آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سنیے سہیل وڑائچ کا کالم انہی کی زبانی



کھلا چیلنج ہے، پورے پاکستان میں اگر کسی کو خان سے زیادہ کرکٹ کا علم ہے تو سامنے آئے۔ احسان نانی خان کے کہنے پر چل رہا ہے، کرکٹ بہتر نہیں ہو رہی تو اس میں خان یا نانی کا کیا قصور؟ 

آپ ہی بتائیں خان سے زیادہ کس کو کرکٹ کا علم ہے؟ بابر اعظم کو خان ہی کے کہنے پر کیپٹن بنایا گیا۔ خان ہی نے کہا کہ اسے تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنا چاہئے، اسد عمر نے مشورہ دیا بہتر ہے اسے بیٹنگ آرڈر میں چوتھے نمبر پر لے جائیں۔ 

پورے ملک کے محبوب مولانا طارق جمیل جو بھی کہیں وہ حق اور سچ ہوتا ہے ان کی بات پر عمل نہ کرنا گناہ کے مترادف ہے۔ مولانا بھی کرکٹرز کو دین سکھا سکھا کر خود بھی کرکٹ کے ایکسپرٹ بن چکے ہیں۔ مصباح الحق میانوالیہ نیا نیا باریش ہوا ہے اسلئے مولانا طارق جمیل اُس پر صدقے واری جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مصباح الحق پر ذمہ داریوں کا بوجھ اُنہی کے مشورے سے ڈالا گیا ہے۔ 

انجینئر نعیم الحق کی طبیعت آج کل ناساز ہے وگرنہ وہ بھی کرکٹ کے حوالے سے قومی ٹیم کیلئے مفید ہدایت نامہ جاری کرتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم سو فیصد خان کے حکم اور مرضی کے مطابق ہے۔ 

آپ ہی فیصلہ کر لیں خان سے زیادہ کسی کو کرکٹ کا علم ہے؟ اگر نہیں تو پھر کرکٹ میں شکست کو خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیں۔

کسی کو کوئی شک؟ خان سے زیادہ کیا کسی کو کرکٹ کا علم ہے؟ کرکٹ کی منصوبہ بندی ہو یا کارکردگی، کرکٹ میں خان سے بڑا پاکستان میں کوئی نہیں۔ خان نے مصباح الحق کی اچھی نیت، مذہبی جذبہ اور مولانا طارق جمیل کی محبت میں عہدہ دیا ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ خان اس کی خراب کارکردگی کا بھی ذمہ دار ہے۔ 

بابر اعظم اچھا لڑکا ہے، محنتی ہے اس لئے خان نے اُس کو ٹیم لیڈ کرنے کا موقع دیا اب وہ کارکردگی نہ دکھا سکے تو اس میں خان کا کیا قصور؟ پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا میں بدترین کارکردگی کا ذمہ دار خان تو نہیں ہو سکتا۔ یہ تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ خان سے زیادہ کس کو کرکٹ کا علم ہے؟

احسان نانی پنڈی وال ہے، کیا ہی بہتر ہو وہ کرکٹ کے حوالے سے صرف خان سے نہیں کبھی کبھی شیخو پنڈی وال سے بھی مشورہ کر لیا کریں۔ شیخو پنڈی وال کو سیاست سے کرکٹ تک ہر ایک معاملے کی اندرونی خبر ہے البتہ اُن کے اپنے محکمہ ریلوے اور ٹرینوں کے حادثات پر ان کی تحقیق و تفتیش مکمل نہیں ہو سکی وگرنہ دنیا کے ہر مسئلے کا حل وہ چٹکی بجاتے ہی بتا سکتے ہیں۔ 

اُن میں اِس قدر صلاحیت ہے کہ ٹرینوں کے حادثے روکنا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر ملکی حالات کی خرابی اور کرپٹ سیاستدانوں کی سرکوبی کی وجہ سے وہ ادھر مصروف رہتے ہیں انہیں اگر ذرا سی بھی فرصت مل گئی تو ریلوے کیا، کرکٹ بھی اُن کی تھوڑی سی توجہ سے بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔ 

نانی صاحب سے ملک و قوم کے مفاد میں التماس ہے کہ وہ کرکٹ ٹیم کی ناگفتہ بہ حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے شیخو پنڈی وال سے خاص طور پر وقت لے کر مشورہ کریں تاکہ جس طرح کپتان سیاست میں شیخو پنڈی وال کے مشوروں سے بیڑا پار لگا رہے ہیں اسی طرح کرکٹ کا بھی بیڑا پار ہو جائے۔

