• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسنوکر کا عالمی اعزاز، ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی، ہاکی سے مایوسی

ہمارا المیہ یہ ہے کہ کھیلوں کے حوالے سے بیش تر صاحبِ اختیار ماضی کی یادوں سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں یا پھر مستقبل میں آسمان سے تارے توڑ لانے کے خواب دکھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ’’حال‘‘ میں کوئی نہیں جیتا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ہر کھیل میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کُن نظر آرہی ہے۔ ملک میں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اسکواش سمیت دیگر کھیل اگر زوال پذیر نہیں، تو حالت کچھ بہتر بھی نہیں۔ قوم کا پسندیدہ ترین کھیل ’’کرکٹ‘‘ ہے۔ ’’ورلڈ کپ‘‘ ہو یا کسی بڑی ٹیم کے ساتھ باہمی سیریز، قوم یک جا ہوجاتی ہے، لیکن شدید مایوسی کا سامنا اُس وقت ہوتا ہے، جب کھلاڑیوں کے انتخاب میں میرٹ کا قتلِ عام ہو اور پسند، نا پسند کی بنیاد پر ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

سال 2019ء میں کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا گیا، اسنوکر (آئی بی ایس ایف) ورلڈ چیمپئن شپ ہوئی۔ ہاکی سمیت کئی کھیلوں کے لیے اولمپکس کوالیفائنگ مرحلہ ہوا، شوٹنگ اور ایتھلیٹکس میں فتوحات ملیں، اسنوکر کا عالمی اعزاز ایک بار پھر پاکستان آیا، لیکن موضوعِ بحث بنا، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کا انتہائی بھونڈے طریقے سے ٹیم سے اخراج۔ تاہم، کرکٹ کے حوالے سے اہلِ وطن کے لیے سب سے بڑی خبر ملک میں ’’ٹیسٹ کرکٹ‘‘کی واپسی ٓرہی۔ دس سال پہلے لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردحملے کے بعد سے جو دروازہ بند ہوا تھا، وہ سری لنکن کرکٹ ٹیم ہی کی آمد سے دوبارہ کُھل گیا۔ 

یقیناً سری لنکن کرکٹ بورڈ اور ٹیم کے کھلاڑیوں کا یہ بہت بڑا فیصلہ تھا۔ ویسے تو اس دوران کئی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا، سیریز بھی کھیلیں، لیکن کسی بھی ٹیسٹ ٹیم کا یہ 2009ء کے بعد پہلا دورہ تھا۔ آئی سی سی کی ورلڈ الیون، فاف ڈوپلیسی کی قیادت میں پاکستان آئی۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی گئی، زمبابوے، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں نے بھی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا، لیکن ملک میں کرکٹ کی مکمل بحالی میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کی صورت جو کسر رہ گئی تھی، وہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کی آمد سے پوری ہوگئی۔

جب ستمبر، اکتوبر 2019ء میں سری لنکا کی ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے پاکستان آئی، تو بہت سے لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا کہ دونوں ٹیموں میں سری لنکا کے صفِ اوّل کے کھلاڑی شامل نہیں۔ پھر ون ڈے سیریز میں پاکستان نے مہمانوں کو دو صفر سے بآسانی شکست دی، لیکن اسی سری لنکن ٹیم نے، جس کو ’’بی‘‘ ٹیم قرار دیا جارہا تھا، دنیا کی نمبر ون ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو آئوٹ کلاس کردیا اور اسی شکست کے سبب پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کے کام یاب ترین کپتان، سرفراز احمد سے نہ صرف کپتانی لے لی گئی، بلکہ انہیں ٹیم سے بھی ڈراپ کردیا گیا۔ یہ اقدام کتنا درست اور کتنا غلط تھا، اس کا فیصلہ وقت ضرور کرے گا۔ 

بہرحال، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کے حوالے سے گزشتہ سال کی حیرت انگیز بات یہی تھی کہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان اظہر علی کو بنایا گیا، جو اس سے پہلے مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ون ڈے ٹیم کی کپتانی کرچکے تھے، لیکن بنگلا دیش جیسی ٹیم کے ہاتھوں کلین سوئپ کی ہزیمت اٹھانے اور پھر انگلینڈ میں شکست کے بعد انہیں مجبوراً کپتانی چھوڑنی پڑی۔ 

