آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سائنسی خبرنامہ: سلائی مشین کی ایجاد

ساتھیو! سائنسی ایجادات نے کائنات کے بارے میں اور روزمرہ زندگی کے بارے میں تصور بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج ہم جن چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہ بھی بنیادی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ ان ہی میں ایک سلائی مشین ہے اس کے بغیر ہمارے کپڑے نہیں سل سکتے۔اسے کس نے ایجاد کیا یہ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

1755ء میں ایک جرمن Charles Weisenthal نے درزیوں کی سہولت کے لئے دہری نوکدار سوئی تیار کی تھی ۔ لیکن سلائی مشین کی ترقی میں پہلا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب انگلستان کے تھامس سینٹ نے 1790ء میں ایک مشین ایجاد کی جو کپڑے پر بخیہ لگانے کے علاوہ ٹانکا بھی لگا سکتی تھی۔ اس میں موجودہ دور کی سلائی مشین والی کچھ خصوصیات بھی موجود تھیں۔ 1830ء میں فرانس کے ایک غریب درزی Barthelemy Thimonier نے پہلی باقاعدہ مشین ایجاد کی جو صحیح معنوں میں سلائی کا کام کرتی تھی۔

تھمونیئر فرانسیسی صوبہ Loire کے ایک صنعتی قصبہ سینٹ ایٹائن (St. Eteinne) میں کام کرتا تھا۔ اس کی سلائی مشین کی بنیادی خوبی اس کی سوئی کا نوک سے اوپر کی جانب خمدار ہونا تھی۔ یہ سوئی ایک پیڈل سے حرکت کرتی تھی جو پاؤں کی حرکت سے کام کرتا تھا۔ سوئی کی ہر بار اوپر نیچے حرکت سے مشین ایک ٹانکا لگاتی تھی۔اسی مشین کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں سلائی مشینیں بنائی گئیں۔ تھمونیئر نے پیرس جاکر وہاں کے Sevres نامی کوچے میں اپنی ایک ورکشاپ بنالی۔ 

اس کا یہ کاروبار چمک اٹھا اور جلد ہی اس کی ورکشاپ میں بیس کاریگر کام کرنے لگے۔ پیرس کے درزیوں نے پہلے تو تھمونیئر کی ایجاد کو ایک مذاق سمجھا لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ سلائی مشین ان کی روزی کے لئے واقعی ایک خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک دن یہ لوگ طیش میں اُس کی ورکشاپ پر حملہ آور ہوئے۔ تھمونیئر کی ورکشاپ میں اسّی مشینوں پر فوجی کپڑوں کی سلائی کا کام جاری دیکھ کر مخالفین نے ورکشاپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور تھمونیئر کو بری طرح زخمی کر دیا۔

تھمونیئر کا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ اپنی ایک مشین بغل میں دباکر پیرس کی گلیوں میں کسی درزی کے پاس نوکری ڈھونڈنے پر مجبور ہوگیا۔ لیکن جب کسی نے بھی اُس سے تعلق نہ رکھا تو وہ مجبوراً اپنے آبائی قصبہ چلاگیا۔ وہاں اُس نے مزید تحقیق کی اور جلد ہی ایسی مشین تیار کی جو ایک منٹ میں 300 بخئے لگا سکتی تھی۔ اس امید پر کہ انگریز کارخانہ دار اس کی اس ایجاد میں دلچسپی لیں گے، تھمونیئر نے انگلستان میں اپنی ایجاد کے حقوق فروخت کر دئیے۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام فرانس میں انتہائی غربت کی حالت میں گزارے۔ تھمونیئر کا انتقال 1857ء میں ہوا۔

اُسی زمانہ میں دو امریکی بھی سلائی مشین کی ایجاد کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ایک نیو یارک کا Walter Hunt جس نے سیفٹی پن بھی ایجاد کی تھی۔ دوسرا Elias Howe جو میسا چیوسٹس کا رہنے والا تھا۔ ہنٹ کی مشین میں تھمونیئر والی مشین کی طرح ایک خمیدہ سوئی اوپر نیچے حرکت کرتی تھی لیکن اس نے نوک کے قریب سوئی میں سوراخ بھی بنایا ہوا تھا اور ایک شٹل بھی تھا جس کے نتیجہ میں ایک ایسا ٹانکہ لگتا تھا جو بہت مضبوط ہوتا تھا۔

ایلیاس ہاؤ نے بھی اپنے تجربات کی مدد سے ہنٹ کی طرح ہی مشین ایجاد کی، تاہم یہ اُس سے بہتر بھی تھی۔ 1846ء میں وہ اپنی ایجاد کے حقوق محفوظ کروانے کے بعد لندن چلا گیا اور اس نے برطانوی حقوق ولیم تھامس نامی ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردئیے ۔ ولسن کی مشین سادہ لیکن زیادہ عملی نوعیت کی تھی۔ اسی طرح Isaac Merritt Singer نے ایک ایسی مشین کے حقوق محفوظ کروائے تھے جو بنیادی طور پر ہاؤ کی مشین جیسی تھی لیکن اس سے زیادہ عملی اور عمدہ خصوصیات کی حامل تھی۔ 1851ء کے سلائی مشین کے امریکی موجدوں میں Seymour اور William Grover کے نام بھی آتے ہیں جنہوں نے دہرا زنجیری ٹانکا اختراع کیا تھا۔

اب ہاؤ نے دوسری مشینوں کو ترقی دینے کی کوششیں شروع کردیں۔ 1854ء میں بوسٹن کی عدالت میں ہاؤ کا اپنے حریفوں کے ساتھ ایک تنازعہ چل نکلا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اگرچہ سنگر نے ہاؤ کے نظریہ کو مدنظر رکھ کر اپنی مشین ایجاد کی تھی لیکن ہاؤ کی مشین بیک وقت صرف چند انچ تک مسلسل بخیہ لگا سکتی تھی لیکن سنگر کی مشین مسلسل بخئے لگاتی تھی اور مارکیٹ میں اُسی کی مشین کو پسند کیا جاتا تھا۔ 

یہ درحقیقت سلائی مشین سازوں اور موجدوں کے مابین ایک تلخ اور متشدد کشمکش تھی جو امریکی عدالتوں اور پریس میں جاری رہی۔ آخرکار تمام فریقوں کے مابین ایک معاہدہ طے پاگیا۔یہ معاہدہ ’’سلائی مشین کارپوریشن‘‘ کے قیام سے ممکن ہوا جس میں ہر مشین کی فروخت میں سے رائیلٹی پانچ موجدوں کو دی جانی تھی۔ لیکن ہاؤ کو اس بات کی خبر نہ تھی کیونکہ وہ 1867ء میں پیرس میں انتقال کر چکا تھا۔ انتقال سے قبل اسی سال اسے لجن آف آنر کا تمغہ بھی دیا گیا۔

سلائی مشین یقینا ایک ایسی مشین تھی جو ہر گھر میں استعمال ہوسکتی تھی۔ اسی وجہ سے یہ مشین گھریلو استعمال کی پہلی شے تھی جو قسط وار خریداری کے نظام کے تحت بڑی تعداد میں فروخت کی گئی۔ آج دنیا 2000 سے زائد اقسام کی سلائی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