آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رینجرز منصوبوں میں اربوں کا نقصان،آڈٹ نہیں کرنے دیا جارہا ،آڈٹ حکام

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ) آڈٹ حکام نے پبلک اکائونٹس کمیٹی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کی رہائش گاہوں کی تعمیر کے منصوبے میں تاخیر کے باعث قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوامگر پاکستان رینجر رجمنٹل فنڈز کا آڈٹ نہیں کرنے دیتی ،کنونئیر کمیٹی نویدقمر نے رینجرز کے معاملات پر عدم اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو پورےسسٹم کے معائنہ کی ہدایت کر دی،پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ رینجرز کیلئے صحرائی جیکٹوں کی خلاف قواعد خریداری میں سو ا کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں کی گئی جبکہ سندھ میں رینجرز کی رہائش کے منصوبے میں تاخیر کے باعث پی سی ون کی لاگت 60کروڑ سے بڑھ کرپونےدوارب ہوگئی، کمیٹی نے 30دن میں انکوائری رپورٹ طلب کرلی، پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس کنونئیر کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت داخلہ کے آڈٹ اعتراضات برائے مالی سال 2016-17 کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیاکہ عبداللہ شاہ غازی کے پاس سندھ رینجرز کی رہائش کامنصوبہ2005 میں شروع کیا گیا جو 2009 میں مکمل ہونا تھا، اس وقت پی سی ون کی لاگت 61کروڑ 65 لاکھ روپے تھی جبکہ 2015 میں منصوے کےپی سی ون پر نظرثانی کی گی اور اس طرح پی سی ون کی لاگت 61کروڑ سے بڑھ کر 2 ارب 87 کروڑ ہوگئی ، منصوبہ 2009 کی بجائے 2017 میں

مکمل ہوا ، سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ فنڈز جاری نہ کرنے کیوجہ سے منصوبے میں تاخیر ہوئی ، کنونئیر کمیٹی نے فنانس ڈویژن پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ کے پاس فنڈز نہیں ہوتے تو منصوبے کیوں منظور کیے جاتے ہیں جس پر فنانس ڈویژن کے حکام نے بتایاکہ منصوبے کی منظوری پلاننگ ڈویژن کی جانب سے دی گئی تھی ، پلاننگ حکام نے منصوبے کی پیشرفت پر لاعلمی کا اظہار کیا تو کنونئیر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہا رکیا ، سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ انکوائری رپورٹ آڈٹ حکام کو دے دی گئی ہے ، کنونئیر کمیٹی نے انکوائری رپورٹ ایک ماہ میں طلب کر لی، آڈٹ حکام نے مزید بتایاکہ پاکستان رینجرز نے ملٹری انجینئرنگ سروس رولز کی منظوری لیے بغیرتعمیراتی منصوبے شروع کیے اور خریداریاں کیں جس پر رینجرز حکام کی جانب سے بتایاگیاکہ منظوری لی گئی تھی جس پر آڈٹ حکام نے بتایاکہ منظوری ریٹس کی لی تھی جبکہ قواعد کی منظوری نہیں لی گئی تھی، آڈٹ حکام نے شکوہ کیا کہ انکو رجمنٹل فنڈز کا آڈٹ نہیں کرنے دیا جاتا ہے کیونکہ یہ کہتے ہیں رولز نہیں ہیں جس پر کنونیئر کمیٹی نے فنانس اور داخلہ حکام کو آئندہ اجلاس میں رولز منظور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی، اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ سندھ رینجرز کیلئے خلاف قواعد صحرائی جیکٹوں کی خریداری میں قومی خزانے کوتقریباًسوا کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ، رینجرز حکام نے بتایاکہ ٹینڈرکو فالو کیا گیا ، آڈٹ حکام نے بتایاکہ ٹینڈرنگ میں 7 فرموں نے حصہ لیا جبکہ دو فرمیں کوالیفائی کرتی تھیں اور ایک فرم کو ٹھیکہ دیا گیا ، بتایا جائے دو فرمیں کیسے کوالیفائی کر گئیں ، رنیجرز حکام نے بتایاکہ ایک فرم کا نام غلطی سے درج ہوا ہے جس پر ایوان میں قہقے گونج اٹھے ،کمیٹی نے معاملہ ڈی اے سی کو ارسال کردیا ،اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ لاہور میں رینجرز کیلئے خلاف قواعد اکائونٹس کھلوائے گئے اور ان اکائونٹس کے ذریعے سوا ارب روپے سے زائد کی رقم الائونس کی مد میں تقسیم بھی کی گئی، ان اکائونٹس کی فنانس ڈویژن سےبھی منظوری نہیں لی گئی ۔ ،رینجرز حکام نے کہاکہ یہ اکائونٹس اب بند کردیے گئے ہیں جس پرنوید قمر نے کہاکہ یہ سرکاری کام ہے، ایسے نہیں ہوتا ہے، انہوں نے سیکرٹری داخلہ سے کہاکہ رینجرز کے معاملات ٹھیک نہیں ہیں آ پ پورے سسٹم کا معائنہ کریں اور اور مجوزہ رولز کی پیروی کرتے ہوئے ان اکاونٹس کی تفصیلات فراہم کریں ۔علاوہ ازیں آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور انکے سیاسی کزن علامہ طاہر القادری کے دھرنے میں قومی خزانے کو ساڑھے 4کروڑ روپے کا نقصان ہوا، بغیر ٹینڈرز کے کینٹینرز مالکان کو سوا 4کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کر دی گئیں ، معاملے پر ڈی آئی جی آپریشن نے بتایاکہ یہ 2014کادھرنا تھا مجھے کیا پتہ اس بارے میں جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے ، کمیٹی نے ایک ماہ میں معاملے پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اہم خبریں سے مزید