یعنی ناکامی کے بعد انہیں پروموٹ کرکے ٹیسٹ کی قیادت دے دی گئی۔ ان کا پہلا ہی امتحان آسٹریلیا سے انہی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں ہوا۔ اس اہم ترین سیریز کے لیے، جو آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پہلی سیریز تھی، تجربہ کار کھلاڑیوں پر نوجوان باؤلرز نسیم شاہ، موسیٰ خان، کاشف بھٹی اور سلمان قادر کو ترجیح دی گئی۔

آسٹریلیا سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا، جب کہ بابر اعظم کی قیادت میں دو میچز میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مختصر دورانیے کی سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کا مرحلہ آیا، تو یہاں بھی پاکستانی ٹیم نے شدید مایوس کیا۔ دونوں ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی۔2019ء کرکٹ کے لیے اس لحاظ سے منفرد سال رہاکہ اس سال ’’ورلڈ کپ‘‘ منعقد ہوا۔ تاہم، اس سال کی انفرادیت کی وجہ صرف ورلڈ کپ کا انعقادہی نہیں، بلکہ اس کا انتہائی سنسنی خیز فائنل بھی تھا، جو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لندن میں کھیلا گیا۔

کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار کسی ون ڈے میچ میں ’’سُپر اوور کروایا گیا۔ 30مئی سے 14جولائی تک کھیلے گئے کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ میں دنیا کی دس بہترین ٹیموں نے شرکت کی، جن کے درمیان 48میچز کھیلے گئے۔ گروپ مرحلے میں پاکستان نے9میں سے 5میچز میں کام یابی حاصل کی۔ اسے بھارت، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی، جب کہ سری لنکا سے میچ بارش کی نذر ہوگیا۔ 

اور پھر یہ ایک پوائنٹ، بارش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بدترین شکست ہی پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کرگئے، کیوں کہ گروپ مرحلے کے اختتام پر بھارت 15، آسٹریلیا14 اور انگلینڈ 12 پوائنٹس حاصل کرکے سیمی فائنل میں پہنچے۔ البتہ چوتھی ٹیم نیوزی لینڈ کی رہی، جو پاکستان سے بہتر رن اوسط کی وجہ سے فائنل فور میں پہنچی اور سیمی فائنل میں بھارت کو شکست سے دوچار کرکے دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا، جہاں اس کا مقابلہ میزبان انگلینڈ سے ہوا، جس نے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی۔ورلڈ کپ 2019ء کے فائنل میچ کو شائقینِ کرکٹ مدتوں یاد رکھیں گے۔ پہلے پچاس اوور کے میچ میں نیوزی لینڈ نے 241 رنز بنائے اور پھر انگلینڈ کی ٹیم بھی 241رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی، میچ ٹائی ہوگیا۔ 

ٹورنامنٹ رولز کے مطابق فائنل کا فیصلہ ’’سُپر اوور‘‘ میں ہونا تھا۔ جس میں پہلے انگلینڈ نے بیٹنگ کی اور محض 15رنز بنائے، جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی 15رنز ہی بناسکی، یعنی سُپر اوور بھی ٹائی ہوگیا، لہٰذا چیمپئن کا فیصلہ میچ میں زیادہ بائونڈریز لگانے کی بنیاد پر ہوا اور انگلینڈ 17کے مقابلے میں 26بائونڈریز کی بنا پر پہلی بار ’’کرکٹ کا عالمی چیمپئن‘‘ بن گیا، لیکن اس کے ساتھ دنیائے کرکٹ میں ایک اور بحث شروع ہوگئی کہ عالمی چیمپئن کا فیصلہ سُپراوور یا بائونڈریز کی بنیاد پر کیوں کیا گیا۔

اب کچھ ذکر پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) جس کا چوتھا ایڈیشن بھی انتہائی کام یابی کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں مشترکہ طورپر ہوا۔ ایونٹ میں چھے ٹیموں کے درمیان 34میچز کھیلے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے 26میچز کی میزبانی کی، جب کہ آٹھ میچز کراچی میں کھیلے گئے۔ ایونٹ کے فائنل میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مدِمقابل آئیں۔ زلمی نے 8وکٹ پر 138رنز بنائے، لیکن کوئٹہ نے احمد شہزاد کی 58رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کی بدولت ہدف 18ویں اوور ہی میں حاصل کرلیا اور یوں کوئٹہ کی ٹیم پہلی بار پی ایس ایل چیمپئن بن گئی، جب کہ اس بار بھی لاہور قلندرز کا نمبر آخری رہا۔

