آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان وجود میں آ چکا تھا، جس کے ساتھ میرا وجود بھی لازم و ملزوم تھا لیکن میرے جنم میں نو سال لگے، ایک تو میری تخلیق میں کسی کو زیادہ دلچسپی نہیں تھی،

دوسرا 1951سے 1954کے دوران ہونے والے انتخابات ایسے غیر شفاف تھے کہ جنہوں نے میرے وجود کو جنم دینا تھا ان کی اپنی حیثیت ہی مشکوک تھی۔ 1956میں میری ضرورت محسوس کی گئی اور پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی کے ذریعے مجھے وجود بخشا گیا۔

یہ بھی دیکھئے :  ارشد وحید چودھری کا گزشتہ کالم ’ اگلے انتخابات کب؟‘


میرے دم سے وہ خوش بختی آئی کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ قرار پایا، ملک میں پہلے عام انتخابات منعقد کرانے کیلئے الیکشن کمیشن بنا دیا گیا لیکن ابھی میں نے پالنے سے پاؤں بھی ٹھیک طرح سے باہر نہیں نکالے تھے کہ صدر گورنر جنرل اسکندر مرزا کو میری صورت پسند نہ آئی اور اس نے مارشل لا کی گٹھی دے کر مجھے مفلوج کر دیا۔

چند دن ہی گزرے تھے کہ جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو گھر کا راستہ دکھا دیا۔ جنرل ایوب نے میرے وجود کو جلا بخشنے کیلئے ایک کمیشن بنایا جس نے 1962میں میرے تن مردہ میں جان ڈال دی،

اس نئے جنم کے بعد میں نے ایک بار پھراس قانون ساز اسمبلی کے قیام میں مدد دی۔ مجھے گمان گزرا کہ میرے وجود کو مزید توانا بنانے کیلئے مجھے ترامیم کے انجکشن دیے جا رہے ہیں لیکن یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ بنیادی طور پہ مجھے بطور بیساکھی مضبوط کر کے جنرل ایوب خان خود کو طویل مدت کیلئے صدر کے عہدے پہ فائز رکھنا چاہتے تھے۔

تمام اختیارات اور وسائل کا ناجائز استعمال کر کے جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست تو دے دی لیکن عوام کی طرف سے احتجاج کی شروعات ہو گئی۔

مجھے پھر اپنی بقا کی فکر لاحق ہو گئی، جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کو برطرف کرنے کے ساتھ مجھے دوبارہ طاق میں رکھ کے قفل لگا دیا، میری کمی کو ایل ایف او سے پورا کر لیا گیا اور اکتوبر 1970کے انتخابات کی راہ ہموار کر لی گئی۔

مجھے پھر دلاسا ملا کہ نئی پارلیمنٹ بنے گی تو مجھے بھی ساتھ ہی نئی زندگی مل جائے گی لیکن ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ارض وطن کا وجود ہی تقسیم ہو گیا۔

انہی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پہ باقی ماندہ پاکستان میں جو پارلیمان قائم کی گئی اسے پھر میری یاد ستائی اور عارضی بنیادوں پہ سہارا دے کرمجھے اتنا توانا کیا کہ میری بدولت نہ صرف صدارتی نظام حکومت قائم کر لیا بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی طے کر لی۔ پھر اسی پارلیمان نے میری تراش خراش کر کے 14اگست 1973کو مجھے مستقل بنیادوں پہ نیا پہناوا دے دیا۔

میں اپنی اہمیت دو چند ہونے پہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا اور اپنی اس آؤ بھگت کا بدلہ ملک کو پارلیمانی نظام حکومت دے کر چکا دیا۔ وزیرا عظم ذوالفقار علی بھٹو نے مارچ 1977میں قبل از وقت انتخابات منعقد کرانے کے لیے صدر کو ایڈوائس کر کے قومی اسمبلی تحلیل کرا دی۔

اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر کے صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تو مجھے پھر اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔

