آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایس ایس پی ابرار کی خودکشی پر سوشل میڈیا پر ردعمل

خودکشی کرنے والے ایس ایس پی ابرار حسین کی سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو


 پولیس ٹریننگ اسکول (پی ٹی ایس) روات کے پرنسپل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ابرار حسین نیکوکارہ کی نماز جنازہ آج صبح نو بجے پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز راولپنڈی پریڈ گراؤنڈ میں ادا کر دی گئی۔

واضح رہے گزشتہ روز پولیس ٹریننگ اسکول روات کے پرنسپل اور پولیس سروس میں گریڈ 18 کے افسر ایس ایس پی ابرار حسین نے  خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی۔

پنجاب کے ضلع چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے ابرار حسین چنیوٹ کے نواحی علاقے ہرسہ شیخاں کے رہائشی تھے۔

وہ سی ٹی او فیصل آباد اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) خوشاب بھی تعینات رہے۔

انہوں نے18جنوری2019کو پی ٹی ایس روات کے پرنسپل کا چارج لیا اور تقریباً ایک سال سے وہ اس عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

ایس ایس پی کی خودکشی پر سوشل میڈیا پر ردعمل:

ابرار حسین کی خودکشی کی خبر پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آرہا ہے ۔

ایس ایس پی ابرار کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں شیئر کی جارہی ہے جس میں انہوں نے اپنے گاؤں کی ابتری کا احوال بیان کیا اور پھر یہ بھی بتایا کہ کیسے انہوں نے اپنے گاؤں کرم شاہ کی بہتری کے لیے کام کیا۔

اعلیٰ پولیس افسر انعام وحید خان نے ساتھی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ابرار ناصرف ایک پولیس افسر تھے بلکہ ایک نیک انسان بھی تھے۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لوگوں کو ان کی موت سے متعلق قیاس کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حادثات مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

معروف صحافی رحمٰن اظہر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ ابرار اور وہ گورنمٹ کالج لاہور میں ہم جماعت تھے۔انہوں نے لکھا کہ’مجھے یقین نہیں ہورہا کہ وہ اب ہم میں نہیں ہیں۔‘

پنجاب پولیس کے افسر چوہدری گلفام اسلم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، وہ ایک نرم دل اور شائستہ طبعیت کے مالک تھے۔

وہ مباحثوں میں حصہ لیا کرتے تھے اور میرے ساتھ نیو ہاسٹل کے روم میٹ بھی تھے۔

گلفام اسلم کے مطابق وہ ایک انتہائی ملنسار انسان تھے۔

ڈاکٹر تاجک سہیل حبیب نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ابرار جیسا شریف النفس اور اصول پسند پولیس افسر ظاہری طور پر ہم میں موجود نہیں ہیں مگر وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

انہوں نے یہ بتایا کہ ابرار نے گورنمنٹ کالج اور قائداعظم یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔

ایس ایس پی ابرارحسین نےسوگواران میں اہلیہ اور2بچے چھوڑے ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ 9 سال میں کسی بھی پولیس افسر کی مبینہ خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خرم ڈوگر نامی ایک صارف نے گزشتہ برسوں میں خودکشی کرنے والے  پولیس آفیسرز کی تصویریں شیئر کیں۔

انہوں نے لکھا کہ ایس ایس پی شہزاد وحید، ایس پی جہانزیب خان، سب انسپیکٹر احسان اور ایس ایس پی ابرار نے خودکشی کی۔

انہوں نے بتایا کہ جہاں زیب خان اور احسان کو وہ ذاتی طور پر جانتے تھے جو بہت خوش اخلاق طبعیت کے مالک تھے اور ایس ایس پی ابرار اور  وحید کے بارے میں انہوں نے اچھی باتیں سن رکھی ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید