آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دی بریگزٹ الیکشن اور غیرمعمولی نتائج

تحریر:روبینہ خان۔۔۔ مانچسٹر
مانچسٹر میں بارہ دسمبر کو گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور حسب معمول بارش ہو رہی تھی لیکن یہ دن ہر طرح سے غیر معمولی ثابت ہواکیونکہ یوکے بھر میں جنرل الیکشن ہو رہے تھے۔صبح سات بجے سے پولنگ حسب دستور شروع ہوچکی تھی. کچھ لوگ کام پر جانے سے پہلے اور کچھ کام کے بعد اپنے قریبی بولنگ اسٹیشن کا رخ کررہے تھے۔اس مرتبہ بھی لوگ pets کو سجا کر پولنگ اسٹیشنز لائے تھے اور الیکشن سیلیبریٹ کر رہے تھے۔ رات دس بجے کے بعد ایگزٹ پول کے رزلٹ آنا شروع ہوئےجو کافی حد تک صحیح ثابت ہوئے۔بہرحال چانسز ہو سکتے تھے کہ اصل نتائج مختلف ہوں تاہم جمعے کی صبح الیکشن ریزلٹس کے نقشے پر ہر طرف ٹوری پارٹی کا نیلا رنگ پھیلا ہوا تھا۔ قسمت اچھی ہونا بھی ایک فیکٹ ہے لیکن ماننا پڑے گا کہ حکمران ٹوری پارٹی کا الیکشن کا فیصلہ ان کی حق میں بہترین ثابت ہوا ۔الیکشن کی مہم اور ڈیبیٹس میں وزیراعظم بورس جونسن کو کڑی تنقید اور شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا رہا لیکن اندر خانہ لوگ اپنے اپنے ووٹ کے لیے کنزرویٹیو کو منتخب کر چکے تھے ۔ بورس جانسن نے روایت کو توڑتے ہوئے اپنے حلقے میں اپنے ووٹ نہیں ڈالا بلکہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے قریبی بولنگ سٹیشن میں ووٹ کاسٹ کیا۔ اس طرح وہ مارگریٹ تھیچر کے بعد پہلے وزیراعظم بن گئے جنہوں نے اپنے

