آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی: ڈینگی نے مزید 2 افراد کی جان لے لی

کراچی: ڈینگی نے مزید 2 افراد کی جان لے لی


کراچی میں ڈینگی نے مزید دو افراد کی زندگیاں چھین لیں جس کے بعد سندھ میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 45 تک جا پہنچی۔

ترجمان انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہزار ہوگئی ہے۔

ترجمان انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام کے مطابق شہر میں ڈینگی سے دو اور ہلاکتیں سامنے آئیں ہیں۔ 32 سالہ خاتون ابوالحسن اصفہانی کی رہائشی اور 16 سالہ لڑکا عثمان آباد کا رہائشی ہے، جس کے بعد صوبے میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 45 ہوگئی ہے۔

ترجمان کے مطابق رواں سال ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 16000 تک جا پہنچی ہے۔

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات

ڈینگی کا مچھر خاص طور پر صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ صبح اور شام میں اپنا جسم ڈھانپنے، پانی کا صحیح نکاس اس مچھر کو بیماری پھیلانے اور افزائش نسل سے روکنے میں خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ حفاظتی اقدامات ہی اس وائرس سے بچاؤکا ذریعہ ہے۔

  • گھروں میں مکمل طور پر صفائی کا اہتمام کیا جائے، بالخصوص پودوں اور بیلوں کی کیاریوں میں مچھر مار ادویات سے اسپرے کرایا جائے۔
  • گھروں کے آس پاس پانی بالکل نہ کھڑا ہونے دیں۔
  • ڈینگی وائرس کا حامل مچھر گندے جوہڑوں اور تالابوں کی بجائے صاف پانی میں پرورش پاتا ہے، لہٰذا گھروں میں استعمال ہونے والی ٹینکیوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی اسٹور کرنے والے برتنوں کو صبح و شام صاف کیا جائے۔
  • بطور احتیاط پانی ابال کر استعمال کریں تو اچھا ہے۔
  • گھروں کی سجاوٹ کیلئے رکھے گئے پودوں کے گملوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ان پودوں پر مچھر مار ادویات کا اسپرے تواتر سے کرتے رہیں۔
  • طبی ماہرین کے مطابق یہ مچھر رات کی بجائے طلوع و غروب آفتاب اور دن کے اجالے میں حملہ آور ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ اوقات میں مچھر کے حملوں سے بچاؤ کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
  • جسم کے کھلے حصوں پر مچھر بھگاؤ لوشن وغیرہ لگا ئیں، بچوں کے جسم پر لوشن ضرور لگائیں کیونکہ بچوں میں بڑوں کی نسبت قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے، یوں بچے ڈینگی وائرس کی زد میں جلد آجاتے ہیں۔
  • کمروں میں مچھر مار کوائلز اور میٹ استعمال کریں، رات کو دیگر حفاظتی تدابیر کے ساتھ ساتھ مچھر دانی لگا کر سوئیں۔
  • چھتوں کے اوپر رکھے گئے سازو سامان میں بھی مچھروں کی پرورش ہوتی ہے ، لہٰذا ایسی تمام جگہوں کی صفائی کی جائے۔
  • اسٹور رومز میں پڑے سامان کو خصوصی طور پر نکال کر اس پر اسپرے کیا جائے اور کمرے کی چھت و دیگر الماریوں کو بھی صاف کرکے اسپرے کیا جائے۔

ڈینگی بخار ایک موذی مرض ہے تاہم کہاوت ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘ کے مصداق احتیاط کرکے اس سے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

صحت سے مزید