آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حمیرا مختار

 زندگی کی ڈور بہت سے رشتوں سے بندھی ہوئی ہے، یہ رشتے ہماری زندگی کو خوش گوار اور پرسکون بناتے ہیں ۔ایک دوسرے کا ساتھ ہماری زندگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ویسے تو ہر رشتہ اہم خوبصورت اور ضروری ہے ،لیکن دوستی کا رشتہ سب سے زیادہ خوبصورت اور پائیدار ہے ۔انسان کی صحبت یا اس کے دوست انسان کی پہچان ہوتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کے اخلاق اور کردار کو جانچنا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھو کہ وہ اچھے ہیں یا برے ۔اگر اس کے دوست اچھے ہیں تو سمجھ لو وہ شخص بھی اچھا ہے اور اس کی صحبت بری ہے تو وہ منفی کردار کا حامل شخص ہے۔

دوست یا صحبت انسان کی طبعی ضرورت ہے،کیونکہ انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا اسے سہاروں اور مختلف رشتوں ناتو ں کی ضرورت ہوتی ہے ،تاکہ وہ اپنی خوشیاں ،دکھ ،پریشانیاں ،غم اور مسائل کسی کے ساتھ بانٹ سکے۔بعض اوقات جو باتیں یا مسائل ہم اپنے ماں ،باپ ،بہن ،بھائیوں سے شیئر نہیں کر پاتے وہ بہت آسانی کے ساتھ اپنے دوستوں سے شئیر کر لیتے ہیں۔

دوستوں کی اہمیت اور ان سے قلبی تعلق کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہر انسان اور خاص طور پر نوجوان سارا دن روزگار و دیگر کاموں میں بہت مصروف رہنے کے باوجود شام یا رات کے اوقات میں اپنے دوستوں کے لیے ایک وقت ضرور مخصوص رکھتے ہیں۔

اکثر نوجوان ٹولیوں کی شکل میں مختلف مقامات پر اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے نظر آتے ہیں ۔کچھ مختلف گیمز کھیل کر اپنے دوستوں کا ساتھ یادگار بنا رہے ہوتے ہیں اور کچھ تو رات گئے تک اپنے دوستوں کے ساتھ موبائل چیٹ کرتے پائے جاتے ہیں۔

دوستی کرنا ،دوست بنانا ،دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، اپنی خوشیاں ،دکھ ،درد، دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا، سب اپنی جگہ درست اور اہم ہے، لیکن جو بات سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ کہ انسان کو دوستی کرتے وقت اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ، وہ کسی سے دوستی کر رہا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان دوسرے انسان کا مالی اسٹیٹس دیکھے کہ وہ کتنے بڑے خاندان یا کتنے امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے یا وہ کسی مشہور و معروف شخصیت کا رشتے دار یا پھر کسی سرکاری افسر کا رشتے دارہے ،بلکہ دوستی کرتے وقت دوسرے فرد کی اخلاقیات ،مذہبی اطوار اور اس کی عادتوں کا جائزہ ضرور لیں، کیونکہ دوستی اگر محض ناموری کے لئے کی جائے یا صرف معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے کی جائے کہ لوگ دیکھ کر کہیں کہ اس کی تو بڑے بڑے لوگوں سے دوستی ہے۔

تو یاد رکھیے کہ ایسی دوستی ناصرف ناپائیدار ہوتی ہے بلکہ ذرا سی ٹھیس سے فوراً ٹوٹ بھی جاتی ہے۔اس لئے دوستی ہمیشہ اپنی حیثیت ،مزاج اور ہم عمر افراد سے کرنی چاہیے ۔والدین بہن بھائیوں کے بعد سب سے عظیم اور محبت بھرا رشتہ دوستی کا ہی ہے جب ہم خود کو تنہا محسوس کریں یا کسی پریشانی سے نڈھال ہوں ان لمحوں میں ایک ہی شخص ہوتا ہے جو ہمیں کھڑا رکھتا ہے ،ہمیں سہارا دیتا ہے ۔

وہ ہمارا بہترین دوست ہوتا ہے ۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو ہمیں اچھے اور برے ،دوست کی پہچان کرواتے ہیں ۔اچھے اور برے دوستوں کی پہچان حاصل کرنے کے لئے یہ بھی مثال دی جاتی ہے کہ عطر فروش کے پاس بیٹھنے والا اگر عطر نہ بھی خریدیں تو وہ اس کی خوشبو ضرور پالیتا ہے ،یعنی عطر کی خوشبو سے اس کے کپڑے ضرور مہک جاتے ہیں۔

اسی طرح کوئلہ فروخت کرنے والے کے پاس بیٹھنے سے اگرچہ کوئلہ نہ بھی خریدیں تب بھی اس کی سیاہی سے کپڑے ضرور آلودہ ہوں گے ۔یہی حقیقت اچھے اور برے دوستوں کی بھی ہے اچھے دوست ہمیشہ اچھائی کی طرف مائل کرتے ہیں جس سے ہمارا اخلاق اور کردارسنورتا اور مضبوط ہوتا ہے اور برا دوست برائیوں میں دھکیل دیتا ہے جس سے ہمارا اخلاق اور کرداربگڑ جاتا ہے ۔اس لیے دوست بناتے وقت فرد کے کردار اور اخلاق کو ضرور مد نظر رکھیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان جو دیکھتا ،سنتا اور سوچتا رہتا ہے پھر وہ ویسے ہی اعمال سر انجام دینے لگتا ہے ۔اس لیے ایک فرد کی عادات اورطور طریقے بہت جلد اس کے دوستوں میں سرایت کر جاتے ہیں ۔اس لیے جہاں صداقت اور خلوص نظر آئے وہیں دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور ایک بار دوستی کرنے کے بعد اسے تاحیات نبھانے کی کوشش کریں۔