آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’موسٰی کالونی‘ یہاں قدیم اور بڑا مچھلی بازار گزشتہ 50 سال سے قائم ہے

عمران سلیمان

جب کراچی کولاچی ہوا کرتا تھا تو موسٰی کالونی میں پان کے پرانے کھوکھوں اور بوسیدہ چائے کے ہوٹلوں میں محمد رفیع اور لتا جی کے پرانے نغمے اور مہدی حسن کی مدھر غزلیں متواتر سنائی دیتی تھیں۔ پہلے بھی یہاں رونق رہتی تھی اور آج بھی یہاں کی راتیں جاگتی ہیں۔ نوجوان بوڑھے سب ہی بیٹھے گپ شپ کررہے ہوتے ہیں۔ بچے کھیل کود میں مگن ، جگہ جگہ نوجوانوں کے ٹولے خوش گپیاں کرتے نظر آئیں گے بلکہ بزرگوں کے ساتھ تاش بھی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

موسیٰ کالونی میں ایک جھامو چوک جسے لوگ خواجہ غریب نواز چوک کے نام سے بھی جانتے ہیں، اس دور کی یاد دلاتا ہے جب لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ہجرت کے وقت اپنے گھر بار اور جان و مال کی قربانیاں دیں۔کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا۔ یوپی، دہلی، لکھنو اور حیدر آباد (دکن) سے آئے ہوئے لٹے پٹے لوگوں نے پاکستان کے دوسرے شہروں کی نسبت کراچی میں رہنے کو اس لئے ترجیح دی کہ یہاں کام کے مواقع زیادہ تھے۔

موسیٰ کالونی کا نام کس نے رکھا؟ یہ جاننے کے لئے ماضی کے چند اوراق پلٹنے ہوں گے۔ یہ 1969ء کا واقعہ ہے۔ ہندوستان سے لٹے پٹے ہزاروں مہاجرین گھرانے کراچی میں تین ہٹی کے پل پر جھگیاں ڈال کر اپنے شب و روز گزار رہے تھے۔ ایک دن ندی میں طغیانی آگئی، ساری جھگیاں بہہ گئیں اور وہاں آباد تمام خاندانوں کا سامان بھی بہہ گیا۔

جانی نقصانات بھی ہوئے۔ ریڈیو سے ہر ایک گھنٹہ کے بعد خبر نشر ہو رہی تھی۔ اس دوران جنرل موسیٰ جو کہ اس وقت سابق مغربی پاکستان کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے، انہوں نے اس خبر کا نوٹس لیا اور سندھ حکومت کی مدد سے مہاجرین کو تین ہٹی کے پل سے لاکر اس علاقے میں ان کی رہائش کا بندوبست کیا۔ سب بے یار و مددگار تھے۔

ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ جنرل موسیٰ نے یہاں کا دورہ کیا، ان کا ہیلی کاپٹر، جہاں اترا تھا وہاں اب اپوا کالج ہے۔ اس زمانے میں چٹیل میدان ہوتا تھا۔ لٹے پٹے مہاجرین بیٹھے تھے۔ جنرل موسیٰ نے اپنے خطاب میں انہیں تسلی دی۔ بعدازاں جب کالونی بن گئی تو لوگوں نے ازخود اس کا نام موسیٰ کالونی رکھ دیا۔

یہاں کی 40 فی صد آبادی کا تعلق بنگالی طبقے سےتھا۔ ایوب خان کے دور میں فیڈرل گورنمنٹ کی جانب سے رہائشی منصوبوں کے لئے فلیٹوں کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا۔ تب یہ علاقہ بھی فیڈرل بی ایریا میں شامل ہوگیا۔ مختلف علاقوں، زبانوں کے لوگ یہاں آباد ہیں۔ آج اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ 

تین ہٹی سے جب لوگ یہاں آکر آباد ہوئے اس وقت با مشکل 10 ہزار آبادی تھی۔ آج یہاں پکے مکانات ہیں، زیادہ تر لیز ہوگئے ہیں۔یہاں گجر نالہ ہے، جس کا پانی کبھی موتی کی طرح شفاف ہوتا تھا لیکن اب لوگوں نے اپنے گھروں کا کچرا اس میں پھینک پھینک کر اسے گندے نالے میں تبدیل کردیا ہے۔ موسیٰ کالونی میں پہلے بڑے بڑے کیکر اور بڈھ بیری کے درخت تھے۔ 

