آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ دنوں کچھ دوستوں کے ساتھ کراچی کے ایک ساحل پر جانا ہوا۔ گھومتے گھامتے ایک ایسے مقام کی طرف جا نکلے، جہاں سمندر کے کنارے بہت سا کاٹھ کباڑ جمع تھا اور اُس میں افسوس ناک طور پر مقدّس اوراق بھی تھے۔ یقیناً ،شہریوں نے ثواب کی نیّت ہی سے اُن مقدّس اوراق کو محفوظ (عرفِ عام میں ٹھنڈا) کرنے کے لیے سمندر میں بہایا ہوگا، مگر اِسے اُن کی ناسمجھی کہیے یا کم علمی کہ وہ یہ بات دھیان میں نہ رکھ سکے کہ سمندر کی لہریں اس طرح بہائی گئی اشیاء ساحل پر واپس لا ڈالتی ہیں۔اور یوں مقدّس اوراق کو محفوظ بنانے کا یہ عمل ،اُن کی مزید بے حرمتی کا سبب بن جاتا ہے۔

بات صرف کراچی کے ساحلِ سمندر تک ہی محدود نہیں، دیگر شہروں کے ندی نالوں، نہروں اور دریاؤں میں بھی کچھ ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، بلکہ بعض اوقات تو عوام کی غفلت اور لاپروائی کے سبب مقدّس اوراق گندے نالوں تک جا پہنچتے ہیں۔ شاید یہ بات تفصیل سے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ کسی بھی مسلمان کے نزدیک مقدّس اوراق کی کیا اہمیت ہے، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہم بطورِ مجموعی مجرمانہ غفلت، لاپروائی اور کوتاہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ 

اخبارات و رسائل، پمفلٹس، پینا فلیکس، بینرز اور اشتہارات میں چَھپنے والا مذہبی مواد ہو یا قرآنِ پاک اور دیگر دینی کُتب ، پُرانے یا ناقابلِ استعمال ہونے پر اُنھیں وہ احترام نہیں دیا جا رہا، جو اُن کا حق اور ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ سڑکوں پر پڑے کاغذات، ہوٹل میں استعمال ہونے والے اخبارات اور پھلوں وغیرہ کی پیکنگ میں لگائی جانے والی ردّی میں بعض اوقات ایسی تحاریر اور تصاویر نظر سے گزرتی ہیں کہ جنھیں دیکھ کر پورا وجود کانپ اُٹھتا ہے۔ اگر ہم اِس صُورتِ حال کا تجزیہ کریں، تو ہمارے سامنے دو بنیادی باتیں آئیں گی۔ پہلی تو یہ کہ مقدّس اوراق گھروں، بازاروں، دفاتر یا دیگر مقامات سے کس طرح اکٹھے کیے جاتے ہیں یا کیے جا سکتے ہیں؟ اور دوسری بات یہ کہ اُنھیں محفوظ کرنے کے لیے کون کون سے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں؟ اور یہ طریقے کس حد تک کارآمد ثابت ہو رہے ہیں؟ 

نیز، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بدلتے زمانے کے ساتھ ایسے کون سے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، جو ایک طرف تو اس مقصد کے حصول کے لیے زیادہ مفید ہوں، دوم شرعی اُصولوں کے بھی منافی نہ ہوں۔ پھر یہ کہ اِس ضمن میں حکومت پرکیا ذمّے داریاں عاید ہوتی ہیں ؟ قانون سازی کے کون سے مراحل طے کیے جانے ضروری ہیں اور یہ بھی کہ اس مذہبی فریضے کی ادائی کے لیے عوام کو کیا کرنا چاہیے؟

مقدس اورق کا  تحفظ
دو طرح کے مناظر آپ کے سامنے ہیں۔ ایک ڈبّے اور ڈرم میں انتہائی سلیقے سے مقدّس اوراق جمع کرنے کا انتظام کیا گیا ہے، اسی طریقے کے فروغ کی ضروت ہے

