آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چیف جسٹس صاحب کی پاکستان میںافسران کی تقرری کے بارے میں بہت سی شکایت بعنوان اصول و ضوابط، قوانین کے لاگو ہونےکی تفصیل اور اداروں میں امیدواروں کے انتخاب کے بارے میں اصول و ضوابط، گزشتہ تین دن میں یہ تفصیلات، وضاحتیں اور قانونی موشگافیاں پڑھتی رہی اور ہنستی رہی۔ یہ ’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘ والی بات ہے۔ میرے بچپن میں خواجہ ناظم الدین کو وزارتِ عظمیٰ سے کون سے قانون کے تحت اتارا گیا۔ پھر اسکندر مرزا کہاں سے آ گئے۔ ایک دم ایوب خان آگئے۔ چلو یہ تو سیاسی گل فشانیاں ہیں۔ بھٹو صاحب کے دور میں گل حسن کو کیوں او ر کیسے ہٹایا گیا۔ اسی زمانے میں نیشنل سینٹر کے چیئرمین پیر علی محمد راشدی مقرر کیے گئے۔ کیوں اور کیسے یہاں میں صرف مثالیں دوں گی۔ ہاں تو یہ بھٹو صاحب کی حکومت کا پہلا سال اور غالباً چھٹا مہینہ تھا۔ نیلوفر علیم، حسینہ معین کے ڈرامے میں آئیں۔ بیگم بھٹو کو اس کا ڈرامہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس کی شادی پر دعوت کی اور تحفتاً نیشنل سینٹر کراچی کا ڈائریکٹر لگا دیا۔ اب وہ لڑکی دفتر آتی اور اس کا شوہر جو پہلے ہی سرکاری ملازم تھا، اس کی جگہ کرسی پہ بیٹھ کر آرڈر کرتا رہا۔ چلیں آگے بڑھیں۔ روزنامہ مساوات کی ایک لیڈی رپورٹر تھی، پنجاب کے وزیر کو اس سے شاید عشق ہو گیا۔ راشدی صاحب کو وزیر نے بیوی کو ملازمت دینے کا کہا۔ انہوں نے اسے فوراً ڈائریکٹر لگا دیا۔ ضمیر جعفری صاحب دو دفعہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ انہیں پھر تین سال کیلئے لگا دیا گیا۔ اسی طرح کی خوش بخشیاں کوثر نیازی نے بے تحاشا کیں بلکہ یہ کہوں کہ میں نے اپنے دورِ ملازمت میں ہر طرزِ حکومت میں شہ بخشیاں دیکھیں، کبھی میری دوست رعنا کو ٹی وی کا ایم ڈی تو کبھی سیکریٹری کلچر لگا دیا گیا۔ حسین حقانی کو کن کن سینئر پوسٹوں پر کس کس نے نہیں لگایا۔ وہاں کوئی قانون اور ضابطہ تھا؟ اسی طرح ٹی وی اور ریڈیو پہ ہر حکومت نے اپنے من پسند ناتجربہ کار اور نالائق لوگوں کو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں اور پوسٹیں دیں کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ نیشنل سینٹر کوئی 25برس تک قائم رہا۔ اس دوران رولز نہ کسی نے بنائے اور نہ کسی نے بنانے کی ضرورت محسوس کی۔ جس کو مرضی سفیر لگا دیا، ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایم ڈی پی ٹی وی لگا دیا گیا۔ سولنگی کو ڈی جی ریڈیو لگا دیا گیا۔ عابدہ حسین سے لے کر ملیحہ لودھی یا حسین حقانی کو کن لیاقتوں کی وجہ سے سفیر لگایا گیا؟ قیام پاکستان سے اس وقت تک‘ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ہر سال پاکستان میں پی آئی اے سے لے کر ساری سینئر پوسٹیں کس کو پیش کی جاتی رہیں؟ یہی خوشامد پرست سی ایس پی افسران بھی انہی بخششوں کے طفیل بچے باہر پڑھاتے، بیویوں کے نام سے کاروبار کرتے رہے اور پاکستان میں زمین ڈھونڈنے کی تو ضرورت ہی نہیں۔ اللہ رکھے پٹواریوں، تھانیداروں کو، خود ہی آپ کی خاندانی زمین ہونے کے کاغذات بنا دیتے تھے۔ افسر اپنے دوستوں کو کیسے کیسے نوازتے رہے۔ شہاب صاحب نے اشفاق صاحب، احمد بشیر، ابن انشا جیسے پیارے دوستوں کو شہ بخشیاں کیں۔ ضیاء الحق کا تو نام لیتے ہی سینکڑوں میری یادداشت سے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ زرداری صاحب، نواز اور شہباز سیاست کے پلڑے میں کیسے آگے ہی آگے آتے رہے۔ ہر زمانے میں ان کے نئے فواد حسن فواد اور احد چیمہ ہوتے تھے، وہ سب چالاک بہت تھے۔ 2000میں خواتین کمیشن بنایا گیا۔ صرف مشرف صاحب کی نظر کرم، عورتوں پر ہوئی تھی۔ وہی مشرف صاحب جنہوں نےکہا تھا ’’عورتیں اپنے Rape کے قصے خود گھڑ لیتی ہیں تاکہ دوسرے ملکوں کی شہریت مل سکے‘‘۔ لاحول ولا قوۃ… اس نیشنل کمیشن میں ہر تین سال بعد، نئی چیئر پرسن آتی رہی۔ 2013 میں خاور ممتاز آئی تو اس نے پوچھا کہ اسٹاف کن رولز کے تحت رکھا جاتا ہے۔ کہا اپنی مرضی سے، یعنی کیا مطلب؟ رولز کہاں ہیں؟ کہا ’’وہ تو بنے ہی نہیں‘‘۔ اب رونا پڑے گا یہ پڑھ کر، وہ چھ سال تک رہی اس کے زمانے میں، مالی، انتظامی اور قانونی رولز بننے کے ڈول ڈالے گئے۔ اب یہ ہاتھ آئی بیورو کریسی کے ناکوں چنے چبوا دیے۔ چھ سال دفتر دفتر چکر لگاتی رہی، آخر کو چھ سال بھٹکنے کے بعد گھر چلی گئی۔

بھئی جب بھٹو صاحب کے بعد، کسی صدر، کسی وزیراعظم نے کبھی فائل پڑھ کے ہی نہیں دیکھی۔ سیکریٹری سے کبھی کبھی منہ زبانی مسئلہ سنتے اور منہ زبانی چاہے فیصلہ ہو کہ کسی پوسٹ پر لگانے کا معاملہ ہے تو پھر یاد آتا ہے کہ ہمارے دوست دو دفعہ سفیر اور پھر ایم ڈی پی ٹی وی مقرر کئے گئے۔ لیاقت یہ تھی کہ ایم اے او کالج میں کبھی کبھار اردو پڑھا دیا کرتے تھے مگر تھے تو صاحبِ قلم۔ اب تو بات یہاں تک پہنچی ہے کہ غلیظ زبان استعمال کرنے والوں کو ’’شیر دا پتر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو ریٹنگ بھی خوب ملتی ہے۔ آج کے 23ترجمان بھی ہمارے ہاتھوں ہی کھیلے ہوئے ہیں۔ رہے بدعنوان اصحاب کو لگائے جانے، پھر جیل بھجوانے کے قصے تو ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں۔ کون کتنی رشوت دے کر لگتا ہے اور کتنی دے کر چُھٹتا ہے۔ مجھ سے نہیں ہمارے معزز شجاعت حسین سے پوچھ لیں۔ ان کی پوتھی اگر کھل گئی تو ہمارے مقدر میں سوائے رسوائی کے کچھ نہیں بچنا۔

چیف جسٹس صاحب آپ نےمجھے کیوں یہ سب یاد کرا دیا!