آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’بہار کالونی‘‘ ایک قدیم بستی تھی (حصّہ دوم)

شکور پٹھان

میرے ابا بہار کالونی کے کوئلہ گودام میں منشی تھے اور ان کی تنخواہ ایک سو دس روپے تھے جو وہ مہینے کی پہلی تاریخ کو رومال میں باندھ کرلاتے۔ یہ نوٹ نہیں چاندی کے روپے ہوتے تھے۔ میں امی اور ابا کی مدد کرتا اور ہم گن کر چالیس روپے الگ کرتے جو ہمارے مکان کا کرایہ تھا۔ بقیہ ستر روپوں سے امی گھر چلاتیں۔ امی سخت مشقت کرتیں اور آس پڑوس کے لوگوں کی رضائیاں اور لحاف سیتیں اور ہاتھ کی چکی پر دالیں پیس کر پاپڑ کا آٹا بناتیں اور یہ پاپڑ اور رضائیاں انہیں کچھ اضافی آمدنی دیتیں لیکن یہ کوئی ایسا مستقل بندوبست نہیں تھا۔ 

رضائیاں صرف سردیوں میں اور وہ بھی چند ایک ہی سلتی تھیں کہ آس پاس کون سے ایسے پیسے والے لوگ رہتے تھے۔مجھے اور بڑی بہن کو امّاں کے ہاں پڑھنے بھیج دیا جاتا۔ امّاں ایک ضعیف اور بیوہ عورت تھیں جو بڑے پیار سے محلے کے بچوں کو پڑھاتیں ۔ ان کے چھوٹے سے آنگن میں ہم فرش پر بیٹھ کر پڑھتے اور اس کے لیے بوری کا ٹکڑا ہم اپنے گھر سے لاتے۔

دوسری جو ہستی مجھے یاد ہے وہ دادی تھیں۔ یہ میں اپنی دادی کی بات نہیں کررہا۔ یہ ہمارے مالک مکان کی ماں تھیں جو حج پر گئیں تو واپسی پر ان کی آنکھیں جاتی رہیں ( میرے ابا بھی حج پر گئے تو وہاں ان کی آنکھ میں کچھ پڑ گیا اور ان کی بینائی چلی گئی۔ اللہ کا گھر اور اللہ کے حبیب کے گھر کو دیکھ لینے کے بعد دنیا میں ایسا دیکھنے جیسا اور رہ بھی کیا جاتا ہے) ۔

دادی ہر وقت چوکی پر بیٹھی اللہ اللہ کرتی رہتیں۔ تہجد میں تو ہم نے نہیں دیکھا کہ ہم تو اس وقت خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے لیکن دن میں انہیں فرض نمازوں کے علاوہ اشراق، چاشت ، صلات التسبیح اور نہ جانے کیا کیا کچھ پڑھتے دیکھتے۔ ان کے سرہانے ایک مناجات اور نعتوں کی کتاب رکھی ہوتی جو وہ ہم بچوں کو پکڑ کر پڑھواتی رہتیں۔ میں نے بہت پہلے کہیں لکھا تھا کہ کس طرح دادی نے مجھے ،” میں سو جاؤں یا مصطفٰی کہتے کہتے، کھلے آنکھ صلّے علٰی کہتے کہتے” پڑھنے کے لئے کہا اور میں نے اسکول کے سبق کی طرح سپاٹ انداز میں پڑھ کر سنا دیا ۔ دادی کہنے لگیں ایسے نہیں ذرا محبت سے پڑھ کر سناؤ، ایسے۔۔یہ کہہ کر بڑے پرسوز انداز میں وہ نعت سنائی۔ انہیں ساری نعتیں یاد تھیں۔