شمع تو جل رہی ہے…

اگر راہ چلتے، زمین پر پڑے کسی ایسے کاغذ پر نظر پڑ جائے، جس پر کوئی مقدّس نام یا تحریر ہو، تو ہم اُسے اُٹھا کر کسی دیوار کی دراڑ وغیرہ میں ٹھونس دیتے ہیں یا پھر کھمبوں پر لٹکے ڈبّوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اِسی طرح اگر گھر میں رکھے قرآنِ پاک کے نسخے یا مذہبی کُتب بوسیدہ ہوجائیں، تو عموماً اُنھیں کسی مسجد کی الماری میں جاکر رکھ آتے ہیں یا قبرستان جاکر چھوٹا سا گڑھا کھود کر دفن کردیتے ہیں، جب کہ بعض افراد ان نسخوں کو قبرستان کے کسی کونے کھدرے میں رکھ آتے ہیں۔ بہت سے افراد ان مقدّس اوراق اور قرآنِ پاک کے نسخوں کو بہتے پانی کے سپرد کرتے ہیں، جو اُن کے خیال میں ایک بہتر طریقہ ہے، مگر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا اندازہ ندی نالوں کے کناروں پر پڑے اوراق دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم،’’ ظلمتِ شب میں کسی چراغ کی مانند‘‘ بہت سے افراد اور ادارے ایسے بھی ہیں، جو ان مقدّس اوراق کو جمع اور محفوظ کرنے کا فریضہ انتہائی منظّم طور پر پوری تن دہی اور خلوصِ دل سے انجام دے رہے ہیں۔ 

بلاشبہ اِس طرح کے درجنوں ادارے ہیں، جو گلی محلّوں سے لے کر شہروں اور اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں، لیکن کام کی وسعت اور اہمیت کے پیشِ نظر اب بھی اس شعبے میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔’’ انجمن تحفّظ مقدّس اوراق‘‘ کراچی کی سب سے قدیم تنظیم ہے، جو برسوں سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ تنظیم کے سربراہ، حاجی محمّد قاسم نے اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا’’ ہم نے مختلف علاقوں میں ڈبّے لگا رکھے ہیں اور لوگ خود بھی ہمارے مراکز میں قرآنِ کریم کے ضعیف نسخے اور دیگر مقدّس اوراق پہنچاتے ہیں۔ ہم چھانٹی کے بعد قرآنِ کریم کے نسخوں کی جِلد بندی وغیرہ کروا کر عوام اور مساجد وغیرہ کو مفت فراہم کرتے ہیں۔ 

مقدس اورق کا  تحفظ
عالمی تنظیم تحفّظِ مقدّس اوراق، لاہور کا ایک قرآن محل

اس کے علاوہ، ہمارے پاس قرآنِ پاک کے بہت سے نادر و نایاب نسخے بھی ہیں، جن کی نمائش کرواتے رہتے ہیں۔‘‘ سیلانی ٹرسٹ اپنی فلاحی خدمات کے حوالے سے تو معروف ہے ہی، یہ خدمتِ قرآن کا بھی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِس ادارے کے تحت نہ صرف کراچی، بلکہ دیگر شہروں میں بھی مقدّس اوراق محفوظ کرنے کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔ سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ کے ایڈمنسٹریٹر، سہیل باوانی نے بتایا کہ’’ ہم کئی برسوں سے کراچی میں یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارے پاس رضا کاروں کی باقاعدہ ٹیمز ہیں، جو شہر کی مختلف مساجد، مدارس، بازاروں اور قبرستانوں وغیرہ سے مقدّس اوراق جمع کرکے سِوک سینٹر کے قریب واقع مرکز لاتی ہیں۔

نیز، شہر میں کام کرنے والے بہت سے ادارے اور تنظیمیں بھی اپنے ہاں جمع ہونے والے مقدّس اوراق ہمیں بھجواتے ہیں یا ہم اُن کے ہاں سے لے آتے ہیں۔‘‘ادارۂ خدمتِ قرآن، سرگودھا مقدّس اوراق جمع اورمحفوظ کرنے کے حوالے سے مُلک گیر شہرت رکھتا ہے۔ اس ادارے کے چئیرمین، حاجی محمّد نصیر، جب کہ منتظم، مولانا سیف الرحمٰن ہیں۔ مولانا سیف الرحمٰن نے بتایا کہ’’ ہمارا نیٹ ورک فی الحال سرگودھا اور خوشاب اضلاع تک محدود ہے، البتہ باقی مقامات پر بھی رابطے ہیں، وہاں کے عوام کو اس مقدّس کام کے لیے تیار کرتے ہیں اور اُنھیں ہر ممکن معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ اب تک پانچ اضلاع میں ہماری معاونت سے ادارے قائم ہو چُکے ہیں، جس میں ادارہ تحفّظِ قرآن، فیصل آباد سرِ فہرست ہے۔

