آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ میں ہر سال ’گرینڈ ڈیزائنز ہاؤس آف دی ایئر‘ کا مقابلہ ہوتا ہے، جس میںشارٹ لسٹ کردہ درجن بھر گھروں میں سے کسی ایک کو اس ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس مقابلے کے تحت ’ہاؤس آف دی ایئر 2019ء‘ کا اعلان کردیا گیا ہے، جس میں شمالی آئرلینڈ کی کاؤنٹی ڈاؤن میں واقع تین بیڈ روم پر مشتمل ایک گھر کو سال 2019ء کے بہترین گھر کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ مقابلہ ’دی رائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس‘ کی جانب سے کروایا جاتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے اس گھر کو سال کے بہترین گھر کا ایوارڈ دیتے وقت اسے ’’ڈریم ہوم آن اے بجٹ‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔

اس سے قبل کہ اس گھر کی تفصیلات اور خوبیوں کے بارے میں بتائیں جس کے باعث اسے یہ ایوارڈ دیا گیا ہے، ہم آپ کو اس گھر کے حوالے سے ایک حیران کن حقیقت بتاتے ہیں، وہ یہ کہ اس جگہ پہلے ایک ’گودام‘ تھا، جسے بعد میں تزئین و آرائش اور کچھ تعمیراتی تبدیلیوں کے بعد گھر میں تبدیل کیا گیا ہے۔

کاؤنٹی ڈاؤن کی سرسبز لیکن ڈھلان والی پہاڑیوں پر تعمیر شدہ اس گھر کو بیلفاسٹ سے تعلق رکھنے والی آرکیٹیکٹ فرم میک گونیگل میگ گرانے ڈیزائن کیا ہے۔

اب آتے ہیں L-Shaped والے ہاؤس لیسینز نامی اس گھر کی تعمیراتی لاگت کی طرف،جس کا مجموعی رقبہ 235مربع میٹر ہے، جبکہ مجموعی تعمیراتی لاگت 3لاکھ 35ہزار پاؤنڈ آئی ہے۔ اس طرح گھر کی فی مربع میٹر تعمیراتی لاگت 1400پاؤنڈ بنتی ہے۔ برطانیہ کے اوسط تعمیراتی معیارات کے مطابق، ایک لگژری گھر کی تعمیر پر 3ہزار پاؤنڈ فی مربع میٹر لاگت آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آرکیٹیکٹس اور کنٹریکٹرز، آدھے سے بھی کم لاگت میں ایک شاندار لگژری گھر تعمیر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اس گھر کی تعمیر اور لاگت کے حوالے سے دی رائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس کے صدر ایلن جونز کا کہنا ہے، ’’اس گھر کی تعمیر میں دو باتیں غور طلب ہیں؛ اسے بنانے والوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انھیں کیا چاہیے اور دوسری بات یہ کہ انھوں نے پیسہ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کیا ہے۔ اس گھر کی تعمیر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آرکیٹیکٹ باصلاحیت ہو تو کم پیسوں میں بھی خوابوں کا گھر تعمیر کیا جاسکتا ہے ‘‘۔

تین بیڈ روم اور ایک باتھ روم پر مشتمل اس ’بجٹ ہاؤس‘ میں رہنے والوں کا کہنا ہے، ’’ہم اس گھر میں بہت خوش ہیں۔ صبح میں آنکھ کھلنے کے بعد ہم اپنے بیڈ رومز کی چھت سے دھوپ، باورچی خانہ سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا باہر کا لینڈ اسکیپ اور شام میں اپنے ٹاپ روم سے ڈھلتے ہوئے سورج کے نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں‘‘۔ 

سلویا اور مائیکل اس گھر کے مکین ہیں، وہ بنیادی طور پر ایک ایسا گھر چاہتے تھے، جہاں ان کے بچے جب ان کے پاس رہنے کے لیے آئیں تو وہ گھر کے انٹیریئر اور ماحول سے لطف اندوز ہوسکیں۔’’جس طرح سارے نان آرکیٹیکٹس جب گھر بنوانے لگتے ہیں تو وہ پہلے سے ذہن میں ایک خاکہ بنالیتے ہیں کہ انھیں کس طرح کے کمرے چاہئیں لیکن ہمارے ذہن اس حوالے سے خالی تھے کہ کمروں کی ترتیب کیا ہوگی اور گھر کس طرح دِکھے گا ۔ اس معاملے میں ہمارے ڈیزائنرز نے بہت زبردست کام کیا ہے‘‘۔

اس گھر کے لیے گودام کی پہلے سے موجود عمارت کے سامنے والے حصے میں ایک احاطہ (فور کورٹ)، صحن کے ساتھ ایک علیحدہ بیڈ روم بلاک اور بڑے سے لیونگ ایریاز ڈیزائن کیےگئے ہیں۔ لیونگ ایریاز سے اِردگرد کے فطری ماحول کا خوبصورت نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ چھت کی تعمیر میں زِنک (جست) کا استعمال کیا گیا ہے۔ 

باورچی خانہ، بیٹھنے کا کمرہ اور میزنائن آفس (اس کے نچلے حصے میں پینٹری بنائی گئی ہے)، یہ سب لیونگ ایریا میں بنایا گیا ہے۔ گھر کا دوسرا حصہ دُہری اونچائی پر مشتمل ہے، جسے ’سِلیپنگ بلاک‘ کا نام دیا گیا ہے، اس میں تین بیڈ روم تعمیر کیے گئے ہیں۔ انٹیریئر میں ہلکا سرمئی رنگ استعمال کیا گیا ہے۔ چھت کی اونچائی کو پورے گھر میں ایک افقی لکیر(Horizontal Line)کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے بالائی حصے کو سفید اور نچلے حصے کو سرمئی رنگ کیا گیا ہے۔

ایوارڈ دینے والے انسٹیٹیوٹ کے مطابق، ایک کم بجٹ والے گھر کے لیے یہ تمام خصوصیات انتہائی متاثرکن ہیں اور دیگر آرکیٹیکٹس کے لیے ایک سبق ہے کہ گھر کس طرح ڈیزائن کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے، ’’اس گھر کو ڈیزائن کرنے والے آرکیٹیکٹس نے ایک ’فیملی ہوم‘ تخلیق کرنے کے لیے اپنی انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اور بھی زیادہ کھل کر اعتراف کرنے کا دل چاہتا ہے، جب آپ کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس گھر کی تعمیر پر کتنی لاگت آئی ہے۔ یہ گھر اس سوچ کی نفی کرتا ہے کہ صرف بڑے بجٹ سے ہی لگژری حاصل کی جاسکتی ہے‘‘۔