آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایران، امریکہ حالیہ کشیدگی سے عالمی منڈی میں بے چینی

لندن : فلپ جور جیاڈیس

پیر کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان رہا جبکہ خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافے کے بعد دوسرے روز بھی مارکیٹوں کو دھچکا لگا۔

خطرے سے دوچار اثاثوں کا باہر نکالنے کا اقدام اس وقت سامنے آیا جب سرمایہ کار ایران کے سینئر کمانڈر کی شہادت پر ایرانی ردعمل کے منتظر تھے، اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر اس نے جمعہ کو بغداد میں ہونے والے قتل کے بدلے میں امریکی افواج کو باہر نکالا توعراق پر ایسی پابندیاں عائد کی جائیںگی، جن کا اس نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا ہوگا ۔

یورپی اور ایشیائی ایکوئٹی مارکیٹس میں مندی رہی، جامع اسٹکس یورپ 600 میں صبح کے وقت کاروبار میں 2.1 فیصد کمی واقع ہوئی۔جاپان کی نک نے سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا کیونکہ چھٹیوں کے بعد آن لائن واپسی کے بعد اس میں 9.1 فیصد گرگیا ۔ اکتوبر کے آغاز سے ایک دن میں یہ اس کی سب سے تیز ترین کمی ہے۔

ایس اینڈ پی 500 فیوچر پورا دن نیچے کی جانب جاتا رہا،جب وال اسٹریٹ کھولا گیا اس نے 7.0 فیصد کی کمی کی جانب اشارہ دیا۔

خام تیل کی قیمتیں تین ماہ کی بلند سطح پر پہنچ گئیں جب 2 فیصد اضافے کے جھٹکے سے تیل کی قیمت فی بیرل 71 ڈالر سے زائد ہوگئی،جو گزشتہ سال سعودی آئل تنصیبات پر حملے کے بعد سے ان کی بلند ترین قیمت ہے۔ جمعہ کو امریکی فضائی حملے کے بعد سے برینٹ کی قیمتوں میں مزید 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گولڈ مین ساکس اور یو بی ایس دونوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پھر بھی کشیدگی ،جس میں فراہمی کی اصل رکاوٹیں شامل ہیں،میں کسی نمایاں اضافے کے بغیر تیل کی قیمتیں گر کر دوبارہ پرانی حالت میں آسکتی ہیں، اور تجویز دی کہ جغرافیائی سیاسی بحران کے خلاف سونابہتررکاوٹ ثابت ہوگا۔

غیریقینی صورتحال کے دوران مشکل میں کام آنے والا سونا 1575 ڈالر فی اونس تک پہنچ کر تقریباََ سات سال کی بلندی کو چھوگیا۔

یوبی ایس ویلتھ مینجمنٹ کے مارک ہیفیل نے کہا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے جغرافیائی سیاسی واقعات غیر متوقع ہیں،تاہم کشیدگی میں اضافے کے گزشتہ ادوار سے پتا چلتا ہے کہ بڑی منڈیوں پر پڑنے والےاثرات کا رجحان قلیل المدتی رہا ہے۔

شکاگو بورڈ آپشن ایکسچینج کے انڈیکس کا اتار چڑھاؤ، یا وکز 13 فیصد اضافے سے 86.15 پر آگیا، تاہم ابھی بھی یہ اس کے طویل المدتی اوسط 20 سے نیچے ہے۔

ہفتے کے آخر میں واشنگٹن اور تہران کے تعلقات مزید خراب ہوئے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے قاسم سلیمانی کے قتل کی جوابی کارروائی کی تو اس پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ کیا جائے گا۔بڑھتے ہوئے جارحانہ ٹوئٹس کے ایک سلسلے میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران نے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا تو وہ شاید ایرانی حملے کے تناسب سے بڑھ کر جواب دیں گے۔

ڈوئچے بینک کے تذویرکار جم ریڈ نے کہا کہ ہمیں یہ انتظار کررہے ہیں کہ اگر ہمیں ایران کی جانب سے کوئی جارحانہ جواب ملتا ہے تو کیااس کے ساتھ پورے مشرق وسطیٰ کو خطرہ لاحق محسوس ہونےکے امکانات ہیں۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ سطح کےکمانڈر کی ہلاکت کے بعد 2015 کے جوہری معاہدے کے کسی بھی وعدے کی پاسداری نہیں کرے گا ، جیسا کہ قاسم سلیمانی کا سوگ منانے کے لئے ایران کے مقدس شہر میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔

جمعہ کو جاپانی ین کو فائدہ ہوا کیونکہ کہ سرمایہ کاروں نے خطرہ مول لیاجبکہ بھارت اور جنوبی کوریا سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

کمرز بینک کے کرنسی کے تجزیہ کاروں نے اپنے صارفین کو ایک نوٹ میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایشیائی کرنسیوں کے عدم استحکام کی واضح یاددہانی کرائی ہےکیوں کہ عمومی طور پر ایشیا تیل کا خالص درآمد کنندہ ہے۔

جاپانی بینک ایم یو ایف جی کے تجزیہ کار نے کہا کہ بہتری کے آزمائشی اشارے دکھانے والی عالمی معیشت کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دھچکا پہنچائے گا ۔امکان ہے کہ جب تک امریکا اور ایران کے مابین جغرافیائی سیاسی کشیدگی مزید کتنی بڑھے گی اس حوالے سے مزید وضاحت نہ ہونے تک مارکیٹ کے شرکاء گھبراہٹ کا شکار رہیں گے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید