آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پوری دیانتداری ،غیر جانبداری اور ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ مسلسل اقتدار کی وجہ سے یہ خاندان خوفناک قسم کی بدہضمی اور اپھارے کا شکار ہو چکا تھا ۔

انہیں یقین تھا کہ کم از کم پنجاب میں ان کے پنجے اس بری طرح اور اتنے گہرے پیوست ہو چکے ہیں کہ اب دنیا کی کوئی طاقت انہیں اقتدار سے علیحدہ نہیں کر سکتی۔

ان کی بدمزاجی، بددماغی، رعونت اور تکبر کی انتہا یہ کہ صاحبزادی سرعام خود کو ’’حکمران خاندان ‘‘ قرار دیتے ہوئے امرتسر کے اصلی جاتی امرا کو فراموش کر بیٹھی اور ابا جی کے تو تکیہ ہائےکلام ہی یہ تھے۔

’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘’’ہم سڑکیں بنائیں گے تم سڑکیں ناپو گے‘‘’’شیروانی کا بٹن بھی کبھی نصیب نہ ہو گا‘‘اور اب خبر آئی ہے کہ ’’چپ چپ اور اداس رہتے ہیں نہ ٹی وی دیکھتے ہیں نہ اخبار پڑھتے ہیں اور اکثر شریک حیات مرحومہ کو یاد کرتے ہیں ‘‘مجھے یہ سب کچھ اک چھوٹی سی خبر پہ یاد آیا جس کی صرف تین سرخیاں آپ بھی پڑھ لیں ۔

’’شہباز شریف کی سیکیوریٹی پر قوم کے 830کروڑ روپے خرچ ہوئے ‘‘’’جاتی امرا کی سیکیوریٹی پر 5سال میں 214کروڑ 15لاکھ روپے کے اخراجات قومی خزانے سے ادا ہوئے ‘‘’’وزیر اعظم ہائوس کے علاوہ 5ذاتی گھروں کو کیمپ آفس قرار دیا گیا اور کرپشن کا پیسہ منی لانڈرنگ کیلئے پروٹوکول کےساتھ منتقل کیا جاتا ‘‘ذاتی گھر کے گرد جو لمبی چوڑی بم پروف دیوار بنی وہ علیحدہ ۔

یہ انقلابی تھے اور ووٹ کو ’’عزت‘‘ دے رہے تھے لیکن ووٹر کو جی بھر کے بے عزت کر رہے تھے کیونکہ جاتی امرا سے ماڈل ٹائون تک، جہاں جہاں ان کے اڈے اور ڈیرے تھےانہوں نےسڑکوں پر ناجائز قبضے کر رکھےتھے اور یہ بات میں ان کے رونے، رُلنے کے بعد آج ہی نہیں کہہ رہا بلکہ مدتوں سے ’’میرے مطابق ‘‘کے ’’پرومو‘‘ کا حصہ ہے جو آپ ’’جیو‘‘ پر اکثر دیکھتے ہوں گے ۔

یہ تو خیر جو تھے سو تھے ہی، ایسا اقتدار تو کسی پُشتینی، خاندانی رئیس اور سیاست دان کو بھی ملتا تو اس کا دماغ الٹ جاتا، ہاضمہ چوپٹ ہو جاتا، آنکھوں پہ چربی چڑھ جاتی کہ یہی انسانی نفسیات ہے اور تاریخ کا سبق بھی۔

اہل مغرب نے یونہی اس بات کو یقینی نہیں بنایا کہ کوئی شخص اک خاص محدود مدت سے زیادہ اقتدار میں نہ رہ سکے خواہ وہ کوئی فرشتہ +جینیئس ہونے کے ساتھ ساتھ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو ۔

وزیر اعظم عمران خان نے سوفیصد درست نشاندہی کی کہ وہ کون لوگ ہیں جو مجرموں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے اور یہ ناپاک، پلید منطق پیش کرتے ہیں کہ ’’یہ لوگ اگر کھاتے ہیںتو لگاتے بھی ہیں ‘‘ ۔

اس سے زیادہ گری ہوئی، مسخ شدہ، پسماندہ سوچ کا تصور بھی محال ہے۔معمولی ترین پڑھا لکھا شخص بھی حضورؐ کے فرمودات سے بخوبی واقف ہے کہ .......’’جو جھوٹ بولتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘’’جو کم تولتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘’’جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار جیسی شے کے ’’تول‘‘ میں ڈنڈی اور ٹی ٹی مارتے ہیں ۔

