آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

طالبان سے معاہدے کے بغیرافغانستان میں فوج کم کرسکتےہیں، امریکا

واشنگٹن(جنگ نیوز)امریکا کاکہنا ہے کہ طالبان سے معاہدے کے بغیر افغانستان میں فوج کم کرسکتے ہیں ،امریکی وزیر دفاع کااپنے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہنا ہے کہ فوج کم کرنے کا طالبان معاہدے سے تعلق نہیںاورافغانستان میں افواج میں کمی کیلئے نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری ہے، تفصیلات کے مطابق امریکہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کا تعلق افغانستان میں فوج کی تعداد میں کمی سے نہیں ہو گا۔ امن کوششوں سے قطع نظر افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی جا سکتی ہے۔امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان سے امریکی فوج کی تعداد میں کمی طالبان کے ساتھ کسی بھی طرح کے امن معاہدے سے منسلک نہیں ہے۔امریکی وزیر دفاع کا موقف امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران فوج کی تعداد میں کمی کا عندیہ دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ افغان طالبان جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں گے۔مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں افواج کی تعداد کو کم کرنے کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ بھی مشاورت جاری ہے۔ البتہ امریکی وزیر دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ افغانستان سے کتنے فوجیوں کا انخلا چاہتا

ہے۔مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ فوج کی تعداد میں ممکنہ کمی کے باوجود وہ پرامید ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہیں بنے گی۔مارک ایسپر سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان میں فورسز کی تعداد کو کم کرنے کا انحصار طالبان کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے پر ہو گا؟ تو ایسپر نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی۔

اہم خبریں سے مزید