مقدس اورق کا  تحفظ
تحریک تحفّظ اوراقِ مقدّسہ، لودھراں کا رضاکار مصروفِ خدمت ہے

لوگ گھی کے خالی کنستر یا کوئی اور ڈبّا کسی کھمبے پر لٹکا دیتے ہیں، جو گرد وغبار اور بارش وغیرہ سے محفوظ نہیں ہوتے، بلکہ اُن میں کچرا تک ڈال دیا جاتا ہے۔ہم نے اِس مقصد کے لیے مخصوص باکسز متعارف کروائے اور اب بہت سے ادارے ہماری طرز کے باکسز بنوا رہے ہیں۔ہم ان باکسز کو مساجد کی دیواروں کے ساتھ آویزاں کر دیتے ہیں اور ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق ہمارے رضا کار جا کر ان باکسز میں جمع اوراق مرکز لے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ خود بھی مقدّس اوراق ہمارے پاس جمع کرواتے ہیں۔‘‘شیراز احمد فاروقی، آل پاکستان مقدّس اوراق یونین کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں یہ فریضہ ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ’’ ہم نے شہر کی مختلف مساجد،مارکیٹس اور ہفتہ بازاروں میں خصوصی باکسز لگائے ہیں، جن میں عوام مقدّس اوراق ڈال سکتے ہیں۔ہمارے رضا کار ان باکسز کو خالی کرتے رہتے ہیں، پھر ہم ان اوراق کو بوروں میں بَھر کر گجرات اور فیصل آباد بھجوا دیتے ہیں، جہاں اُنھیں اس مقصد کے لیے بنوائے گئے کنوؤں میں محفوظ کردیا جاتا ہے۔‘‘ لاہور میں’’ عالمی تنظیم تحفّظِ مقدّس اوراق‘‘ کے تحت بھی یہ فریضہ سر انجام دیا جا رہا ہے اور اس کا شہر میں خاصا بڑا نیٹ ورک ہے۔ تنظیم کے سربراہ، مفتی محمّد رضا صدیقی نے بتایا کہ’’ ہماری تنظیم نے شہر کے مختلف علاقوں میں مراکز قائم کیے ہیں، جہاں سے ہماری گاڑیاں مقدّس اوراق مرکزی دفتر منتقل کرتی ہیں۔‘‘ تحریک تحفّظ اوراقِ مقدّسہ ضلع لودھراں کی تینوں تحصیلوں اور گرد ونواح میں سرگرم ہے۔ 

تنظیم کے چئیرمین، رانا ظہور احمد نے بتایا’’ ہم نے مختلف مقامات پر ایک ہزار باکسز اور ڈیڑھ سو سے زاید خصوصی ڈرم رکھے ہیں۔ نیز، ہمارے رضا کار دن بھر رکشے میں جگہ جگہ سے مقدّس اوراق جمع کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں شجاع آباد، جلال پور اور بہاول پور وغیرہ سے بھی مقدّس اوراق بھجوائے جاتے ہیں۔‘‘ تحریک عظمتِ قرآن بھی اس حوالے سے ایک معتبر نام ہے، جو حکیم مشتاق احمد نقش بندی کی قیادت میں 20 شہروں اور ایک سو کے لگ بھگ دیہات میں خدمات انجام دے رہی ہے۔’’خدمت گاہ قادریہ‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے کراچی کے 10مختلف مقامات پر مقدّس اوراق جمع کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں کورنگی، سو کوارٹر، ملیر، شاہ فیصل کالونی، بھٹائی آباد، لیاری، انڈا موڑ، نئی کراچی اور سمن آباد وغیرہ شامل ہیں۔ ادارے کے روحِ رواں، عزیز الرحمان نے بتایا کہ’’ اُن کے رضا کار، اِن تمام مقامات پر جمع کیے گئے مقدّس اوراق کو شہر کے دو بڑے اداروں سیلانی اور مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے محفوظ کرتے ہیں۔‘‘نوجوان عالمِ دین، مولانا حق نواز بھی اس مشن پر مامور ہیں۔کراچی کے علاقے گارڈن میں قائم اُن کے ادارے ’’خدمتِ قرآن فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت انتہائی منظّم طور پر کام ہو رہا ہے۔ 

اُن کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ وہ مُلک بھر میں مقدّس اوراق کے تحفّظ کے حوالے سے کام کرنے والوں کے درمیان ایک رابطہ کار کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔ دفاعِ مقدّس اوراق کمیٹی، سکھر 1992ء سے ضلع بھر میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ کمیٹی کے سربراہ،منیر احمد فیاضی نے بتایا کہ’’ ہم نے باقاعدہ تن خواہ دار ملازم رکھے ہوئے ہیں، جو روز کی بنیاد پر شہر سے مقدّس اوراق جمع کرتے ہیں۔ ان اوراق سے روزانہ تقریباً چھے بورے بَھر جاتے ہیں، جن کا وزن 9 مَن کے قریب ہوتا ہے۔‘‘

