آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کچھ نصف النہار پر رہے، تو بہت سے اُفق پار اُتر گئے

2019ء کا سورج کسی کو عروج بخشتے، تو کسی کو زوال کی جانب دھکیلتے غروب ہوگیا۔ سال کے دوران کچھ افراد خبروں میں بہت اِن رہے، تو کچھ آئوٹ ہوگئے۔ کئی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے، تو کچھ تائب بھی ہوگئے۔ اِیسا ہی کچھ باقی شعبوں میں بھی دیکھنے میں آیا۔ کئی نئے چہروں نے اپنا سکّہ جمایا، تو بہت سے پُرانے چہرے گم نام ٹھہرے۔ کئی معاملات، مسائل خبروں کا حصّہ بنے، تو کچھ اخبارات سے نکل گئے۔آئیے! ذرا دیکھیں تو سہی، سالِ گزشتہ کس کے لیے کیسا رہا؟

جسٹس آصف کھوسہ اِن، جسٹس ثاقب نثار آؤٹ

2019ء کے آغاز ہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ خبروں میں اِن ہوگئے، جب اُنہوں نے جنوری میں چیف جسٹس آف پاکستان کا عُہدہ سنبھالا۔ وہ 2010ء سے سپریم کورٹ کے جج چلے آرہے تھے۔ جسٹس کھوسہ، سابق چیف جسٹس، نسیم حسن شاہ کے داماد اور سابق وفاقی سیکرٹری، ناصر محمود کھوسہ کے بھائی ہیں۔ 

ڈیڑہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے جسٹس آصف کھوسہ نومبر 2019ء میں اُس وقت شہہ سُرخیوں میں آئے، جب وزیرِ اعظم، عمران خان نے نواز شریف کے مُلک سے باہر جانے کے عدالتی فیصلے پر تنقید کی اور جواباً کسٹس آصف کھوسہ نے سخت موقف اپنایا۔ اس کے بعد جب آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ عدالت میں زیرِ غور آیا، تو بھی اس اہم عدالتی مقدمے کے دَوران مُلکی سیاسی صُورتِ حال خاصی ہنگامہ خیز رہی۔ 

جب کہ مدّتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹی فکیشن میں بار بار غلطیوں کی وجہ سے حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس ثاقب نثار، جو پچھلے سال مُلکی منظر نامے پر چھائے ہوئے تھے، اس برس آئوٹ ہوگئے اور بیش تر افراد کو تو یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہیں کہاں؟ 

جسٹس ثاقب نثار کے خبروں میں اِن رہنے کی ایک بڑی وجہ اُن کے ازخود نوٹسز تھے، جب کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے چندہ مہم سے بھی اُنھوں نے خاصی شہرت پائی۔ چیف جسٹس کے عُہدے سے فراغت کے بعد اسی حوالے سے عوامی حلقوں میں اُن سے متعلق کئی دِل چسپ جملے گردش میں رہے، جنھوں نے ثاقب نثار کو کسی حد تک اِن بھی رکھا۔

مریم نواز اِن، نواز شریف آؤٹ

سابق وزیرِ اعظم، میاں محمّد نواز شریف گزشتہ برس اسپتال اور جیل آتے جاتے رہے۔ بعدازاں، عدالت کے حکم پر علاج ہی کے غرض سے مُلک سے باہر چلے گئے۔ اُنھیں 2017ء میں سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم کے عُہدے کے لیے نااہل قرار دے کر دس سال قید کی سزا سُنائی۔ گرفتار ہوئے، ضمانت ملی، پھر گرفتار ہوئے اور دوبارہ ضمانت پر باہر آگئے۔ 2019ء میں شدید بیماری کی وجہ سے مسلسل خبروں میں اِن رہے۔ 

مگر جب بیماری زیادہ بڑھی، تو اُنہیں پہلے اسپتال اور پھر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مُلک سے باہر بھیج دیا گیا۔اس سے قبل حکومت اور شریف خاندان کے درمیان طویل اعصابی جنگ لڑی گئی، جسے بالآخر عدالتی فیصلے نے انجام تک پہنچایا۔ 2019ء کے آخر تک وہ خبروں سے تقریباً آئوٹ ہو چُکے تھے، جب کہ اُن کی بیٹی، مریم نواز کئی لحاظ سے خبروں میں اِن رہیں۔ چھیالیس سالہ مریم کا بھی گزشتہ برس جیل میں’’ اِن‘‘ اور ضمانت پر’’ آؤٹ‘‘ ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔

فردوس عاشق اعوان اِن،فوّاد چوہدری آؤٹ

وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات، فردوس عاشق اعوان اپریل 2019ء کے بعد تقریباً روزانہ خبروں میں اِن رہیں۔ وہ تحریکِ انصاف کا ایک نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئیں۔ گو کہ وہ شعبۂ طب سے منسلک ہیں، مگر پچھلے تیس سال سے سیاست ہی کررہی ہیں۔2002ء میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پر رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں، پھر 2008ء میں سیال کوٹ ہی سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر بہبودِ آبادی کی وفاقی وزیر بنیں۔ 2017ء میں تحریکِ انصاف میں آنے کے بعد انتخاب ہار گئیں، مگر اِسے اُن کی خوش قسمتی کہیے کہ اُنہیں معاونِ خصوصی کے طور پر اِن رہنے کے بھرپور مواقع مل رہے ہیں۔جب کہ اُن کے مقابلے میں فوّاد چوہدری تقریباً آؤٹ ہوگئے۔ 

گوکہ وہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہیں، مگر پہلے اُنھیں وزیرِ اطلاعات کے طور پر خبروں میں اِن رہنے کا زیادہ موقع ملتا تھا۔ اُن کا سیاسی سفر بھی خاصا دِل چسپ ہے۔ اس سے قبل بھی دو وزرائے اعظم، یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کی کابینہ میں رہ چُکے ہیں، مگر اُس وقت معاونِ خصوصی تھے اور اب وفاقی وزیر ہیں۔ کئی برس جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے میڈیا کوآرڈی نیٹر رہنے کے بعد 2012ء میں پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے، بعدازاں، 2016ء میں تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی۔اُنھیں وزارتِ اطلاعات سے آؤٹ کرکے فردوس عاشق اعوان کو یہ عُہدہ دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان اِن، خادم رضوی آؤٹ

جے یو آئی کے سربراہ، مولانا فضل الرحمٰن 2019ء کے آخر میں کسی طوفان کی طرح سیاسی منظر نامے پر اُبھرے۔ گوکہ وہ روزِ اوّل سے 2018ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے آرہے تھے اور حکومت گرانے کے لیے اسلام آباد کا رُخ کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے، مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا ہجوم لے کر اسلام آباد میں اِن ہوجائیں گے۔ اُنہوں نے اپنے حامیوں کی بڑی تعداد جمع کی اور اسلام آباد کے پشاور موڑ پر دھرنا دے دیا۔ شروع میں تو اُن کا وزیرِ اعظم، عمران خان کے استعفے پر اصرار رہا، مگر پھر اُنہوں نے اپنے مطالبے میں کچھ نرمی دِکھائی اور اعلانیہ، غیر اعلانیہ مذاکرات شروع کر دئیے۔

حکومتی اتحادی جماعت، مسلم لیگ قاف کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی، چوہدری پرویز الہٰی سے مولانا کے، جب کہ وزیرِ دفاع، پرویز خٹک کی قیادت میں قائم حکومتی کمیٹی سے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے مذاکرات ہوئے۔ تاہم، مولانا فضل الرحمٰن کسی واضح کام یابی کے حصول کے بغیر ہی پلان بی کا اعلان کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔اس کے برعکس، 2018 ء میں تحریک لبّیک پاکستان کے سربراہ، مولانا خادم رضوی کا دھرنا کئی لحاظ سے کام یاب رہا تھا، مگر وہ 2019ء میں خبروں سے آؤٹ ہوگئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اِن، جسٹس شوکت عزیز صدیقی آؤٹ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جو 2014ء سے سپریم کورٹ کے جج ہیں، 2019ء میں خبروں میں اِن رہے کہ اُن کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا اور پھر سپریم جوڈیشل کاؤنسل نے سماعت بھی شروع کردی۔ جسٹس فائز کے والد، قاضی محمّد عیسیٰ بانیٔ پاکستان، قائدِ اعظم محمّد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے۔ جسٹس فائز عیسیٰ 2009ء سے 2014ء تک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چُکے ہیں۔ 

اُنہوں نے 2016ء کے کوئٹہ بم دھماکے میں درجنوں وکلا کی ہلاکت کی تفتیش کے لیے ایک رُکنی عدالتی کمیشن بنایا تھا، جس کی رپورٹ میں جسٹس فائز نے بعض اداروں کی ناکامی اور میڈیا کے منفی کردار کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی گزشتہ برس خبروں سے آئوٹ رہے، حالاں کہ 2018ء میں خاصے اِن تھے۔ اُنہوں نے اسلام آباد دھرنے سے متعلق بعض ریمارکس دئیے تھے، جس کی بنا پر اُنھیں ادارہ جاتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر 2018ء میں اُنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عُہدے سے ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کاؤنسل نے کارروائی کی تھی۔