نام کے سامنے کراس نہیں لگایا، یعنی خود کو ووٹ نہیں دیا۔اب وہ ایک بار پھر زیادہ اعتماد کے ساتھ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہوگئے ہیں اور 80سیٹوں کی برتری کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیبر 203 ، ایس این پی ،اڑتالیس لبرل ڈیموکریٹس، 11 اور ڈیوپی، 8 سیٹیں حاصل کر سکی ہیں۔لب ٹیم لیڈر جو سوینسن الیکشن مہم میں برائٹ ڈریسز اور برائٹ ایئر رنگس ساتھ پراعتماد انداز سےکہتی رہی کہ وہ اگلی پرائم منسٹر ھوں گی لیکن وہ اپنی ہی سیٹ ہار گئی۔ظاہر ہے کہ وہ اب لبرل ڈیموکریٹس کی لیڈر بھی نہیں رہے گی۔ الیکشن کمال مہارت سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتا ہے۔غیر معمولی کامیابی کےبعد اور الیکشن مہم کے بعدپرائم منسٹر بورس جانسن بجا طور پر کہہ رہے ہیں .let the healing began اور اس کے بعدکام شروع۔ منصوبے ان کے واضح ہیں۔ یعنی بریگزٹ وقت پر ہوگا، نیشنل ہیلتھ سروس کو ترجیح دی جائے گی۔فی الحال تو بہت اچھے اشارے ہیں۔ پونڈ سٹرلنگ پچھلے بارہ مہینے میں اس وقت اپنی مضبوط ترین سطح پر ہے.2019 جاتے جاتے لیبر پارٹی کو مایوس کر گیا ہےجبکہ جیرمی کوربن نے انیس سو پینتیس سے اب تک کی بدترین شکست کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کا ملبہ بریگزٹ پر ڈالا ہے۔لیبر پارٹی کے باقاعدہ سپوٹرز نے بھی اس مرتبہ ٹوریز کو ووٹ کاسٹ کیے ہیں۔لیبر پارٹی کی طرف سے جیرمی کوربن پر پارٹی عہدہ چھوڑنے کا دباؤ پڑنا شروع ہو گیا ہے۔پارٹی کے لیے یہ امتحان ہوگا کہ وہ نئے لیڈر کے طور پر کس شخص کو سامنے لائیں گے جو پارٹی کے لئے اور لوگوں کے لیے اچھی تبدیلی ثابت ہو۔الیکشن میں جیرمی کوربن کو بطور پارٹی لیڈر کے مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ایک بوڑھی خاتون نے بتایا کہ وہ اور اس کی فیملی لیبر کو ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے کنزرویٹوز کو ووٹ کیا ہے۔اس الیکشن میں ووٹ بریگزٹ کو پڑے ہیں۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ٹوریز کا نقطہ نظر بہت واضح تھا اور اس میں کوئی اگر مگر نہیں تھی. جبکہ جیرمی کوربن نے کہا تھا کہ وہ چھ مہینے میں فیصلہ کریں گے اور دوبارہ ریفرنڈم بھی کروا سکتے ہیں۔یہ بات 2016 کے ریفرنڈم پر لوگوں کے فیصلے پر عدم اعتماد تھا۔یہ بہت ہی غلط اسٹریٹجی ثابت ہوئی۔دوسری جانب کنزرویٹوز نے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے بریگزٹ ہر حال میں کرنے کو ترجیح دی۔ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ remain کے حق میں تھے لیکن انہوں نے عوام کے فیصلوں کو اہمیت دی۔لیبر پارٹی کا NHS امریکہ کے ہاتھوں میں چلے جانے والا کارڈ بھی نہ کھیلا جا سکا۔اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ برطانوی عوام سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگ برطانیہ کی معیشت پر بوجھ ہے ۔بریگزٹ بھی اسی سوچ کی غمازی کرتا ہے کہ برطانوی ، یورپین یونین کو ملین اور بلین پونڈ فیس دینانہیں دینا چاہتے اور اسی پیسے کو اپنی معیشت اور اپنی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم بورس جانسن نے لوگوں کو جتایا اور بتایا کہ برطانوی عوام این ایچ ایس کیئر کیلئے بڑی رقم ادا کرتے ہیں اور یہ ناانصافی کی بات ہے کہ باہر سے آئے ہوئے لوگ فری علاج کرواتے ہیں۔ الیکشن کے نتائج کے فورا بعد انہوں نے اعلان کیا کہ تمام امیگرینٹس 625 پاؤنڈ کا سرجارج ادا کریں گے۔جب برطانیہ EU سے نکل جائے گا تو یورپی یونین سے آنے والے تمام لوگ بھی NHS care کو pay کیا کریں گےجبکہ اس سے پہلے وہ سرچارج سے مستثنیٰ تھے۔ ظاہر ہے برطانوی شہریوں کے لیے یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ روپیہ ان کے اپنے اوپر خرچ ہوگا۔ مطب یہ ہے کہ ٹوریز نے لوگوں کے دلوں کی بات اپنے مینیفیسٹو میں رکھ دی۔نتیجہ معلوم !! الیکشن میں لینڈ سلائیڈنگ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ٹوریز ، امیگریشن پالیسی میں بھی ویلفیئر فنڈ حاصل کرنے کے لیے پانچ سال کے انتظار کی شرط لگائیں گے۔امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو وال کے ذریعے امریکہ میں غیر قانونی طور پر لوگوں کی آمد کو روک رہے ہیں تو یوکے میں مختلف طریقے سے امیگرینٹس کی آمد پر بندش ہو جا ئے گی ۔آنے والے وقت میں برطانیہ یورپ سے نکل جاتا ہے اور کنزرویٹیو گورنمنٹ برطانوی عوام کو آسانیاں دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آزادی اور خودمختاری کا خیال یوکے سے نکل کر باقی یورپین ملکوں میں بھی پھیل جانے کا امکان بڑھ جائے گا۔ فری ٹریڈ اور فری آمدورفت پر بارڈرز کی پابندی لگ گئی تو مہنگائی ہوگی۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور ملٹی کلچرل سوسائٹی کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی "ہم اور ہمارا ملک" کا نعرہ فخر کا باعث بنے گا۔دوسرے ملکوں سے ترقی کی دوڑ تو لگے گی جوکہ پوزیٹیو بات ہے۔ ہیومن رائٹس پر ضرب لگے گی۔بنیادی اجرت بڑھا دینے سے کمپنیوں کو چیلنجز کا سامنا ہوگا۔لیبر پارٹی نے اپنے شکست میں خود کردار ادا کیا ہے۔عوام کو پس و پیش والی لیڈر شپ نہیں چاہیے بلکہ پورے اعتماد اور ٹو دی پوائنٹ بات کرنے والی گورنمنٹ چاہیے تھی۔اسی لیے یو کے، کے عوام نے اجتماعی کوشش کے ذریعے سے ٹوریز کو کامیاب کروایا ہے تاکہ اکثریتی جماعت ہاوس آف کامنز میں بریگزٹ کے مسئلہ کو حل کرے . تاہم لیبر اور کنزرویٹو پارٹیوں ذکر کر رہے ہیں وہاں یہ بھی دیکھیے کہ کمیونٹیز نے اجتماعی طور پر اپنے اپنے امیدواروں کو زبردست طریقے سے کامیاب کروایا ہے۔ لیبر پارٹی کے محمد افضل خان نے گورٹن کے علاقے سے کلین سویپ کیا ۔ناز شاہ ، یاسمین قریشی ،خالد محمود ،طاہر علی، محمد یاسین، عمران حسین.جبکہ کنزرویٹیو پارٹی کے نصرت غنی عمران احمد خان ساجد جاوید عطاءالرحمن نےکامیابی حاصل کی۔لیبرپارٹی یہ بات نہیں سمجھ سکی دسمبر 2019کے الیکشن کا دوسرا عنوان "دی بریگزٹ الیکشن " تھا. ٹوریز کو اور یوکے کی عوام کو فتح مبارک۔

یورپ سے سے مزید