ان کے دو بیٹے اسرار اور افتخار تھے جن کے یہ مکان تھے۔ اسرار کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی بیگم ،جنہیں ہم چچی کہتے تھے وہ اب مالک مکان تھیں۔ افتخار صاحب کی بیگم کو ان کے بچے اور ہم “ پاپا “ کہتے تھے۔ پاپا کے ایک کزن ، قمر علی خان، پاکستان کے ہاکی کے کھلاڑی تھے اور کبھی کبھار اپنے ساتھی کھلاڑی حبیب علی کڈی کے ساتھ اپنی کھلی اسپورٹس کار میں پاپا کے گھر والوں سے ملنے آتے۔ غربت زدہ بہار کالونی کی گلیوں میں یہ اسپورٹس کار بڑی عجیب لگتی اور ہم بچے اسے گھیرے رہتے۔ بہار کالونی میں راشن والوں کے ہاں کبھی کبھار ٹرک پر یا اونٹ گاڑی میں آٹا وغیرہ آتا ورنہ یہاں گدھا گاڑی کے علاوہ کسی قسم کی سواری نظر نہیں آتی تھی۔

خیر ایسا بھی نہیں کہ پورے بہار کالونی میں کوئی موٹر کار وغیرہ نہیں تھی۔ ایک تو ہمارے گھر کے سامنے ہی “ لڈن “ کے ابا کی موٹر تھی ( اور میری یادداشت کے مطابق پورے علاقے کی واحد موٹر کار تھی) ۔ لڈن وغیرہ امروہے کے سادات تھے اور ان کے گھر کے برابر شاید ان کا بسکٹوں کا کارخانہ تھا۔ لڈن کے ابا شکاری سوٹ لانگ شوز اور سولا ہیٹ پہنے جب شکار پر جاتے یا کبھی موٹر میں سامان لاد کر بازار لے جایا جاتا تو موٹر کو اسٹارٹ کرنا ایک دلچسپ مرحلہ ہوتا اور ہم بچے اسے بڑی دلچسپی سےدیکھا کرتے۔ 

یہ موٹر ہینڈل کے ذریعے اسٹارٹ کیا جاتا تھا۔ آج کی نسل کو یہ سمجھانا ذرا مشکل ہوگا کہ سیلف اسٹارٹ سے پہلے کس طرح ہینڈل سے موٹر کار، ٹرک اور بسیں اسٹارٹ کی جاتی تھیں۔ موٹر کو تیار کرنا لڈن کے مجن ماموں کی ذمہ داری ہوتی تھی اور یہ کبھی کبھار ہی ہینڈل سے اسٹارٹ ہوتی۔ زیادہ تر ہم بچے ہی اسے دھکا دے کر اسٹارٹ کرتے اور ہمارا محنتانہ وہ “ چڈی” ہوتی جو ہمیں موٹر گھر واپس لانے تک ، کھانے کو ملتی۔

اماں کے بعد مجھے کچھ دنوں کے لیے جامع مسجد بھیجا جانے لگا، جہاں یسرناالقرآن کے علاوہ اردو قاعدہ اور گنتی وغیرہ بھی سکھائی جاتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اسکول میں داخل ہونے تک میں تقریباً اردو پڑھنا سیکھ گیا تھا۔

ہمارے گھر میں کوکنی بولی جاتی تھی اور کوکنی میں حفظ مراتب کے لیے آپ جناب جیسے الفاظ نہیں ہیں اور ہم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے کو ، تو ، کہہ کر مخاطب کرتے۔ لیکن کانپور کے پڑوسیوں کی وجہ سے ہمیں نہ صرف اپنے برابر والوں کو تم اور بڑوں کو آپ بلکہ خود کو بھی ، ہم، کہنے کی عادت پڑگئی۔ بھیا اور ریاض کی دوستی ہی تھی کہ ہماری اردو دیگر کوکنیوں کے مقابلے میں بہت اچھی تھی اور ہم اہل زبان کی طرح ہی بولتے تھے۔

اب مرحلہ تھا ہمارے اسکول کے داخلے کا ۔ گھر کے پیچھے ہی کچھ دور گورنمنٹ اسکول کی عمارت تھی، جہاں میں باجی کے ساتھ داخلہ لینے گیا تو پتہ چلا کہ یہ لڑکیوں کا اسکول ہے، چنانچہ مجھے واپس لے آئے اور باجی کی پڑھائی شروع ہوگئی۔ میں بدستور مسجد جاتا رہا۔

