نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ 34 سالہ ممدانی نیویارک کے پہلے جنوبی ایشیائی اور مسلمان میئر بن گئے ہیں۔
ظہران ممدانی نے اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں اتحاد اور شہریوں کے لیے زندگی آسان اور آسائشوں کو سستا بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ تمام نیویارک کے شہریوں کی خدمت کریں گے، چاہے اُنہوں نے اِن کی حمایت کی ہو یا نہیں۔
انہوں مزید نے کہا کہ ’اگر آپ نیویارک کے رہائشی ہیں تو میں آپ کا میئر ہوں۔‘
اپنی جنوبی ایشیائی شناخت کو اُجاگر کرتے ہوئے ممدانی نے ایک پاکستانی حامی خاتون کے الفاظ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اِن کی تحریک نے ’لوگوں کے دل بدل دیے ہیں۔‘
ظہران ممدانی کے پہلے خطاب سے اس جملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
ظہران ممدانی نے اپنی حکومت کا مرکز عام اور محنت کش طبقے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح سستی رہائش، تحفظ اور معاشی مواقع ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیویارک سب کا شہر ہے اور یہاں ہر زبان، ہر مذہب اور ہر ثقافت کے لوگ آباد ہیں۔ نیویارک میں لوگ مساجد، گرجا گھروں، یہودی عبادت گاہوں، گردواروں، مندروں میں عبادت کریں گے یا عبادت نہ کرنے کا انتخاب بھی آزادانہ طور پر کر سکیں گے۔
میئر ممدانی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نیویارک کو ایک ایسا شہر بنائے گی جہاں آزادی اور بہتر زندگی صرف امیروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہر شہری کو اس تک رسائی حاصل ہوگی۔