ان کے اہل خانہ کو گھروں پر چھوڑنے کے لئے بسوں کی بکنگ کرائی جاتی تھیں۔ جن کے مختلف روٹس بنا دیے جاتے تھے۔ جو رات گئے ان کو گھروں تک چھوڑا کرتی تھیں۔

اسد صاحب کے دور صدارت میں پریس کلب نے ممبران اور اہل خانہ کے لئے پکنک کے کئی پروگرامز بھی رکھے،جس میں سب سے کامیاب پکنک کلری جھیل کی تھی۔ وہ پکنک واقعی بہت یادگار تھی۔ تمام فیملیز پریس کلب میں جمع ہوئی تھیں اور ایک ساتھ پریس کلب سے اسٹیل مل کی بسوں میں سوار ہوکر یہ قافلہ کلری جھیل پہنچا تھا۔ جہاں ممبران و اہل خانہ کے لئے بہترین ہٹ بھی بک کرائے گئے تھے کھانے پینے کا بھی بہترین انتظام تھا۔ بہاری کباب پراٹھے و حلوہ وغیرہ وہاں ہی ستار بھائی وغیرہ نے تیار کیا۔بلاشبہ وہ پریس کلب کا تاریخی دور تھا، جہاں ہر موقع پر تفریحی اور اصلاحی پروگرامز کا انعقاد ہوتا رہا۔ 

مشاعرہ ہو یا محفل غزل، یا فن ڈے کے نام سے میوزیکل فنکشن۔ کتب میلے ہوں یا سالانہ ڈنر و محفل سماع جیسے پروگرامز کے ذریعے ممبران کی فیملیز ایک دوسرے سے قربت حاصل کرتی تھیں،مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پریس کلب کی وہ سرگرمیاں ماند سی پڑ گئیں جو سب کو جوڑے رکھتی تھیں اور جن کی بدولت ایک دوسرے سے شناسائی حاصل ہوتی تھی۔ 

وہ وقت ایسا تھا جب جونیئرز نہ صرف اپنے سینئرز ممبران کی عزت کرتے تھے بلکہ ان رہنمائی بھی لیا کرتے تھے۔ اس دور میں ممبران یا ان کے اہل خانہ نے کبھی پریس کلب میں ملازمت کرنے والے کسی فرد کو ملازم نہیں سمجھا بلکہ اس کو بھائی سمجھا۔ ان کی ہمیشہ عزت و تکریم کی۔

آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایسے سینکڑوں نامور صحافیوں اور کلب ممبران کی یاد آتی ہے۔ جو کسی وقت میں پریس کلب کی لابی یا اوپر کارڈز روم میں روزانہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف رہا کرتے تھے، مگر وہ آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔

آخر میں میری کلب کے ارباب و اختیار کے لئے ایک تجویز ہے کہ وہ پریس کلب کے ایسے سینئرز ممبران کی لسٹ مرتب کرے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اور ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی پریس کلب سے دور ہوگئے جو پریس کلب کو اپنا گھر تصور کیا کرتے تھے۔ ان کی فیملیز کو پریس کلب میں ہونے والی تقریبات میں خاص طور پر مدعو کیا جائے اور ان کو دوبارہ اس فیملی کا حصہ بنائے۔