آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسماء خان

پیارے بچو ! آج ہم آپ کو فیثا غورث کے بارے میں بتائیں گے کہ وہ کون تھے وہ حکمت و دانائی کے آسمان پہ مثلِ ماہتاب دمکنے والا ستارہ تھے ،جس کی کرنیں رہتی دنیا تک اہلِ علم کو راستا دکھاتی رہیں گی ۔ علم و حکمت کا یہ بادشاہ، جس کو تاریخ فیثا غورث (Pythagoras) کے نام سے یاد کرتی ہے یونان (GREECE) کے جزیرے سیموس SAMOS میں قریباً 570 قبلِ مسیح میں پیدا ہوا ۔ان کا تعلق امیر گھیرانے سے تھا ۔ علم و حکمت کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ لڑکپن میں دانائی کا یہ عالم تھا کے اپنے اساتذہ کو ہمیشہ سوالوں میں الجھا کے رکھتے ۔

حصولِ علم کی اس لذت نے فیثا غؤرث کو سفر میں رکھا ۔انہوں نے تاریخ میں پہلی دفعہ اپنے لیے فلاسفر کا لفظ استعمال کیا ،جس کے معنی علم سے محبت کرنے والےکے ہیں ۔ سیموس SAMOS میں فیثاغورث نے ایک ا سکول کا آغاز کیا، جہاں پورے یونان سے لوگ حصولِ علم کےلئے آیا کرتے تھے۔ سیاسی چپقلش اور سیاسی مخالفت کی وجہ سے فیثا غورث کو اس شہر کو خیر آباد کہنا پڑا اور اٹلی کے شہر CROTON میں رہنے لگے ۔ یہاں جلد ہی ان کی شخصیت فلسفے اور ریاضی میں مہارت کی وجہ سے معروف ہوگئی ،وہاں انہوں نے ایک علم گاہ کی بنیاد رکھی ،جہاں لوگ خاص طور پر اشرفیہ اور اہلِ علم لوگ حصولِ علم کےلئے آیا کرتے تھے۔

فیثا غورث پہلا یونانی سائنس دان تھا، جس نے زمین کے گول ہونے کا نظریہ پیش کیا اور بتایا کہ چاند گرہن کے دوران جب زمین کا سایہ چاند کے اوپر پڑتا ہے تو اس کا عکس ہمیشہ گول دکھائی دیتا تھا اور بتایا کہ چاند از خود روشن نہیں ہوتا بلکہ چاند سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے اس نے سروں کے اتار چڑھاؤ حسابی تعلق اور تناسب کو فلکیات میں شامل کیا ویسے تو فیثا غورث کئی حوالوں سے مشہور ہے لیکن اس کی اہم وجہ شہرت مسئلہ فیثا غورث ہے اس مسئلے کے مطابق مستطیل میں موجود دو مخالف کونوں کا مجموعہ اس کے وتر کے برابر ہوتا ہے۔

وہ اعداد کو اس عالم کی اساس تصور کرتے تھے یعنی یہ ساری دنیا ایک خاص تناسب سے بنائی گئی ہے اور اس کو مکمل اعداد کی آپس میں نسبت سے ظاہر کیا جاسکتا ہے ۔ان کے مطابق کائنات کی ہر شئے میں ریاضی مضمر ہے ۔جیومیٹری کا ایک مشہور مسئلہ ہے کہ ایک قائم الزاویہ مثلث میں وتر کا مربع دونوں ضلعوں کے مربعوں کے مجموعے کے برابر ہوتا ہے۔ یہ ’’مسئلہ فیثا غورث‘‘ کہلاتا ہے، کیوں کہ یہ انہوں نے ہی دریافت کیا تھا۔ 

اس مسئلے کے باعث ریاضی میں فیثا غورث کو شہرت دوام حاصل ہے اور اس کا نام جیومیٹری کے ہر طالب علم کی زبان پر ہے۔فیثا غورث پہلا شخص تھا جس نے ریاضی کو تجارت کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا اور اسے ایک قابل تحقیق علم کی صورت دی۔ اس نے اطاعت اور مراقبہ، کھانے میں پرہیز، سادہ لباس اور تجزیہ ذات کی عادت پر زور دیا۔

Pythagoras theorem جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ ایک right triangle میں a2 + b2 = c2 یعنی hypotenuse کا مربع ہمیشہ base کے مربع اور prependicular کے مربعے کے برابر ہوتا ہے ۔ یہ تھیورم تعمیراتی تکنیکوں میں خاصیاہمیت کا حامل ہے۔ پلاٹو اور کئی عظیم مغربی فلاسفر Pythagoras کے فلسفے کے حامل تھے اور پلاٹو نے فیثا غورث کے علمِ جیومیٹری سے متاثر تھے، انہوں نے اپنی علم گاہ پہ یہ کنندہ کروایا تھا وہ اس تدریس گاہ میں داخل ہونے کا اہل نہیں جو جیومیٹری کے علم سے نا واقف ہے۔ فیثاغورث نے 75 سال کی عمر میں Croton میں وفات پائی ۔