حذیفہ بھٹی ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں، وہ’’ انجمن خدّام القرآن‘‘ کے پلیٹ فارم سے ایبٹ آباد اور اُس کے مضافات، جیسے حویلیاں، مانسہرہ، قلندر آباد، نتھیا گلی وغیرہ میں کیمپس لگا کر مقدّس اوراق اکٹھے کرتے ہیں۔ ’’ یلدرم ویلفئیر ٹرسٹ، واہ کینٹ‘‘ بھی گزشتہ 15 برسوں سے خدمتِ قرآنِ پاک میں مصروف ہے۔ اس ادارے کے سربراہ، قاری اشفاق الرحمٰن نے 2005ء کے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں سے اس کام کا آغاز کیا، کیوں کہ وہاں مساجد، مدارس اور گھروں میں قرآنِ پاک بھی شہید ہوئے تھے۔ اُنہوں نے قرآن پاک کے ان نسخوں کو جمع کیا۔بعدازاں، اس کام کو مزید منظّم اور وسیع کیا گیا۔ٹرسٹ کے ترجمان، عبدالرؤف کے مطابق اِس وقت بھی اُن کے پاس ساٹھ سے ستّر ڈمپر کے برابر مقدّس اوراق جمع ہیں۔

مقدّس اوراق محفوظ کرنے کے طریقے

مقدّس اوراق جمع کرنے کے بعد اہم ترین مرحلہ اُنھیں شرعی طریقے سے محفوظ کرنے کا ہے، لیکن اِس حوالے سے بہت بے احتیاطی برتی جاتی ہے، جس کے سبب بعض اوقات ان اوراق کی بے حرمتی تک ہو جاتی ہے۔ جیسے کسی مناسب انتظام کے بغیر ہی اوراق پانی میں بہانے سے بہت سے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ البتہ، منظّم اور شرعی طور پر کام کرنے والے ادارے مقدّس اوراق کے تحفّظ کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بناتے ہیں۔ 

اِس ضمن میں سہیل باوانی نے بتایا کہ’’ سیلانی ٹرسٹ کے ہاں جمع ہونے والے ذخیرے کی پہلے مرحلے میں علمائے کرام کی زیرِ نگرانی چھانٹی کی جاتی ہے۔ قابلِ مطالعہ قرآنِ کریم کے نسخے اور دیگر مذہبی کُتب الگ کرکے اُن کی جِلد بنواتے ہیں اور پھر اُنھیں مختلف مساجد و مدارس کو مفت بھجوا دیتے ہیں۔ جو مواد باقی بچ جاتا ہے، اُسے پورے احترام کے ساتھ بڑے تھیلوں میں بَھر کر گڈاپ کے قدیم کنوؤں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ یہ کنوئیں کئی کئی سو فِٹ گہرے اور پچاس، پچاس فِٹ گول ہیں۔ نیز، ان کنوؤں میں وقتاً فوقتاً پانی بھی ڈالتے رہتے ہیں تاکہ کاغذ نرم ہونے سے مزید گنجائش نکل آئے۔ 

بعدازاں ،کنواں بھر جانے پر اُس میں مٹّی کا تقریباً پورا ڈمپر ڈال کر اُسے بند کردیتے ہیں اور پھر اُس کے گرد چار فِٹ اونچی دیواریں بھی بنا دیتے ہیں تاکہ اُس مقام کی بے حرمتی نہ ہو۔‘‘ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ’’ اب تک اِس طرح کے پچاس سے زاید کنوئیں بَھرے جا چُکے ہیں۔‘‘ادارہ خدمتِ قرآن، سرگودھا نے مقدّس اوراق محفوظ بنانے کے لیے’’ قرآن محل‘‘ تعمیر کیے ہیں۔ اس حوالے سے مولانا سیف الرحمٰن نے بتایا کہ’’ ہم نے ری سائیکلنگ اور پانی میں بہانے جیسے طریقوں پر بھی غور کیا، مگر ہماری سمجھ میں یہی آیا کہ مقدّس اوراق محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ ان کے لیے محّلات بنانا ہے، سو ہم یہی کر رہے ہیں۔ اِس مقصد کے لیے ہم نے بارہ کنال زمین خریدی ہے۔