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ وہ کون سا مہینہ تھا لیکن یہ ایک چمکیلی سی صبح تھی جب میں پہلی بار اسکول گیا ۔ ہم ، کچی پہلی، کے بچوں کو ٹاٹ پر بٹھایا گیا تھا۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ جب ہم دعا ( اسمبلی) کے لیے اسکول کے میدان میں جمع ہوئے تو ہیڈماسٹر صاحب دیر سے آنے والے بڑے لڑکوں کے ہاتھ پر کرکٹ کی اسٹمپ ( وکٹ) سے سزا دے رہے تھے۔ اس کی ہیبت کچھ ایسی بیٹھی کہ ماں جب صبح اسکول کے لیے اٹھاتی تو پہلی ہی آواز پر اٹھ جاتا اور سحر خیزی کی عادت تب سے اب تک ہے۔

گورنمنٹ اسکول لیاری ندی کے عین مقابل تھا۔ اسکول اور ندی کے بند کے درمیان ایک سڑک تھی جو غالبا آدم خان درا روڈ تھی اور شاید آگرہ تاج اور ماری پور تک جاتی تھی۔

اسکول کی یاد کے ساتھ ہی دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوگئے۔ آج سرکاری اسکول تو کہیں نظر ہی نہیں آتے اور پرائیویٹ اسکولوں میں بھی وہ سہولیات نہیں جو کبھی سرکاری اسکولوں میں ہوتی تھی۔ ان پیلے اسکو لوں میں داخلہ باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ کوتوال بلڈنگ اسکول، گورنمنٹ اسکول ناظم آباد، گورنمنٹ اسکول کلیٹن روڈ، جہانگیر روڈ اور دوسرے کئی گورنمنٹ اسکولوں سے بہترین طالبعلم، کھلاڑی اور فنکار میرے شہر اور ملک کو ملے۔

ہمارے اسکول میں صرف پہلی کلاس ٹاٹ پر بیٹھنا پڑا۔ بعد میں سب جماعتوں میں بہترین فرنیچر آگیا۔ اسکول کے میدان میں والی بال کا نیٹ لگا ہوا تھا۔ برآمدے میں ایک جگہ ہرے رنگ کی ایک بڑی سی میز تھی جو مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیبل ٹینس کی ٹیبل تھی۔ اسٹاف روم کے ساتھ ایک کمرے میں بہت ساری بندوقیں سنگینوں کے ساتھ تھیں جو اسکاؤٹس کے لیے تھیں۔ آج کتنے اسکولوں میں ٹیبل ٹینس، کھیل کے میدان اور اسکاؤٹ وغیرہ ہیں۔

لیاری ندی جسے کچھ لوگ دریائے لیاری بھی کہتے ہیں نہ تو ندی تھی نہ دریا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کراچی میں ایک اور دریائے ملیر ہے۔ یہ دراصل برساتی نالہ کہا جاسکتا ہے، جہاں بارش کے بعد کا پانی کیچڑ کی صورت موجود رہتا۔ یہ اتنا بے ضرور دریا تھا کہ کناروں پر لوگوں نے گھر بنا لیے تھے جو شاید آج بھی موجود ہیں ۔ لیکن برساتی پانی کی گذرگاہ ہونے کی وجہ سے شدید برساتوں میں یہ ندی بپھر جاتی تھی اور اسی ندی میں ایک سال ایسا شدید سیلاب آیا کہ سارے بند ٹوٹ گئے اور شاید کراچی کی تاریخ میں اتنا تباہ کن سیلاب الحمدللّٰہ اس کے بعد کبھی نہیں آیا۔

لیاری ندی کے سیلاب کی کہانی کچھ لمبی ہے ،چنانچہ ان شاء اللہ اگلی قسط میں۔

کولاچی کراچی سے مزید