اب جب کہ پاکستان سپر لیگ فائیو کے لیے پلیئرز ڈرافٹ کا مرحلہ مکمل ہوچکااور ٹیموں کی تشکیل ہوچکی ہے۔ شائقینِ کرکٹ کے لیے انتہائی دل چسپی کی بات یہ ہے کہ پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کے تمام میچز پاکستان کے چار شہروں کراچی، لاہور، راول پنڈی اور ملتان میں کھیلے جائیں گے اور انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور جنوبی افریقا سمیت دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی اس سال فروری، مارچ میں پاکستان میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔

گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین پہلا ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا، لیکن اس میچ کے ذریعےپاکستان کے اوپننگ بیٹسمین، عابد علی نے اپنا نام ہمیشہ کے لیے ریکارڈ بک میں درج کروالیاکہ وہ کرکٹ کی 150سالہ تاریخ میں ون ڈے کے بعد ٹیسٹ ڈیبیو میں بھی سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ امپائر، علیم ڈارنے سب سے زیادہ، 129ٹیسٹ میچز سپروائز کرکے بھی عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے ویسٹ انڈین اسٹیو بکنر کا 128ٹیسٹ کا عالمی ریکارڈ توڑا۔ علیم ڈار 207ون ڈیز اور 46ٹی ٹو ئنٹی انٹرنیشنلز میں بھی امپائرنگ کرچکے ہیں۔

قومی کھیل، ہاکی سے سالِ گزشتہ بھی سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ مسلسل دوسری مرتبہ پاکستان ہاکی ٹیم ’’اولمپکس‘‘ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔ 1986ء کے ورلڈ کپ میں جب پاکستانی ٹیم 12ٹیموں میں گیارہویں نمبر پر آئی تھی، تو ٹیم مینجمنٹ اور فیڈریشن حکام پر شدید تنقید کی گئی،یہاں تک کہا گیا کہ ’’مُلک سے ہاکی کا جنازہ نکل گیا۔‘‘مگر اب تو یوں لگتا ہے کہ شاید قوم، ہاکی کے میدانوں سے شکست کی خبر کی عادی ہوگئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرنے پر بھی کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ٹوکیو اولمپکس تک رسائی کے لیے پاکستانی ہاکی ٹیم کو ’’پروہاکی لیگ‘‘ کھیلنا تھی، جس میں مبیّنہ طورپر مالی مشکلات کے باعث ہاکی فیڈریشن ٹیم کو شرکت کے لیے نہ بھیج سکی۔ جس پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی جانب سے پاکستان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ 

جرمانے کی پہلی قسط ادا کرنے پر ایف آئی ایچ کی جانب سے پاکستان کو اولمپک کوالیفائنگ مرحلے کے دو میچز کھیلنے کی اجازت دی گئی۔ مگر یہاں بھی قسمت کی خرابی کہ قرعہ ’’نیدرلینڈ‘‘ سے مقابلے کا نکلا۔ وہ نیدرلینڈ، جس کا عالمی رینکنگ میں تیسرا نمبر ہے، جب کہ پاکستانی ٹیم 17ویں پوزیشن پر تھی۔ بہرحال، نیدرلینڈ سے پہلا میچ 4-4گول سے برابر رہا، لیکن دوسرے میچ میں اس نے پاکستان کو 6-1سے ہرا کر ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کا خواب چکنا چُور کردیا۔

سال 2019ء میں ٹینس کورٹ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی، جو بعد میں ایک تنازع بن گئی۔ ڈیوس کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹائی کے لیے اسلام آباد کا انتخاب کیا گیا۔ ابھی اس ٹائی کے انعقاد میں تقریباً دو ماہ کا عرصہ باقی تھا کہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے پاک، بھارت مقابلہ نیوٹرل مقام، قازقستان میں کروانے کا اعلان کردیا۔ پاکستان ٹینس فیڈریشن نے اس اعلان کے خلاف انٹرنیشنل انڈیپنڈنٹ ٹریبونل میں اپیل کی، لیکن فیصلہ اس کے حق میں نہ ہوسکا، یعنی 55 سال بعد بھارتی ٹینس ٹیم کی پاکستان میں ڈیوس کپ ٹائی کھیلنے کے جو امکانات پیدا ہوئے تھے، وہ ختم ہوگئے، تو پاکستان ٹینس فیڈریشن نے جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم قازقستان بھیجی، جسے بھارت کے ہاتھوں شکست ہوگئی۔

