آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن جہاں دنیا بھر میں اس مہلک مرض سے بچاؤ اوراحتیاطی تدابیر کے حوالے سے شعور و آگاہی دینے کا ذریعہ بنتا ہے، وہیں ہمیں یہ بھی باور کراتا ہے کہ کرّہ ارض سے اب تک ایچ آئی وی کی وبا ختم نہیں کی جاسکی ہے۔

کمیونٹیز کا کردار

اقوام متحدہ کے تحت ایڈزکا عالمی دن پہلی مرتبہ 1987ء میں منایا گیا، اس وقت سے اب تک دنیا بھر میںیکم دسمبر کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہرسال اقوام متحدہ کی جانب سے اس دن کو ایک عنوان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ رواں برس کا عنوان ہے ’’کمیونٹیز بہتری میں کردار ادا کرسکتی ہیں‘‘ (Communities make the diffrence)۔ یہ عنوان اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی معاشرے کا فرد ہے، چنانچہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے طور پر اس مرض کی بڑھتی شرح کو کم کرنے کے لیے کمیونٹیز کی سطح پر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

ایڈز کیا ہے؟

ایڈز (AIDS) یعنی Acquired immunodeficiency syndromeممکنہ طور پر ایک جان لیوا دائمی بیماری ہے،جو ایک وائرس ایچ ائی وی کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اسے جسمانی مدافعتی نظام ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت ایچ آئی وی کا کوئی علاج نہیں لیکن دواؤں کے ذریعے اس مرض کے پھیلنے کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں ادویات کے ذریعے ہی ایچ آئی وی سے ہونے والی شرح کو کم کیا گیا ہے۔

پھیلاؤ کی وجہ

ایچ آئی وی جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن ہے۔ کسی بھی انسان میں ایچ آئی وی وائرس کے منتقل ہونے کی وجہ صرف جنسی بے راہ روی نہیں ہے بلکہ یہ ایڈز میں مبتلا مریضوں کی سرنج اور سوئیاں دوبارہ استعمال کرنے، وائرس سے متاثرہ اوزار جِلد میں چبھنے جیسے ناک اور کان چھیدنے والے اوزار، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے آلات، حجام کے آلات اور سرجری کے دوران استعمال ہونے والے آلات کے ذریعے یہ کسی بھی عام انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ حمل، بچے کی پیدائش یا پھر دودھ پلانے کے عمل کے دوران، خون کے ذریعے ایڈز سے متاثرہ ماں سے بچے میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

ایڈز کی صورتحال

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں، صرف مغربی بحرالکاہل جیسے خطے میں ہی ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد19لاکھ ہے۔ اس خطے میں2020ء تک 24ہزارسے بھی کم ایچ آئی وی انفیکشن،15ہزار سے بھی کم ایڈز سے ہونے والی اموات اور بچوں میں ایچ آئی وی انفیکشن نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا لیکن یہ اہداف حاصل کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

پاکستان کی بات کی جائے تو2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 1لاکھ 60ہزار تھی۔ دوسری جانب ایک سروے میں پاکستان کو جنوبی ایشیائی ممالک میں ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد رکھنے والا دوسرا ملک قرار دیا گیا ہے۔ اگر چہ ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی علاج نہیں لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچا جاسکتا ہے۔ 

تاہم، پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو اپنی بیماری سے متعلق ہی آگاہی نہیں رکھتے، چنانچہ یہ ناواقفیت اور کم علمی انھیں اپنی حفاظت، ایچ آئی وی اور جنسی طور پر منتقل ہونے والےدیگر انفیکشن کی بروقت جانچ اور علاج سے کوسوں دور لے جاتی ہے۔ دوسری جانب ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہونے کے بعد کسی بھی معاشرے میں مریض کے ساتھ برتے جانے والے نامناسب سلوک کے باعث یہ افراد خصوصی توجہ حاصل نہیں کرپاتے جو کہ ان کی صحت کے لیےضروری ہے۔

کمیونٹیز کی سطح پر اصلاح کی ضرورت

موجودہ دور میں ایچ آئی وی جیسی مہلک وبا سے نمٹنے کے حوالے سے اب تک جو بھی پیشرفت ہوئی ہے وہ کمیونٹیز کی انتھک محنت اور جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے۔ ایڈز کی روک تھام کے لیے معاشرے کا کردار خاص اہمیت کا حامل ہے، جس کے تعاون سے ہی اس مرض کے صحیح اعداد وشمار سے لے کر تشخیص وعلاج کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

آئیے رواں برس ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر ہم بھی ایچ آئی وی کی تشخیص اور اس سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر اپنا کلیدی کردار نبھانے کا عہد کریں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کمیونٹی میں شامل ہر فرد ایچ آئی وی اور ایس ٹی آئی (sexually transmitted infection) کے خطرات سے آگاہ ہے اور وہ اس بات سے بھی واقفیت رکھتا ہے کہ کس طرح اپنوں کو ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس حوالے سے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کمیونٹی کی سطح پر ہم سب کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ بیماری صرف جنسی روابط سے ہی نہیں پھیلتی۔ چنانچہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں سے بدظن نہ ہوا جائے، کیوں کہ اس مشکل وقت میں انھیں سب سے زیادہ اپنوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ اس بیماری کی جلد ازجلد تشخیص ضروری ہے کیونکہ جتنی دیر سے اس بارے میں پتا چلے گا، انسان کی زندگی کے دن کم ہوتے جائیں گے۔ لہٰذا اس بیماری کا کم از کم سال میں ایک بار ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے۔ ٹیسٹ پازیٹیو آنے پر فوراً علاج شروع کروایا جائے تاکہ آپ ہی نہیں دوسرے بھی اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکیں۔

تعلیم سے مزید