آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج کی ہی نہیں، اس سے پہلے کی بھی کم و بیش تمام ہی حکومتوں کی حکمرانی (گورننس) کا بڑا روگ یہ ہے کہ وہ عوام کو مختلف النوع کتنے ہی ریلیف دینے اور ان کی زندگی میں اک اچھے بھلے فیصد کے ساتھ آسانی پیدا کرنے کے جو اقدامات کرتی رہیں، وہ بھی نہیں کرتیں۔ کیوں نہیں کرتیں؟ جبکہ ہر حکومت، خواہ بدترین جمہوری ہو یا بہتر آمرانہ، عوام میں مقبول تو رہنا چاہتی ہے، وہ خوشحال طبقہ مہنگائی جیسے عوام الناس کے مسائل ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے، اس طبقے کی نظر میں بھی حکومت کا امیج تو گر جاتا ہے تو پھر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہمارے ہاں ہر طرح کی ہی حکومتیں، ان مسائل کو بھی حل نہیں کر پاتیں جو حل کرنے (بلکہ پیدا ہی نہ ہونے کے) اسباب تو موجود ہیں لیکن یہ ہر حکومتی دور میں سر اٹھاتے اور ریاستی و حکومتی امور پر غالب ہو کر عوامی بے چینی اور حکومتوں کے لئے عدم مقبولیت اور عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔ یاد نہیں کہ ٹماٹر خصوصاً اور سبزیوں کی مہنگائی کا شور زرداری، گیلانی اور نون لیگی حکومت کے آغاز میں بھی مچا تھا، اور ٹھیک مچا تھا؟ غریب تو کجا، متوسط بھی ہانڈی کی معمول کی رونق اور منہ کا بنا بنایا مزا جو وہ اپنی دہاڑی، تنخواہ سی ہی خوراک میں پیدا کرتا ہے، چھن جائے اور حکمرانوں کی ذاتی جائز و ناجائز مرتکز دولت کا حساب ہی کوئی نہ ہو، جو ہو وہ بھی حساب ہو تو پھر شور تو مچے گا، بے چینی تو ہو گی۔ ٹماٹر، میڈیا کے ایجنڈے میں غیر معمولی جگہ تو بنائے گا، یاد نہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کی تیسری باری میں نواز شریف صاحب کو بھی حیرت ہوئی تھی کہ یہ ٹماٹر پر اتنا شور کیوں مچ رہا ہے؟ پھر جب ٹماٹر کا نرخ معمول پر آیا اور سبزیوں کی قیمتیں بھی گریں تو سیانے وفا شعاروں نے وزیراعظم صاحب کو عوام سے خیر سگالی کےلئے اسلام آباد کے سستے اتوار بازار کا چکر لگوا دیا تھا کہ عوام کو بھی معلوم ہو کہ میاں صاحب کو عوام کی دال روٹی کی فکر ہے۔ یقین ہے کہ آج وزیراعظم عمران خاں کو کروڑوں لوگوں کے ٹماٹر سے محروم ہو جانے اور چاہت کی سبزیوں سے محرومی سے دیکھتے منڈیوں سے باہر نکل جانے کی تو خبر نہیں، اتنا ضرور معلوم ہے کہ لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں، جس کا اقرار وہ کرتے رہتے ہیں اور یقین دلاتے رہتے ہیں کہ یہ برا وقت گزر جائے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ ہر حکومت میں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دالیں، سبزیاں تک بھی ان کی پہنچ میں آسانی سے نہیں آتیں، روزمرہ کی خوراک کی تیاری محال بھی ہو جاتی ہے۔ جبکہ پاکستان الحمدللہ ایسے خطے میں ہے کہ اگر اور علاقوں میں کسی سبزی کا سیزن آف ہے تو کوئی دوسرا علاقہ اس سیزن میں بھی آف سیزن کی سبزیاں مہیا کرنے کی قدرتی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے، لیکن چونکہ کوئی پلاننگ نہیں، سب کچھ زمینداروں، کاشتکاروں، آڑھتیوں، اور اسٹوریج کے مالکان پر چھوڑ دیا گیا ہے، محکمہ زراعت و خوراک، زرعی توسیع کے نظام، جو کہ حکومتی سیٹ اپ کا حصہ ہیں، کو عوامی ضروریات سے کوئی غرض ہی نہیں، سو جن سبزیوں کا سیزن خصوصاً آلو، پیاز، ٹماٹر، لہسن، دھنیا، مرچ کے بڑے آباد علاقوں کے آف سیزن میں پیداواری خطوں کی محدود سپلائی پر انحصار کیا جاتا ہے یا دھڑا دھڑ بوکھلاہٹ میں امپورٹ کیا جاتا ہے، ہمسایہ ملکوں میں ایسی ترکاری کے ایکسپوٹر میڈیا کے ذریعے اور اب عادتاً بھی ہوشیار رہتے ہیں کہ پاکستان میں اس اس ترکاری کی تنگی ہے، لہٰذا وہ من مانے ریٹ پر بھاری سپلائی کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس میں کرپشن کا عنصر موجود ہے کہ خوراک و زارعت کی مقامی ضروریات کے مطابق سبزی ترکاری پیدا کرنے کے ذمہ داران دانستہ اپنے فرائض کی انجام دہی نہیں کرتے اور امپورٹر اور ایکسپورٹر دونوں سے مصنوعی قلت پیدا کرنے کا کمیشن وصول کرتے ہیں۔

وگرنہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں کہ آلو، پیاز، لہسن اور کافی حد تک ٹماٹر بھی پاکستان میں ہر سال اتنا نہ پیدا ہو کہ کاشت کار اور زمیندار کو بھی مانگ کا غم رہے اور عوام کی پہنچ سے بھی باہر ہو جائے۔ حکومت چاہے تو اس پیکیج کو سستا ترین کر سکتی ہے لیکن اس کے لئے دو بنیادی ضرورتیں ہیں، دیانت اور اہلیت۔ ان دو ہی کا فقدان پانچ دریائوں کی سرزمین، پنجاب کو بھی اس سبزی ترکاری سے محروم کر دیتا ہے، جو وہ ہمسایہ ممالک کو بھی سستے داموں ایکسپورٹ کرنے کا پوٹینشل رکھتا ہے۔ پاکستان میں سندھ اور پنجاب میں اتنی بھاری مقدار میں ہری مرچ پیدا ہوتی ہے کہ اگر ہمیں اسے ڈھنگ سے پیک کرنے کا شعور ہو تو یہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سے لے کر یورپ اور کتنے ہی دور دراز کے خطوں تک ایکسپورٹ ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے عام نوعیت کی منصوبہ بندی درکار ہے، عمر کوٹ پہلے ہی مرچ کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

قارئین کرام! یقین جانئے یہ کالم فقط اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے لکھ دیا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی، نہ حکومتی میڈیا منیجر اس قابل ہیں کہ وہ اس سے اعلیٰ حکومتی ذمہ داران کو خبر دیں کہ سبزی ترکاری کی اس قدر مہنگائی کو ختم کرنے کا کیا علاج ہے۔ یہ تو ابھی بہت معمولی لیکن بنیادی نوعیت کی تجاویز ہیں، اگر معجزہ ہو ہی گیا کہ حکومت نے اس پر زیادہ جاننا چاہا تو یقینی نتائج دینے والی مزید اور مفصل تجاویز اس کے سامنے لانے کے لئے پوری کالم سیریز لکھنا بھی فرض ہو جائے گا جس کیلئے ناچیز تیار ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