پاکستان نے گزشتہ برس اگر کسی کھیل میں نمایاں کام یابی حاصل کی،تو وہ ’’اسنوکر‘‘ ہے۔ سال 2019ء میں بھی پاکستانی کیوسٹ، محمد آصف نے آئی بی ایس ایف ورلڈ چیمپئن شپ جیتی۔ ترکی کے شہر انتالیا میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں دنیا بھر کے امیچر اسنوکر پلیئرز نے شرکت کی۔ نومبر 2019ء میں ہونے والے ایونٹ کے فائنل میں محمد آصف کا مقابلہ فلپائن کے جیفری روڈ سے ہوا، جس میں محمد آصف نے آغاز ہی سے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں 5کے مقابلے میں 8فریم سے کام یابی حاصل کرکے دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

یاد رہے، پاکستان کے ایک اور کھلاڑی محمد یوسف بھی ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے میں کام یاب ہوچکے ہیں۔انہوںنے 1994ء میں جنوبی افریقا میں کھیلی گئی عالمی چیمپئن شپ جیتی تھی، جب کہ سال 2014ء میں پاکستان کے محمد سجادمحض ایک قدم کی دوری پر ہمّت ہارگئے تھے۔ جب بھارت میں ہونےوالی عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں انہیں سخت مقابلے کے بعد چینی کھلاڑی کے ہاتھوں 8-7فریم سے شکست ہوئی۔

پاکستان کے روایتی کھیل فنِ پہلوانی میں اگرچہ کئی بڑے نام اس دھرتی نے پیدا کیے، لیکن حالیہ برسوں میں نمایاں نام انعام بٹ کا نظر آتا ہے، جو دنیا کے کئی شہروں میں اپنی پہلوانی کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ انعام بٹ کی قابلِ ذکر کارکردگی دوحہ میں ہونے والے بیچ گیمز ہیں۔ انہوں نے 12تا 16اکتوبر ورلڈ بیچ گیمز میں مسلسل پانچ فائٹ جیت کر سونے کا تمغہ حاصل کیا، لیکن ان کے لیے بڑا مرحلہ ٹوکیو اولمپکس تک رسائی ہے، جس کا انحصار ایشین چیمپئن شپ اور اولمپک کوالیفائنگ رائونڈ میں کام یابی پر ہے۔ 

توقع ہے کہ وہ اس سال فروری میں بھارت میں ایشین چیمپئن شپ کے بعد مارچ اور اپریل میں بالترتیب چین اور بلغاریہ میں اولمپک کوالیفائنگ رائونڈ میں اچھے نتائج دے کر ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے اہل ہوجائیں گے۔علاوہ ازیں،گزشتہ برس کھیل کے میدان سے پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر یہ بھی رہی کہ سائوتھ ایشین گیمز میں قومی ایتھلیٹ، ارشد ندیم نے براہِ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرکے ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے کٹھمنڈو میں ہونے والےایشین گیمز میں جیولین تھرو کے مقابلوں میں شان دار کھیل پیش کرتے ہوئے 86.23میٹر دُور تھرو کرکے ایشین اور نیشنل گیمز میں نیا ریکارڈ بنایا ۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ بھارت کے پاس تھا، جو 83.23میٹر کا تھا۔ واضح رہے کہ ارشد ندیم نے سونے کا تمغہ جیتنے کے ساتھ ٹوکیو اولمپکس کے لیے بھی براہ راست کوالیفائی کرلیا ہے۔مزید برآں، ٹوکیو اولمپکس میں پہلی بار پاکستان کے تین شوٹرز نے بھی کوالیفائی کیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کے شوٹر اولمپکس میں شرکت تو کرچکے ہیں، لیکن وہ سب وائلڈ کارڈ کے تحت گئے، جب کہ اس بار 19سالہ گلفام جوزف نےایشین شوٹنگ چیمپئن شپ ، دوحہ میں بہترین نشانہ بازی کرکے اولمپک کوئر میں جگہ حاصل کی۔

تازہ ترین