آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جاسوسی کے ذریعے کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف زیرسماعت ریفرنس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت (آج) بدھ کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کی جانب سے کسی کا فون ٹیپ کرنے کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت جاسوسی کے ذریعے کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ منگل کوجسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل نے پیش ہوکر اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ کسی جج کیخلاف شکایات صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائی جاتی ہیں ، اگر وہ محسوس کریں کہ معاملے پرکارروائی کی جائے تب اس شکایت کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا ناچاہیے اگر کونسل کو جج کا کنڈیکٹ درست نہ لگے تووہ اس حوالے سے انکوائری کا آغاز کریگی۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے ان سے استفسارکیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ اگر صدر اپنی رائے قائم کر نے کے بعد معاملہ کونسل کو بھیج دے تو کیا کونسل کو ہر صورت میں اس کی روشنی میں انکوائری کرنا ہوگی ۔ سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ نے استفسارکیاکہ کیاکونسل کے پاس قاضی فائز عیسیٰ کے با رے میں اتنا مواد موجود تھا کہ اس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری

کیا،تومنیراے ملک نے کہاکہ میر ی رائے میں جج پبلک سرونٹ ہوتا ہے، تاہم ا س معاملے میں دو رائے پائی جاتی ہیں،کونسل بھی سپریم کورٹ جتنا اختیار رکھتی ہے مگر وہ کسی چیز کو کالعدم قرار نہں دے سکتی،اوریہ اختیار صرف سپریم کورٹ کو 3)1)(84 کے تحت حاصل ہے، فاضل وکیل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے مزید سماعت ملتوی کردی۔

اہم خبریں سے مزید