آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر22؍ جمادی الثانی 1441ھ 17؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آئے روز گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عام آدمی کیلئے ذاتی رہائش کا حصول ایک خواب بنتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقے کیلئے فلیٹ یا اپارٹمنٹ پہلی ترجیح بن گئے ہیں۔ تاہم کم رقبے پر تعمیر کیے گئے گھر ہوں، فلیٹس یا اپارٹمنٹس، ان میں سب سے بڑا مسئلہ جگہ کی کمی کی صورت ہی سامنے آتا ہے۔ 

یوں سمجھیں کہ ان گھروں میں ایک ایک انچ قیمتی تصور کرتے ہوئےہر حصے کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن بہت زیادہ سامان رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات آپ کا گھر گھٹا گھٹا محسوس ہونے لگتا ہے، ایسے میں ان آئیڈیاز پر عمل کرنے ضرورت ہے، جن کے ذریعے ایک چھوٹے گھر کو بھی کشادہ محسوس دکھایا جاسکتا ہے۔ 

آج کے مضمون میں ہم کم رقبے پر تعمیرکیے گئے گھروں کے لیے انٹیریئر  ڈیزئنرز کے ان آئیڈیاز پر بات کریں گے، جن کے ذریعے گھر کھلا کھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔ فلیٹس اور اپارٹمنٹس میں رہنے والے حضرات بھی ان آئیڈیاز کو بخوبی اپناسکتے ہیں۔

ہلکی اور متضاد کلر اسکیم

رنگوں کی زندگی میں بہت اہمیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیواروں پر کروایا گیا رنگ وروغن بڑے سے گھر کو تنگ اور چھوٹے سے گھر کوکشادہ دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ رنگ وروغن کے انتخاب کے وقت خاصی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ تعمیراتی ماہرین چھوٹے گھرو ں کے لیے ہلکی اور متضاد کلر اسکیم کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں۔

٭ہلکا رنگ مثلاً سفید، نیلا اور سبز گھر کے کسی بھی حصے کو کشادہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس گہرے رنگ کی دیواریں زیادہ روشنی جذب کرتی ہیں، جس سے کمرے کی کشادگی متاثر ہوتی ہے۔

٭گہرے رنگ کے بجائے متضاد اسکیم بھی آپ کے کمرے کو کشادہ دکھائے گئے مثلاًکمرے کی اگر تین دیواروں کے لیے سفید رنگ منتخب کیا گیا ہے تو ایک دیوار کے لیےاورنج رنگ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

٭ مونوکرومیٹک کلر اسکیم کا انتخاب بھی چھوٹے گھروں میں کشادگی کا باعث بنتا ہے۔ واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کمرے کی ہر چیز ایک ہی رنگ کی منتخب کی جاتی ہے، چاہے وہ دیواریں ہوں یا پھر سجاوٹی اشیا۔

زائد شیشوں کا استعمال

گھر میں زائد شیشوں کے استعمال پر اس لیے زور دیاجاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے سے گھر کو بڑا دکھانے میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ گھر کے کسی بھی حصے کے لیے شیشوں کا انتخاب آپ کو دنگ کر دینے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ لازمی نہیں کہ شیشوں کا استعمال سجاوٹی اشیا کے طور پر ہی کیا جائے، اس کے برعکس کمرے کی کسی ایک دیوار پر بڑا سا آئینہ نصب کرکے کمرے کو کشادہ دکھایا جاتا ہے۔بیڈروم میں الماری کے دروازے پر شیشوں کا استعمال کیا جانا کشادگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح باتھ روم میں ایک دیوار کو گلاس ٹائل سے تعمیر کرواکے بھی کشادگی کا تاثر دیا جاسکتا ہے۔

عمودی اور اُفقی لکیریں

لکیریں کسی بھی چیز کے حجم یا رقبے کے تناسب کو کم، زیادہ یا لمبا اور چوڑا دکھانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آپ بھی دوران تعمیر عمودی خطوط کی لمبائی اور اُفقی خطوط کی چوڑائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پھیلاؤ کا تاثر دے سکتے ہیں۔ 

مثال کے طور پرعمودی دھاریاں نیچی چھت والے کمروں کے لیے بہت اچھی رہتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے دیواریں اپنی حقیقی اونچائی سے بڑی نظر آتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وال پیپر کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ اپنے کمرے کو زیادہ کشادہ دیکھنا چاہیں تو اُفقی لکیریں بہتر رہیں گی کیونکہ یہ جگہ کو پھیلا کر بڑا دِکھاتی ہیں۔

قدرتی روشنی، لازمی عنصر

تازہ ہوا اور کشادگی کے احساس کے لیے گھر کے اندرونی حصوں میں قدرتی روشنی کی آمد کو یقینی بنائیں۔ ایسا کرنے سے مکینوں کو باہر کا نظارہ دیکھنے کا موقع ملے گا، ساتھ ہی انھیں کشادگی کا احساس بھی ہوگا۔ روشنی کی آمدروفت یقینی بنانے کے لیے سلائیڈنگ ونڈو ایک بہترین آپشن ہے۔ اس حوالے سے ذہن میں رکھیں کہ چھوٹے کمروں کے لیے چھت سے فرش تک تعمیر کروائی گئی کھڑکی کشادگی کا احساس دلاتی ہے۔ کھڑکیاں جتنی بڑی ہوں گی آپ قدرتی روشنی اور ہوا سے اتنے ہی زیادہ لطف اندوز ہوںگے، ساتھ ہی یہ چھوٹی اور عام کھڑکیوں کے مقابلےمیں دُگنی روشنی فراہم کرنےکا باعث بنیںگی۔

غیر ضروری دیواریں تعمیر نہ کریں

دیواریں کسی بھی جگہ کو گھٹا کر چھوٹے چھوٹے کمرے بناتی ہیں۔ چونکہ مہنگائی اور شہروں میں بڑھتی آبادی نے گھروں کا حجم ویسے ہی چھوٹا کردیا ہے، ایسے میں جہاں لیونگ روم، ڈائننگ روم اور کچن ایک ساتھ ہوں، وہاں ان پورشنز کو علیحدہ کرنے والی دیواریں تعمیر نہ کروائی جائیں۔ ایسا کرنا گھر کے خاکے کو سادگی کے ساتھ کشادگی کا احساس بھی دے گا۔

گھر پیارا گھر سے مزید