آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار30؍جمادی الاوّل 1441ھ 26؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دو بدترین خونریز عالمی جنگیں لڑنے کے بعد مغربی ممالک بالخصوص نئی ابھرتی عالمی طاقت امریکہ اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا میں قیامِ امن کے لیے ایسے عالمی ادارے کا قیام لازم ہے جو دنیا بھر میں انسانی زندگیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا اہتمام کر سکے۔ 24اکتوبر 1945کو قائم ہونے والی ’’اقوامِ متحدہ‘‘ در حقیقت جنیوا میں قائم ہونے والی’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی ہی ترقی یافتہ شکل تھی۔ لیگ آف نیشنز کی ناکامی کی وجوہ کا جائزہ لیا جائے تو اس کی طوالت ایک الگ آرٹیکل کا تقاضا کرے گی جبکہ ہمارے پیشِ نظر یو این ہیومن رائٹس چارٹر اور اس پر عملداری کا جائزہ ہے جس کے تحت ہر سال بشمول پاکستان دنیا بھر میں 10دسمبر کو عالمی انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ انسانی حقوق کی بےپایاں پائمالی کے مرتکب ہوتے ہیں بظاہر انسانی حقوق کا پروپیگنڈہ کرنے میں وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ ہر بد سے بدترین ڈکٹیٹر چاہے وہ اندرونِ ملک اپنے لوگوں کی جتنی چاہے تذلیل کا مرتکب ہو، زبان سے یہی کہے گا کہ وہ تو انسانی حقوق کی پاسداری کر رہا ہے جبکہ اُس کے مخالفین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پروپیگنڈے کے اس طوفان میں عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی اقوام اور کون سے ممالک اس کی حقیقی اور صحیح معنوں میں پاسداری کر رہے ہیں اور کونسے ایسے ممالک اور قیادتیں ہیں، جو ظاہری طور پر تو پاسداری کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن درحقیقت وہ اس کی پائمالی کر رہی ہیں۔

عالمی انسانی حقوق کی پاسداری کا جائزہ لیتے ہوئے اولین اہمیت انسانوں کے شخصی، انفرادی یا ذاتی حقوق کی ہونی چاہئے۔ بلاشبہ اجتماعیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اقوام کی ناموس و سربلندی پر افراد قربان ہو جاتے ہیں جبکہ کسی فردِ واحد کے لیے اقوام قربان نہیں ہوتیں نہ کسی قوم کی بربادی ہونی چاہئے۔ یہ ایک قدیمی اپروچ ہے جو صدیوں سے چلی آرہی ہے لیکن آج اکیسویں صدی میں ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ قوم جو کچھ بھی ہے وہ افراد ہی سے بنتی ہے۔ اگرکسی بھی قوم کے افراد دکھی ہوں، بدحال ہوں، کچلے جا رہے ہوں تو وہ قوم مہذب تو دور کی بات قوم کہلانے کی بھی حقدار نہیں ۔ فرد کی ناموس و عظمت ہی قوم کی ناموس و عظمت کامظہر ہے۔ جس طرح جسدِ انسانی کا ایک حصہ پورے جسم کو ناکارہ بنا سکتا ہے اسی طرح افراد کی پسماندگی کسی بھی قوم کو ارفع مقام نہیں دلا سکتی۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ افراد رُل رہے ہوں اور قوم خود کو عالمی امامت کی دعویدار بنا کر پیش کر رہی ہو۔

اس پسِ منظر میں جب ہم اقوامِ عالم کا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے پہلی چیز ہمارے سامنے کسی بھی قوم کی یہ کیفیت آتی ہے کہ کیا وہ قوم اپنے لیے کوئی آئین رکھتی ہے اور پھر اس آئین کی پاسداری کر رہی ہے یا محض لفاظی سے دنیا کو دھوکا دے رہی ہے؟ مثال کے طور پر ہر فرد کا یہ جمہوری حق ہے کہ حکومتیں اُس کی آزاد رائے، مرضی یا ووٹ سے قائم یا اختتام پذیر ہوں۔ اسی سے دنیا میں جمہوریت کا بول بالا ہے مگر دیکھنا یہ پڑے گا کہ اس بنیادی اصول پر عملداری کیا واقعی اس کی روح کے مطابق ہو رہی ہے؟

اقوامِ متحدہ کا ممبر بننے کے لیے ہر قوم پر لازم ہے کہ وہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر پر دستخط کرے یہ گویا پوری دنیا، پوری انسانیت کے سامنے اس امر کا اعلان ہوتا ہے کہ ہم اپنی اپنی اقوام اور ممالک میں نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی میثاق اور اس کے اصولوں کی پاسداری کریں گے بلکہ ان پر عملداری کو یقینی بنائیں گے لیکن جب ہم حقائق کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو ہمیں جگہ جگہ ان اعلیٰ انسانی آدرشوں اور اصولوں کی پائمالی نظر آتی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی روشنی میں ہر قوم اس امر کی پابند ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو مساوات پر مبنی برابری کے انسانی حقوق دے گی۔ نسلی، لسانی، مذہبی، جنسی یا گورے کالے کی قطعی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی۔ اب اس اصول پر ہم اگر دور نہ جائیں اپنے ہی گریبان میں جھانکیں تو پتا چلے گا کہ اس مملکتِ خداداد پاکستان میں انسانی حقوق کی کتنی زیادہ خلاف ورزیاں موجود ہیں۔ بلاشبہ ہمارا قومی آئین اس امر کی گارنٹی دیتا ہے کہ ہمارے تمام شہری بنیادی حقوق کے حامل ہیں اور ریاستِ پاکستان کسی کے ساتھ بھی کسی امتیازی رویے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ ہم ایک مرتبہ پھر خود احتسابی کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی مملکتِ پاکستان میں ہمارے تمام شہریوں کو برابری کے مذہبی حقوق حاصل ہیں؟

اسی طرح جنسی یا صنفی امتیاز کا ایشو ہے۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ کسی فرد کے حقوق میں عورت ہونے کی وجہ سے امتیازی رویہ اپنایا جاتا ہو، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے قانونِ وراثت و شہادت میں یا ہمارے عائلی قوانین میں ایسے منفی امتیازی رویے موجود ہوں؟ اگر ایسا ہے تو ہمارے آزاد میڈیا کو بلا اکراہ و جبر اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے اور طاقتور طبقات کو یہ سمجھانا چاہئے کہ ایسے تمام تر امتیازی رویے اُس عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں جس کی پاسداری کا عہد ہم نے اقوامِ عالم کے سامنے کر رکھا ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اُس کا کوئی ایمان نہیں جس کے اندر عہد کی پاسداری نہیں ہے۔