اسد عُمر اِن، خسرو بختیار آؤٹ

خسرو بختیار جب تک وزیرِ منصوبہ بندی رہے، خبروں میں بھی اِن رہے، مگر نومبر 2019ء میں اُنہیں اس وزارت سے ہٹا کر وزیر فوڈ سیکوریٹی بنایا گیا، تو نسبتاً آؤٹ ہوگئے۔ 50 سالہ خسرو بختیار بمشکل سوا سال وزیرِ منصوبہ بندی رہے۔ یہ بھی فردوس عاشق اعوان اور فوّاد چوہدری کی طرح کئی جماعتیں بدل کر تحریکِ انصاف تک پہنچے۔ موصوف جنرل پرویز مشرّف کے دَور میں وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ رہ چُکے ہیں۔ 

اس سے قبل 1997ء سے 1999ء تک نواز شریف کی دوسری حکومت میں پنجاب اسمبلی کے رُکن تھے ،مگر مشرف حکومت آنے کے بعد جماعت بدل کر قاف لیگ میں شامل ہوگئے۔ 2013ء میں دوبارہ نون لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 2016ء سے تحریکِ انصاف میں ہیں۔ اسد عُمر 2013ء سے رُکن قومی اسمبلی چلے آرہے ہیں اور وزیر منصوبہ بندی کے طور پر دوبارہ خبروں میں اِن ہوئے ہیں۔ اس سے قبل آٹھ ماہ وزیرِ خزانہ رہے، جس کے دوران بدتر معاشی حالات کے سبب شدید تنقید کا بھی نشانہ بنے۔

بابر اعظم اِن، سرفراز احمد آؤٹ

لاہور کے پچیس سالہ بابر اعظم اچانک 2019ء میں خبروں میں اِس طرح اِن ہوئے کہ سب حیران رہ گئے۔ بابر اعظم اِن دنوں پاکستان کی ٹی-20 کرکٹ ٹیم کے کپتان اور ایک روزہ انٹرنیشنل ٹیم کے نائب کپتان ہیں۔ گوکہ آسٹریلیا کے حالیہ دورے میں پاکستانی ٹیم بُری طرح ہار گئی، مگر بابر اعظم نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ستانوے رنز کی شان دار اننگ کھیلی۔ 

اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری بھی بنائی تھی۔ بابر اعظم اس لیے بھی خبروں میں اِن رہے کہ ٹی-20 کے کپتان بننے کے بعد میچز میں اُن کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔ آسٹریلیا میں بھی پاکستان اُن کی کپتانی میں ٹی-20 میچ ہار گیا۔ 

اُن کے مقابلے میں سرفراز احمد،جو پچھلے سال خبروں میں چھائے ہوئے تھے، 2019ء میں منظر نامے سے آؤٹ ہوگئے۔ اُنہیں جنوری 2019ء میں جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ کے بعد کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کِھلایا گیا، حالاں کہ اُس میچ میں بھی سرفراز پچاس رنز بناکر سرِفہرست تھے ۔ تاہم،پاکستان ایک سو سات رنزز سے ہار گیا تھا، شاید سرفراز کو اسی کی سزا دی گئی۔

حمزہ علی عباسی اِن، ایّان علی آؤٹ

ماڈل ایّان علی 2019ء میں خبروں سے تقریباً آؤٹ رہیں۔ وہ گزشتہ دس برس سے ماڈلنگ کررہی ہیں، اس لیے کسی نہ کسی شکل میں خبروں میں اِن رہتیں، مگر 2019ء میں ایسا نہیں ہوا۔ دراصل، 2015ء کے بعد سے ایان علی کے خبروں میں اِن رہنے کی نوعیت خاصی مختلف رہی، جو ماڈلنگ کی بجائے منی لانڈرنگ تھی۔ اُنہیں 2015ء میں اسلام آباد کے ہوائی اڈّے سے ائیر پورٹ سکیوریٹی فورس کے اہل کاروں نے مَنی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 

اُن پر الزام تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر پانچ لاکھ ڈالرز دبئی لے جارہی تھیں۔ بعدازاں، اگلے دو تین سال اسی حوالے سے خبروں کی زینت بنتی رہیں، مگر 2019ء میں اُن کے حوالے سے خاموشی چھا گئی۔ اُن کے مقابلے میں حمزہ علی عباسی، جنھیں اب سابقہ فلم اور ٹی وی اداکار کہنا زیادہ مناسب ہوگا، مختلف حوالوں سے خبروں میں مسلسل جگہ بناتے رہے۔ 

سنڈے میگزین سے مزید