آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیریئر میں ترقی کیلئے لازمی مہارتیں

چاہے آپ حال ہی میں گریجویٹ ہوئے ہیں اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے لیے پَرتول رہے ہیں یا آپ ایک ’مڈ-کیریئر‘ پروفیشنل ہیں اور اپنی اگلی ترقی کے لیے مواقع کی تلاش میں ہیں، ایک سوال آپ کے ذہن میں ضرور ہوگا: وہ کون سی بنیادی مہارتیں ہیں، جو آپ کو کیریئر کی اگلی منزل تک لے جاسکتی ہیں؟

بلاشبہ، آپ کا تعلق جس انڈسٹری سے بھی ہو، آپ کو اس کے لیے ضروری ’بنیادی مہارتیں‘ حاصل کرنا ہوںگی، تاہم کیریئر میں ترقی کے لیے ’سوفٹ اِسکلز‘ بھی مساوی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آپ دفتر میں کس طرح کام کرتے ہیں اور اپنے دفتری ساتھیوں کے ساتھ کس طرح گفت و شنید کرتے ہیں؟ یہ وہ مہارتیں ہیں، جنھیں ’سوفٹ اِسکلز‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ مہارتیں کلاس روم میں نہیں سِکھائی جاتیں، حالانکہ ان کے بغیر عملی زندگی میں کامیابی آسان نہیں ہوتی۔ 

مزید برآں، عالمگیریت کے زیرِ سایہ، کام کرنے کے تیزی سے بدلتے اندازواطوار کے پیشِ نظر، کام کی جگہوں یا دفاتر میں ’سوفٹ اِسکلز‘ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، جو آپ کو مستقبل کی ’جاب مارکیٹ‘ کے لیے ’تیار‘ اور ’موزوں‘ بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے کیریئر میں تیز تر ترقی کے خواہش مند ہیں، تو آپ کو اپنے اندر درج ذیل مہارتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

سیکھنے کی صلاحیت

اگر آپ کے اندر سیکھتے رہنے کی صلاحیت اور جذبہ موجود ہے تو آپ 21ویں صدی میں کامیابی کے لیے اہم ترین ’سوفٹ اِسکل‘ کے حامل ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں، ’21ویں صدی میں اس شخص کو ناخواندہ نہیں کہا جائے گا جوپڑھ اور لکھ نہیں سکتا بلکہ وہ شخص اس سے بڑا جاہل کہلائے گا جو سیکھنا، سیکھ کر بھول جانا اور پھر دوبارہ سیکھنا نہیں جانتا‘۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ 21ویں صدی میں نئے ہنر جس تیزی سے اُبھر کر سامنے آرہے ہیں، اتنی ہی تیزی سے وہ اپنی افادیت بھی کھو رہے ہیں۔ ایسے میں کامیابی کا دارومدار آپ کی موجودہ صلاحیتوں سے زیادہ آپ کی نئی مہارتیں سیکھنے کی استعداد پر ہوتا ہے ، تاکہ آپ نئی معلومات اور نئی مہارتوں کا استعمال کرتے ہوئے کام کی بدلتی ضروریات پوری کرسکیں۔

قوتِ مزاحمت

دھچکے اور ناکامیاں زندگی کا حصہ ہیں لیکن آپ جس طرح ان سے نمٹتے ہیں، آپ کی ناکامی یا کامیابی کا تعین اسی سے ہوتا ہے۔ قوتِ مزاحمت کا مطلب، رکاوٹوں اور ناکامیوں کے بعد آپ کے اندر دوبارہ اُٹھ کھڑا ہونے یا دوبارہ کوشش کرنے کی اہلیت کا ہونا ہے۔ 

کچھ لوگ ایک بار کی ناکامی کے بعد ہی زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں لیکن جب آپ کی شخصیت اور ارادے میں قوتِ مزاحمت ہوتی ہے تو پھر آپ راستے کے سفر کی اونچ نیچ کو نظرانداز کرتے ہوئے یا اسے عارضی سمجھتے ہوئے، اپنی توجہ منزل پر مرکوز رکھتے ہیں اور وہاں پہنچ کر دم لیتے ہیں۔

تحریری ابلاغ

ہم ٹوئٹس اور آڈیو پیغامات کے دور میں رہتے ہیں، تاہم جہاں بات کیریئر کی آئے، مؤثر تحریر کرنے کی مہارت اب بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ چاہے پروفیشنل ای میل کرنی ہو، کسی کلائنٹ سے رابطے میں رہنا ہو یا کسی کو مربوط ’بزنس پلان‘ پیش کرنا ہو، بروقت، دُرست اور مؤثر انداز میں تحریری ابلاغ کی صلاحیت آپ کی ترقی کیلئے ناگزیر بن جاتی ہے۔

خوش گفتار ابلاغ

کیریئر میں ترقی محض اس بنیاد پر نہیں مل سکتی کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔ آپ کا تعلق چاہے کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو، کبھی نہ کبھی ایسا موقع ضرورت آتا ہے، جب آپ کو اپنے خوش گفتار ابلاغ کی مضبوط مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تصورات، مصنوعات یا خدمات دوسروں کو فروخت یا پیش کرنا پڑتی ہیں۔ 

چاہے آپ کو ترقی کیلئے اپنا میرٹ ثابت کرنا ہو، ٹیم ممبر کے طور پر پروجیکٹ پیش کرنا ہو یا اسٹیج پر بات کرنی ہو، آپ کے اندر اپنے تصورات واضح اور مضبوط انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کا ہونا لازمی ہے۔

سُبک مزاجی

’جاب مارکیٹ‘اور کام کرنے کے انداز جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس کے پیشِ نظر سبک مزاج اور پُھرتیلا ہونا ایک زبردست ’سوفٹ اِسکل‘ ہے، جو 21ویں صدی میں کامیابی کے لیے اہم ہے۔ گزشتہ کل کے طور طریقے آنے والے کل کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔ 

آپ کے اندر اپنے کام اور کام کی جگہ کی بدلتی ضروریات کے مطابق، سُبک رفتاری کے ساتھ نئی مہارت حاصل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے تاکہ کوئی اور آپ کی جگہ نہ لے سکے یا کسی مہارت کی عدم موجودگی آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

ہم آہنگی

دوسروں کے ساتھ نیت کی سچائی اور حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنا اہم ہوتا ہے، کیونکہ جب آپ کسی پروجیکٹ پر دوسروں کے ساتھ اختلاف رائے رکھتے ہیں، اس وقت بھی آپ کی ہم آہنگی کی خصوصیت آپ کو یہ صلاحیت بخشتی ہے کہ آپ دوسروں کی بات کو سُننے اور سمجھنے کی کوشش کریں اور یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ انھیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔

تعلیم سے مزید