میرا خدشہ درست نکلا، بطور آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے 5 جولائی 1977کو مارشل لاکی چھری سے میری شہ رگ کاٹ ڈالی اور آٹھ سال تک میرے وجود کی نفی جاری رہی،

مجھے اسی طرح بے جان رکھ کر غیر جماعتی بنیادوں پہ انتخابات کرادیے گئے، پھر دو مارچ 1985کو میرے نیم مردہ تن میں صدارتی حکمنامے کے ذریعے جان ڈالنے کی کوشش کی گئی، اپنی مرضی کی وسیع پیمانے پہ ترامیم کر کے میرے وجود کو موم کی وہ ناک بنا دیا گیا جس کو جب چاہا جدھر چاہا موڑ لیا۔

رہی سہی کسر آٹھویں ترمیم سے پوری کر دی گئی۔ پھر 17اگست 1988کے طیارے حادثے نے مجھے مزید بے توقیر ہونے سے بچا لیا۔

16نومبر 1988کے انتخابات کے نتیجے میں بینظیر بھٹو وزیرا عظم منتخب ہوئیں تو مجھے بھی آس ہوئی کہ اب مجھے عزت نصیب ہوگی لیکن یہ آس تب ٹوٹ گئی جب جنرل ضیا کے فراہم کردہ 58ٹو بی کے ہتھیار سے صدر غلام اسحاق خان نے 1990میں بینظیر بھٹو اور 1993میں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔

1996میں بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں رخصتی کے باوجود اپنی بقا کی فکرتولاحق نہ ہوئی تاہم اٹھاون ٹو بی کا ناسور اپنے جسم میں بھاری محسوس ہوتا رہا۔

بالآخر بطور وزیرا عظم نواز شریف نے 1997میں 13ویں ترمیم کی سرجری کے ذریعے اس ناسور کو نکال باہر پھینکا اور میرا وجود ہلکا پھلکا ہوگیا۔ ابھی میں اپنی صحت مندی کا جشن بھی نہ منا پایا تھا کہ 12اکتوبر 1999کو بطور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پہ قبضہ کرلیا۔

ایمرجنسی کے نفاذ اور 14اکتوبر 1999کو مجھے معطل کرکے دوبارہ وینٹی لیٹر پہ ڈال دیا، مجھے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن عدالت عظمی نے نہ صرف مجھے مفلوج کرنے کے اقدام کو جائز قرار دے دیا بلکہ پرویز مشرف کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جیسے چاہے میرے ساتھ کھیلتا رہے۔

اس دوران متعدد ترامیم اور ایل ایف او کے ذریعے مجھے وہ زخم دیے گئے جن کی ٹیسیں اٹھارہویں ترمیم کے آپریشن تک اٹھتی رہیں، اسی دوران 2002میں انتخابات منعقد کرا کے مرضی کی حکومت بنوائی گئی اور ختم ہونےوالی اسمبلی سے خود کو دوبارہ صدر بنانے میں حائل رکاوٹوں سےنمٹنے کیلئے تین نومبر 2007کو ایک بار پھر مجھے زندہ درگور کر دیا گیا۔

اس بار عوام، میڈیا، سیاست دان،عدلیہ اور ہر طبقے کے افراد نے میرا بھرپور ساتھ دیا جس پر پرویز مشرف کو میرے وجود کو ماننا پڑا۔1956 سے 2007تک 51سال میں میرے ساتھ جو زیادتیاں روا رکھی گئیں ان کے ذمہ داروں کا کسی نے احتساب نہ کیا تاہم اس وقت میری خوشی کی انتہا نہ رہی

جب مسلم لیگ نون کی حکومت نے نومبر 2013میں میرے ساتھ ظلم روا رکھنے والے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرایا۔

آخرکار اس کا فیصلہ آنے پر میں اکیاون سالوں میں اپنےا وپر ڈھائے جانےو الے سارے مظالم بھول گیاہوں۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ آئندہ کوئی میرے تقدس کو پامال کرنے کا نہیں سوچے گا۔