آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارت کی نام نہاد جمہوریت بے نقاب ہوچکی،تحریک کشمیر یورپ

برمنگھم (پ ر) تحریک کشمیر یورپ نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر یورپ بھر میں ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے یورپ کے مختلف ممالک میں کشمیر ریلز، احتجاجی مظاہرے کانفرنسیں ،عوامی جلسہ عام اور سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور انسانیت سوز مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں پانچ ماہ سے مکمل لاک ڈائون کرفیو اور ظلم اور بربریت دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، جنرل سکریٹری انصر منظور حسین، سنیئر نائب صدر محمود شریف، نائب صدر ریاض احمد بٹ، نائب صدر میاں محمد طیب نے کہا کہ 5فروری کا دن مظلوم کشمیری عوام کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے 1990 سے یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے دنیا بھر میں جمہورت، انسانی حقوق اور آزادی پسند عوام کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر کے بھارت کے خلاف برسرپیکار کشمیری عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں وہ تنہا نہیں ہیں ان کی قربانیوں رنگ لائیںگی، بھارتی سازشیں اور حربے کامیاب نہیں ہونگے انہوں نے کہا نریندر مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں بھارت کے اندر بھی ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ بھارت کی نام نہاد جمہورت دنیا کے سامنے بُری

طرح بے نقاب ہو چکی ہےاور بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے مودی انسانیت کا قاتل ہے بھارت میں انسانوں کے حقوق محفوظ نہیں، مودی جس راستے پر چل رہا ہے اس خطے کے امن کو شدید خطرہ ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے رہنمائوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر یورپین ممبران پارلیمنٹ میڈیا اور انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کے سنگین حالات، بھارت نے کشمیر جس طرح بند کر رکھا خوراک اور ادویات کی شدید قلت پائی جاتی ہے قبرستان گھروں میں آباد ہورہے ہیں جان مال اور عزتیں محفوظ نہیں ہیں بھارت کی درندگی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا اور عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی جائے گی کہ وہ خطے میںامن کی خاطر بھارت کے خطرناک عزائم کو لگام دیں اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن دیر پا حل پر توجہ دی جائے۔

یورپ سے سے مزید