یہ وہ لوگ ہیں جو حکمرانی میں چوری ڈاکے کی ’’ملاوٹ‘‘ کرتے ہیں اور جناب سپیکر !ان کے جھوٹ جمع کریں تو انہیں تفصیل سے قلم بند کرنے کیلئے لاکھوں قلم اور منوں سیاہی بھی کم پڑ جائے گی ۔

یہ خادم اعلیٰ کہلاتے ہیں اور عدم تحفظ کے مارے ہوئے لاوارث عوام کے سامنے اپنی سیکیوریٹی پر 830کروڑ روپے خرچ کر دیتے ہیں۔

یہ ووٹ کو عزت دیتے دیتے ووٹروں کی کئی کئی نسلیں گروی رکھ دیتے ہیں لیکن صدیوں سے غلام ابن غلام ابن غلام، کنیز بنت کنیز بنت کنیز ہر حقیقت نظر انداز کرتے ہوئے آقائوں کے تلوے چاٹتے ہیں کہ ان کی کل کائنات ہڈی، بوٹی، چھیچھڑے تک محدود ہوتی ہے ......

اگلے وقت کی روٹی اگلی نسلوں کی تقدیر کھوٹی کر دیتی ہے لیکن مجبوری ہے کہ جو دماغوں کی بجائے معدوں سے سوچتے ہیں، ان کے اعمال ’’دھمال، چنڈال، خلال‘‘ جیسے روپ ہی دھار سکتے ہیں ۔

مدتوں سے یہی ہمارے ’’کرنٹ افیئرز‘‘ لیکن اب کہیں کہیں روشنی کی کوئی نہ کوئی کرن بھی جھلملاتی دکھائی دیتی ہے مثلاً کوئی اور نہیں جرمن میڈیا کا کہنا ہے(چند روز قبل)’’بین الاقوامی سرمایہ کار دھڑا دھڑ پاکستان جا رہے ہیں ۔

نومبر کے مہینے میں 64کروڑ 25لاکھ ڈالرز کے کرنسی بانڈز خریدے گئے ‘‘تازہ ترین خبر یہ کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب 29کروڑ ڈالرز سے بلند سطح پر پہنچ گئے اور وفاقی کابینہ کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ عوام کو لوٹ کر میڈیا پر مسیحا بننے کے خلاف قانون سازی ہو گی۔

میڈیا کرپٹ اور سزا یافتہ لوگوں کیلئے بند ہو گا ...ہو سکے تو ترمیم کر لیں کہ کرپٹ تو میڈیا پر نظر نہ آئیں لیکن ان کی کرپشن کو تخلیقی انداز میں لگاتار ہائی لائٹ کیا جائے تاکہ پتھریلے دماغوں تک بھی پہنچ سکے ۔

یہاں برادر بزرگ و محبوب محترم جناب ظفر اقبال سے ڈرتے ڈرتے شکیب جلالی کا اک شعر ؎دیکھ اے دیدہ تر یہ تو مرا چہرہ ہےسنگ کٹ جاتے ہیں پانی کی جہاں دھار گرےپروپیگنڈہ کا پانی پتھریلے دماغوں پر بھی اثرات مرتب کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں تسلسل ہو ۔اوپر والے شعر میں ’’پانی‘‘ پسند نہ آئے تو ’’بارش‘‘ ڈال لیں کیونکہ میں ظفر بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ سے تب کا چالو ہوں جب میں نے ’’دھنک‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

چلتے چلتے ’’غیر کرنٹ افیئرز‘‘ کی ہائی لائٹ بھی سن لیں کہ عنقریب 19افراد سے 7ارب ڈالر کی ریکوری کا امکان بہت روشن دکھائی دے رہا ہے ۔فروری مارچ کے وسط تک یورپ، خصوصاً سوئٹزر لینڈ سے بھی بڑی رقم کی آمد کا اعلان ہے ۔

یاد رہے ان 19پاکستانی شخصیات میں سے 10کا تعلق اس مردود جمہوریت یعنی سیاست سے ہے جبکہ 9غیر سیاسی ہیں ۔

بدترین المیہ یہ کہ حکمران کرپٹ ہوں تو انہیں دوسرے کرپٹوں کے کرتوتوں کو بھی نظرانداز کرنا پڑتا ہے اور یوں ووٹ کو دیوالیہ ہونے تک ’’عزت‘‘ ملتی رہتی ہے۔اللہ ہمیں ہر قسم کے ’’شر‘‘ اور ’’آفت‘‘ سے محفوظ رکھے۔