سب سے پہلے تو جمع ہونے والے مقدّس اوراق ری چیک کرتے ہیں۔ اگر اُن میں کوئی قرآن پاک قابلِ مطالعہ ہو، تو اُسے الگ کر لیتے ہیں اور جِلد وغیرہ بنوا کر مساجد، مدارس یا عام افراد کو مفت فراہم کرتے ہیں، جب کہ بوسیدہ اوراق’’ قرآن محل‘‘ میں محفوظ کر دیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں اِس طرح کے دس محل بنائے تھے ،جو مکمل ہو چُکے ہیں اور اب مزید نئے بنا رہے ہیں۔یہ محلّات، ہال نُما بھی ہیں اور کُھلے بھی۔‘‘اِسی طرح فیصل آباد اور گجرات کے بعض اداروں نے گہرے کنوئیں کھودے ہیں، جن میں مقدّس اوراق محفوظ کیے جاتے ہیں اور بَھر جانے پر اُنھیں بند کر دیا جاتا ہے۔

کوئٹہ کے مشہورِ زمانہ’’ جبلِ نور‘‘ سے تو قارئین واقف ہی ہوں گے۔ایک مقامی تاجر، صمد لہری نے1992 ء میں قرآنِ کریم کے ضعیف نسخے محفوظ کرنے کے لیے’’ جبلِ نور القرآن فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی تھی، جس کے تحت پہاڑ میں سُرنگیں کھود کر قرآنِ کریم کے نسخے رکھے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، وہاں 30 لاکھ کے لگ بھگ قرآنِ کریم کے ضعیف نسخے محفوظ کیے جا چُکے ہیں اور اس مقصد کے لیے کھودی گئی سُرنگوں کی لمبائی چار کلومیٹر تک پہنچ چُکی ہے۔ عالمی تنظیم تحفّظِ مقدّس اوراق، لاہور نے بھی ضعیف قرآنی اوراق کے تحفّظ کے لیے کنوؤں کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ 

مفتی محمّد رضا صدیقی نے بتایا کہ’’ ہم نے قرآنِ پاک محفوظ کرنے کے سلسلے میں تین سو کے لگ بھگ’’ قرآن محلّات‘‘ بنائے ہیں۔یہ محلّات کنوئیں نُما ہیں، جن کی گہرائی اسّی فِٹ اور گولائی اٹھارہ فِٹ تک ہوتی ہے۔ مقدّس اوراق سے بَھر جانے پر اُنھیں بند کرکے اوپر دربار(مزار) کی طرح کی عمارت بنا دیتے ہیں۔‘‘حاجی محمّد قاسم نے بتایا کہ’’ ہم قرآنِ کریم کے شہید نسخے اور دیگر مقدّس اوراق ساحل سے بہت دُور گہرے سمندر میں محفوظ کرتے ہیں، اس مقصد کے لیے ہمیں پاک بحریہ اور کے پی ٹی کا تعاون حاصل ہے۔‘‘اگر حکومتی سطح پر دیکھا جائے، تو پنجاب میں’’ پنجاب قرآن بورڈ‘‘نے بھی کنوؤں کی طرز پر’’ قرآن محل‘‘ بنائے ہیں۔ ’’ قرآن محلّات‘‘ کے انچارج، ناظم الدّین نے بتایا کہ اِس وقت اُن کے پاس مقدّس اوراق سے بَھرے پچاس ہزار سے زاید بورے موجود ہیں، جب کہ ڈیڑھ لاکھ بورے کراچی اور دیگر شہروں کو بھجوا چُکے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا نیٹ ورک فی الحال لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، ساہی وال، اُوکاڑہ اور دیگر قریبی شہروں ہی تک محدود ہے، کیوں کہ دُور دراز علاقوں تک پھیلاؤ کے لیے وسائل کی کمی آڑے آ رہی ہے۔‘‘سکھر کے مینر احمد فیاضی خود محکمہ آب پاشی میں ملازم ہیں، اس لیے اُن کی پانی کی صُورتِ حال پر گہری نظر رہتی ہے، جن دنوں پانی کی سطح بلند ہو تو وہ جمع ہونے والے بورے کشتی میں لاد کر سکھر بیراج کے گہرے مقام تک لے جاتے ہیں اور اُنھیں پانی میں بہا دیتے ہیں۔ 