یہ بہت کھلا علاقہ تھا۔ لوگ اپنے مال مویشی یہاں باندھتے تھے۔ سب لوگ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں برابر شریک ہوتے تھے۔ کالونی آباد ہونے کے ابتدائی دور میں مکین اپنی تفریح کا سامان خود کرتے تھے۔ سب مل جل کر پردے پر فلم دیکھتے ،جسے دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے، بس پھر کیا تھا یہ سلسلہ چل پڑا جب بھی کسی کے ہاں شادی بیاہ یا بچے کی پیدائش ہوتی وہ اس خوشی میں پردے پر فلم ضرور چلواتا، جس کی وجہ سے یہاں کی رونقیں دوبالا ہوجاتی تھیں۔

وہ وقت ایسا تھا کے کسی دوسرے شہر سے پردیسی اگر فٹ پاتھ پر سوجاتا تو اس کا سامان اسی طرح موجود رہتا ،مگر آج تو لوگوں کی جان و مال ان کے اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں۔ آج اس کالونی کی حالت قابل دید ہے، یہاں کی بیش تر آبادی غربت سے دوچار ہے تعلیم کا بھی فقدان ہے گھر گھر کام کرنے والی ماسیوں کی اکثریت یہاں رہتی ہے۔

تاریخی اعتبار سے موسیٰ کالونی اصل میں تو 1971ء میں آباد ہونا شروع ہوئی، مگر یہ علاقہ بھی کراچی کی ان پرانی بستیوں میں شمار ہوتا ہے،اب یہاں ہر ذات پات اور رنگ و نسل کے لوگ آبادہوگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسیٰ کالونی کراچی کی سڑکوں پر پھرنے والے رکشہ، بس اور دیگر سواریوں کے لئے ایک جانی پہچانی جگہ ہے۔ 

یہاں کا مچھلی بازار بھی بہت مشہور ہے۔کراچی میں فیڈرل بی ایریا اور نارتھ ناظم آباد سے ملحقہ موسیٰ کالونی کا بازار کراچی کا قدیم اور بڑا مچھلی بازار ہے جو گزشتہ 50 سال سے قائم ہے، اس بازار میں 50 سے زائد چھوٹی دکانیں ہیں، جہاں مختلف اقسام کی مچھلیوں کے علاوہ جھینگے، کیکڑے اور لوبسٹر بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔

یہاں سمندری مچھلیوں کے علاوہ میٹھے پانی کی مچھلیاں بھی فروخت کی جاتی ہیں گہرے سمندر سے جال لگاکر پکڑی جانے والی مچھلیوں کے علاوہ شوقیہ شکاریوں کی پکڑی گئی مچھلیاں بھی اس بازار میں فروخت کی جاتی ہیں۔ موسیٰ کالونی کے بازار میں کراچی فش ہاربر سے یومیہ 5 سے 10گاڑیوں کے ذریعے مچھلیاں لائی جاتی ہیں شہر کے مختلف اور دوردراز علاقوں سے بھی گاہک اس روایتی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔

موسیٰ کالونی کے بازار میں مچھلیاں شہر کی نسبت کم قیمت پر ملتی ہیں جو معیار میں بھی بہتر ہوتی ہیں اسی لیے شہریوں کی اکثریت اس بازار سے مچھلیاں خریدنے کو ترجیح دیتی ہے وسیٰ کالونی کے بازار سے عام شہریوں کے علاوہ مچھلی فرائی کر کے فروخت کرنے والے دکاندار، ریستوران مالکان اور کیٹرنگ سروس کا کام کرنے والے بھی مچھلیاں خریدتے ہیں۔

یہاں یومیہ 6 ٹن مچھلی فروخت کی جاتی ہے پورے شہر کے علاوہ شہر کے باہر سے بھی خریدار مچھلی خریدنے موسیٰ کالونی آتے ہیں کراچی میں زیادہ تر سرمئی، دھوتر، ہیرا، روہو، پلہ، کند اور پاپلیٹ مچھلی خریدی جاتی ہے۔

کولاچی کراچی سے مزید