خان سے زیادہ کس کو کرکٹ کا علم ہے؟ اُسے ہی علم ہے کہ منصور اختر کا ٹیلنٹ کیا تھا اور وہ کیوں نہیں چل سکا۔ صرف خان ہی کو علم ہے کہ اُس نے لاہور کے ایک نو آموز لڑکے وسیم اکرم کو عظیم گیند باز کیسے بنا دیا۔ 

صرف اور صرف خان ہی جانتا ہے کہ اُس نے ڈیرہ غازی خان کے دور افتادہ ضلع سے وسیم اکرم پلس کو کیسے دریافت کیا اور کس طرح کامیابی سے وہ آگے سے آگے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ خان ہی وہ واحد شخص ہے جسے وسیم اکرم پلس کی پوشیدہ خوبیوں کا علم ہے۔ 

اب خان چاہتا ہے کہ بزکش کی یہ خوبیاں لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائیں۔ خان کا حالیہ دورئہ لاہور بھی اسی حوالے سے تھا کہ کس طرح سے ٹیلنٹڈ اور باکمال بزکش کو شہباز شریف پلس بنا کر پیش کیا جائے۔ خان نے اس معاملے کا بالکل صحیح حل نکالا ہے کہ بزکش کے کاموں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ امید ہے کہ بہت جلد ہی سڑکوں، چوکوں اور چھتوں پر وسیم اکرم پلس کی قد آدم تصاویر آویزاں ہو جائیں گی۔ 

یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ پوری قوم کی بند آنکھوں کو کھول کر بزکش کے کارناموں سے آگاہ کیا جائے گا۔ خان چونکہ سب کچھ جانتا ہے اس لئے اس نے بالکل صحیح تشخیص کر لی ہے کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ عوام بزکش کے کارناموں کو جان ہی نہیں سکے۔ غلطی عوام کی ہے، بزکش تو بیچارا بہت اچھا ہے بس تھوڑا سا شرمیلا ہے۔

شرمیلا بھی اسلئے ہے کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے، روایتی دولہا اگر شرمائے نہ تو دیہات کے لوگ اس پر تھو تھو کرتے ہیں۔

خان صرف کرکٹ نہیں جانتا خان سب کچھ جانتا ہے وہ اسی لئے تو عظیم لیڈر ہے کہ اسے دنیا کی ہر چیز کا علم ہے۔ کرکٹ کا تو وہ ماہر تھا ہی اب معیشت کے اعدادوشمار بھی اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ 

22سالہ جدوجہد کی وجہ سے سیاست تو باقاعدہ خان کی باندی بن چکی ہے جس طرح خان چاہتا ہے سیاست ویسے ہی چلتی ہے اور تو اور معاشرتی اخلاقیات بھی خان ہی کی مرہونِ منت ہے۔ خان جارحانہ لہجہ اپنائے تو سارا معاشرہ جارحیت پر اُتر آتا ہے۔ 

خان کسی کو معافی دیدے تو سارا معاشرہ ہی اسے معافی دے دیتا ہے۔ خان کسی کو بیمار کہے تو سب اسے بیمار کہتے ہیں اور اگر وہ کسی کو صحت مند قرار دیدے تو سب اس کو ہٹا کٹا قرار دے دیتے ہیں۔

دنیا کا کوئی بھی معاملہ ہو، خان کی رائے حتمی ہوتی ہے وہ یوٹرن لے یا ابائوٹ ٹرن، وہ اچھا کرے یا بُرا کرے۔ وہ توسیع کے حق میں ہو تو سب اس کے حق میں ہیں وہ پہلے توسیع کے خلاف تھا تو سب توسیع کے خلاف تھے غرضیکہ کہ آ ج کا پاکستان، خان کا ہے وہی اسے چلا رہا ہے باقی تو صرف اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ 

خان ایک اصول پسند شخص ہے اُسکے اصول بڑے واضح ہیں سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ فیصلے خان کرے گا لیکن نتائج غلط نکلے تو ذمہ داری نیچے والوں کی ہو گی۔ اختیار خان کے پاس رہے گا مگر غلطیوں کے ذمہ دار دوسرے ہوں گے۔ کابینہ ہو یا نوکر شاہی، یہ خان کی مرضی کی ہوگی مگر غلطیوں کی ذمہ دار ٹیم ہو گی۔ 

کرکٹ ٹیم کا انتخاب خان کرے گا مگر شکست کی ذمہ دار ٹیم خود ہو گی، کابینہ خان چنے گا مگر وہ نا اہل نکلے تو اس کی وجہ کابینہ ہو گی خان نہیں۔ نوکر شاہی کی تقرریاں خان کرے گا لیکن اگر وہ ناکام ہوئے تو ذمہ داری خان کی نہیں نوکر شاہی کی ہو گی یہ کرکٹ ہے یا نہیں خان کی اصول پسندی کے عین مطابق ہے۔