ایبٹ آباد کے حذیفہ بھٹی کی تنظیم مقدّس اوراق خیبر ایجنسی کے ملا گوری قبرستان میں گہرے گڑھے کھود کر دفن کرتی ہے اور پھر اُن مقامات کو بے حرمتی سے محفوظ رکھنے کے لیے وہاں خار دار تار لگا دئیے جاتے ہیں۔ رانا ظہور احمد نے لودھراں شہر اور مضافات میں 9 کنوئیں نُما قرآن محل بنائے ہیں، جن میں قرآنِ پاک اور دیگر مقدّس اوراق الگ الگ محفوظ کیے جاتے ہیں۔

بنیادی کوتاہیاں

اس پورے معاملے کے تفصیلی تجزیے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ: (1)عوام میں اخبارات اور رسائل وغیرہ کو ردّی کے طور پر استعمال کرنے کا عام رواج ہے، جن میں مذہبی مواد بھی شامل ہوتا ہے۔(2) عام طور پر عوام شہید قرآنِ پاک اور دیگر مذہبی مواد محفوظ کرنے کے شرعی طریقوں سے آگاہ نہیں، جس کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔(3)ایک اسلامی مُلک میں حکومت سے یہ توقّع کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی شعائر کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی، مگر بدقسمتی سے پاکستان کی ہر حکومت نے مقدّس اوراق سے متعلقہ معاملات نظرانداز ہی کیے۔(4)قرآنِ پاک کی غیر معیاری طباعت روکنے کے لیے وضع کیے گئے قوانین پر عمل درآمد میں سخت کوتاہی ہو رہی ہے۔(5)مقدّس اوراق اکٹھے کرنے کا نیٹ ورک بہت محدود ہے، جس کی وجہ سے بھی اس طرح کے مواد کی بے حرمتی کا خدشہ رہتا ہے۔ پورے پورے محّلے اور بہت سے علاقے اس طرح کے منظّم نظام سے اب بھی محروم ہیں۔(6) مقدّس اوراق محفوظ کرنے کے لیے سرگرم اداروں کی ویسی سرپرستی نہیں ہو رہی، جیسا کہ اُن کا حق ہے۔(7) بینرز اور اشتہارات میں مذہبی مواد کا غیر ضروری استعمال بھی ایک اہم ایشو ہے۔ پروگرامز کی تاریخ گزر جانے کے باوجود اس طرح کے بینرز، پینا فلیکسز اور اشتہارات وغیرہ عوامی مقامات پر آویزاں رہتے ہیں۔عموماً ایسے بینرز بُری طرح پھٹ کر پولز پر لٹک رہے ہوتے ہیں۔

کیا ، کیا جائے……

٭ مقدّس اوراق کی حفاظت ایک انتہائی حسّاس اور سنجیدہ معاملہ ہے، اس حوالے سےحکومت کو مختلف اداروں کے ساتھ مل کر عوام کی آگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلانی چاہیے، عوام کو بتایا جائے کہ وہ ان اوراق کو پانی میں بہانے کی بجائے مستند اداروں کے پاس جمع کروادیں۔٭چھوٹی سطح پر قائم سماجی تنظیمیں عموماً گلیوں میں ڈبّے آویزاں کر دیتی ہیں اور پھر اُنھیں خالی کرنا بھول جاتی ہیں۔ 

اُنھیں اپنے شہر کے ایسے بڑے اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے جو یہی کام زیادہ منظّم طور پر کر رہے ہیں۔٭ اوراق کے تحفّظ کے حوالے سے محفوظ باکسز تیار کروائے جائیں اور وہ محفوظ مقام پر لگائے جائیں، پھر باقاعدگی سے اُنھیں خالی بھی کیا جاتا رہے۔٭ علمائے کرام ہر دو، تین ماہ بعد خطباتِ جمعہ میں’’ مقدّس اوراق کے تحفّظ کی اہمیت اور اس ضمن میں عوام کی ذمّے داری‘‘ کو موضوع بنائیں۔٭ قرآنِ پاک کی معیاری طباعت یقینی بنانے کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جانا بے حد ضروری ہے۔٭حکومت قرآنِ پاک اور دیگر مقدّس اوراق محفوظ بنانے کے جدید شرعی طریقے سامنے لانے کے اقدامات کرے۔٭ مساجد میں تلاوت کے لیے کم زور جِلد اور ہلکے کاغذ پر چھاپے گئے سستے قرآنی نسخوں کی بجائے معیاری نسخے رکھے جائیں۔ اِسی طرح، عوام کو بھی سستے نسخوں کی بجائے معیار کو اہمیت دینی چاہیے۔٭مذہبی پروگرامز کے منتظمین، اجتماعات کے بعد اپنے بینرز وغیرہ عوامی مقامات سے اُتار کر مقدّس ناموں کی بے حرمتی سے بچ سکتے ہیں۔

