آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سیکولر قوتوں پر خوف کے سائے…

ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار
بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں کا خوف صرف انڈیا تک محدود نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی ان کے انتہاپسند گروہوں کی اچھی کافی تعداد موجود ہے جو انڈیا میں سیکولرازم کے حق اور شہریت کےقانون کو ختم کرنے کی بات کرنے والوں کو باقاعدہ دھمکاتی ہے اور انڈیا میں ان کے رشتہ داروں کو نقصان پہچانے کی دھمکیاں دیتی ہے۔ اس وقت پورے انڈیا میں جس طرح شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں اور زبردست احتجاج دیکھنے میں آرہا ہے مگر عالمی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف ایران میں ہونے والے چھوٹے موٹے مظاہروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسسز اور حکومتیں انڈیا کی سوا ارب نفوس پر مشتمل آبادی کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں، ان کے ساتھ ان کے اقتصادی مفادات وابستہ ہوگئے ہیں۔ تاہم اگر کوئی مغربی اخبار یا ٹی وی انڈیا کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کے صحافیوں کو نہ صرف انڈیا سے نکال باہر کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ادارے کو انڈیا کے لئے بلیک لسٹ بھی کردیا جاتا ہے۔ انڈیا سے ایک بڑی تعداد بھی طالب علم برطانیہ میں پڑھنے کے لئے آئے ہوئے ہیں جن کی اکثریت جمہوری اور سیکولر مزاج رکھتی ہے مگر یہ نوجوان بھارت کے ہندو انتہاپسندوں سے

خوفزدہ بھی نظر آتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل لندن میں زیرتعلیم انڈیا کے بعض طالب علموں نے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ’’ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے‘‘ کے علاوہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی نظمیں بھی گائیں اور شہریت کےمتازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ریاستی جبروتشدد پر احتجاج بھی کیا۔ تاہم ان کے چہروں پر ہندو انتہاپسندوں کے ردعمل کا خوف انتہائی نمایاں تھا، میں نے مظاہرین کے چند منتظمین کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے وہ ہچکچائے اور مجھے شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جب میں نے انہیں بتایا کہ میں ان کے اس مظاہرے کی کوریج کرنے کے لئے آیا ہوں اور اسے جیو ٹی وی کے ذریعے ساری دنیا میں دکھاؤں گا تو ان میں سے بعض کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے سوچا کہ یہ تو پاکستانی ہے اور نجانے ہمارے بارے میں کیا کیا باتیں کرے گا؟ آخر ہمیں واپس انڈیا بھی تو جانا ہے ؟ اور پھر ہمارے والدین، بہن بھائی، سبھی تو انڈیا میں ہیں ان کے ساتھ یہ انتہاپسند کیا سلوک کریں گے۔ یہ ایسا ہی خوف تھا جو ایک زمانے میں پاکستان کے اندر اور باہر رہنے والے پاکستانیوں میں بھی پایا جاتا تھا۔ یہ پاکستانی نہ تو کسی انتہاپسند مذہبی گروپ کے خلاف بات کرنے کی جرأت کرسکتے تھے اور نہ ہی ’’بھائی‘‘ انہیں بولنے کی اجازت دیتا تھا۔ اب تو پاکستان کے اندر اور باہر ان گروہوں اور ’’بھائی‘‘ کی ایسی درگت بنائی جارہی ہے کہ ان کا سارا خوف ہی ختم ہوگیا ہے۔ انڈیا میں ابھی ایسا نہیں ہے اس وقت حکومت فوج اور دوسرے ریاستی اداروں کی آشیرباد ان انتہاپسندوں کو حاصل ہے اور انہیں یونیورسٹیوں پر حملوں اور مظاہرے کرنے والوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں مقیم بھارتی سٹوڈنٹس بھی کسی پاکستانی صحافی یا ٹی وی کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ میرے اصرار پر ایک طالبہ اور ایک طالب علم اپنے ’’لیڈروں‘‘ کے ساتھ ’’مشورے‘‘ کے بعد مائیک پر بات کرنے کے لئے رضا مند ہوگئے مگر انہوں نے گول مول انداز میں بات کرکے اپنی جان خلاصی کرائی۔ ان کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ وہ ہندو انتہاپسندوں سے خوفزدہ ہیں بلکہ طالبہ نے تو کیمرہ بند ہونے کے بعد کہہ بھی دیا کہ وہ اس سیاسی چکر میں نہیں پڑنا چاہتی۔ اس نے بین اسطور آف دی ریکارڈ ساری باتیں کیں تاہم کھل کر اور ریکارڈ پر کوئی بات بتانے سے گریز کیا۔ اب شہریت قانون پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ احتجاج تو شاید جاری رہے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھی احتجاج ہورہا ہے مگر میڈیا پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ انڈین حکومت اس صورتحال کو کنٹرول کرلے گی اور پھر اپنے اگلے ایجنڈے کی طرف بڑھے گی۔ ظاہر ہے کہ اس کا اگلا ایجنڈا اکھنڈ بھارت بنانے کا ہے نئے بھارتی آرمی چیف پہلے ہی آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس کو محض فوں فاں نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

یورپ سے سے مزید