’’ قرآن بورڈ‘‘ ایک اچھا قدم مگر…

یہ 2004ء کی بات ہے۔ وزیرِ اعلیٰ، چوہدری پرویز الہٰی نے علمائے کرام اور مقدّس اوراق کے تحفّظ کے لیے کام کرنے والوں کے مطالبے پر صوبے میں’’پنجاب قرآن بورڈ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کا بنیادی مقصد قرآنِ پاک کی غیر معیاری اِشاعت کی روک تھام اور مقدّس اوراق کو شرعی طریقے کے مطابق محفوظ کرنا تھا۔27 ارکان پر مشتمل یہ بورڈ ایک خوش کُن اور اُمید افزا اقدام تھا، مگر حکومتی عدم توجّہی نے اُسے بھی اب ایک رسمی ادارے میں بدل ڈالا ہے۔ 

حکومتی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ قرآنِ پاک کی اِشاعت اور تحفّظ جیسے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے ڈھائی سو کروڑ روپے کی لاگت سے ایک عمارت بنوائی گئی، مگر وہ2004 ء سے بند پڑی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ، شہباز شریف نے اُس پر توجّہ دی اور نہ اب عثمان بزدار دھیان دے رہے ہیں۔ بورڈ کا سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کا بجٹ ہے، جس میں سے ستّر لاکھ تو ملازمین کی تن خواہوں کی مَد میں چلے جاتے ہیں اور پچیس، تیس لاکھ روپے بلز پر خرچ ہوتے ہیں۔ 

بورڈ اجلاس کے شرکاء کو الاونس وغیرہ بھی ملتے ہیں، گویا زیادہ تر رقم تو ان ہی چکروں کی نذر ہو جاتی ہے۔ بورڈ کے پاس مقدّس اوراق اُٹھانے کے لیے صرف ایک گاڑی ہے۔ 2004ء میں پورے پنجاب کے لیے صرف50 گرین باکسز بنے تھے اور پھر اُس کے بعد کوئی نیا باکس نہیں بنا۔ گو کہ یہ معاملات انتہائی مایوس کُن ہیں ،مگر ذرا سی حکومتی توجّہ سے بہت سے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پھر یہ کہ باقی صوبوں کو بھی پنجاب کی طرز پر قرآن بورڈز بنانے چاہئیں تاکہ وہاں بھی قرآنِ کریم کی معیاری اِشاعت اور مقدّس اوراق کے تحفّظ کا کام مزید منظّم ہو سکے۔

نیٹی جیٹی پُل اِس کام کے لیے نہیں…

کراچی کے معروف نیٹی جیٹی پُل سے مقدّس اوراق سمندر کے حوالے کرنا معمول کی بات ہے، یہ جانے بغیر کہ یہ عمل کس قدر بے حرمتی کا سبب بنتا ہے۔ اس مقام پر سمندر میں سیوریج کا پانی آ ملتا ہے، اور یوں عوام کی جانب سے ڈالے گئے مقدّس اوراق اس گندے پانی کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ 

گو کہ وہاں عوام کی آگاہی کے لیے ایسے بینرز آویزاں ہیں، جن پر علمائے کرام کے فتاویٰ جات تحریر ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔ وہاں کوئی ایسا انتظام کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد عوام کوئی چیز سمندر میں نہ پھینک سکیں۔ اِسی طرح لاہور میں کینال نہر کا ماجرا ہے۔ اُس میں بھی عوام ثواب کی نیّت سے قرآنِ پاک کے شہید نسخے اور دیگر مقدّس اوراق ڈال دیتے ہیں، جو بعدازاں اُن کی بے حرمتی ہی کا سبب بنتا ہے۔

بدلتے زمانے کے ساتھ کیا طریقے اختیار کیے جائیں…؟؟

عوام تو عام طور پر مقدّس اوراق پانی میں بہاتے ہیں یا پھر کسی قبرستان میں محفوظ کردیتے ہیں، لیکن اداروں کی بات کی جائے، تو بیش تر نے مختلف صُورتوں میں’’ قرآن محلّات‘‘ قائم کر رکھے ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے بعض ادارے مقدّس اوراق سمندر میں بھی محفوظ کرتے ہیں، مگر اس کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرتے ہیں۔ 

اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص یا ادارے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر چَھپنے والے مواد کو کسی ہال میں رکھنا، کنوؤں میں بند کرنا یا گہرے سمندر تک پہنچانا کوئی آسان کام تو نہیں۔ اخبارات تو ری سائیکل ہو رہے ہیں، مگر خالص قرآنی اوراق کو ری سائیکل کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا کیا جاسکتا ہے، تو کون کون سی احتیاطی تدابیر لازم ہوں گی؟ ان معاملات کا شرعی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے، کیوں کہ محض اٹکل پچو یا اپنی رائے سے اس طرح کے نازک اور حسّاس معاملات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ 

پھر یہ بھی کہ بدلتے زمانے کے ساتھ ایسے کون سے دیگر طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں، جن سے مقدّس اوراق زیادہ آسانی ،مگر شرعی طریقے سے محفوظ کیے جا سکیں؟ اس مقصد کے لیے حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت اسلامی نظریاتی کاؤنسل، مدارس کے بورڈز، ممتاز علمائے کرام اور مقدّس اوراق کے تحفّظ کے لیے سرگرم اداروں کی مشاورت سے کوئی ایسا طریقہ وضع کرسکتی ہے، جو ایک طرف تو شرعی اُصولوں کے عین مطابق ہو، تو دوسری طرف، اس سے بدلتے زمانے کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں۔

غیر معیاری کاغذ، ناقص جِلد بندی

بہت عرصے سے یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ کئی پبلشرز قرآنِ کریم کی اِشاعت کے لیے غیر معیاری کاغذ استعمال کرتے ہیں اور جِلد بندی میں بھی کوتاہی برتی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ نسخے جلد شہید ہوجاتے ہیں یا قابلِ مطالعہ نہیں رہتے۔ 

اِس ضمن میں لاہور کے رہائشی، خدمتِ قرآن کے حوالے سے سرگرم اور پنجاب قرآن بورڈ کے بانی رُکن، ناظم الدّین صاحب نے ہمیں بتایا کہ’’ہم گزشتہ دو عشروں سے قرآنِ کریم کی معیاری اِشاعت اور مقدّس اوراق کے تحفّظ کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔2002ء میں صدر پرویز مشرف کو خطوط لکھ کر صُورتِ حال کی سنگینی سے آگاہ کیا،نیز، 166 ناظمین کے دست خطوں کے ساتھ سٹی گورنمنٹ، لاہور کو درخواست دی کہ شہر کے پبلشرز کو قرآنِ کریم کی 68 گرام آفسٹ پیپر پر طباعت کا پابند بنایا جائے۔ 2004 ء میں معاملہ سینیٹ تک پہنچانے میں کام یاب ہوئے، کئی سینیٹرز نے بہت تعاون کیا اور ایوان میں قرآنِ پاک کی معیاری طباعت کے حوالے سے باقاعدہ’’ قرآن بِل‘‘ پیش ہو گیا، مگر بات کچھ زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ 2008ء میں قومی اسمبلی میں اِس حوالے سے ایک بِل پیش کیا گیا،مگر بدقسمتی سے اگلے دو برس تک اس پر کوئی بات ہی نہیں کی گئی۔

2010ء میں وہ بِل قائمہ کمیٹی کے سُپرد کردیا گیا، جس پر کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے، بشمول صوبے، موقف مانگا اور صوبوں نے اپنے جوابات جمع بھی کروا دئیے، مگر اس دَوران 18 ویں ترمیم آگئی، یوں یہ معاملہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگیا اور وفاقی سطح پر ہونے والی قانون سازی کا عمل رُک گیا۔ اس پر ہم نے 2011ء میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جسٹس شیخ احمد فاروق نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ دیا کہ’’قرآنِ پاک کسی بھی صورت 52 گرام سے کم کے کاغذ پر نہیں چھاپا جا سکتا۔‘‘

بعدازاں، اس فیصلے کی روشنی میں پنجاب اسمبلی نے قواعد وضوابط طے کیے اور 18 اگست 2011ء کو یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ کردیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بھی اسی طرح کے قوانین بنوائے، مگر افسوس کہ سندھ میں اِس حوالے سے ایکٹ تو سامنے آچُکا ہے، لیکن ابھی تک قواعد وضوابط کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔صُورتِ حال کا ایک سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ جن صوبوں میں قرآنِ پاک کی معیاری طباعت کا قانون نافذ ہوچُکا ہے، وہاں بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔‘‘