آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خامنہ ای 8 سال بعد آج نماز جمعہ پڑھائیں گے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای آج تہران میں 8 سال بعد جمعے کی نماز پڑھائیں گے۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق 8 سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای آج دارالحکومت تہران کی ایک مسجد میں جمعے کی نماز کا خطبہ دے رہیں ہیں اور امامت کر رہے ہیں۔

ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ 80 سالہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای 2012ء کے بعد آج تہران کی موسالہ مسجد میں جمعے کی نماز پڑھا رہے ہیں۔

نیوز ایجنسی نے ملک کے سپریم لیڈر کے اس عمل کو ایران کی حالیہ صورت حال سے منسوب نہیں کیا ہے تاہم ایرانی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایرانی بحیثیت قوم ایک بار پھر اپنے اتحاد اور عظمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھئے :ایرانی قوم دنیا کے غنڈوں کیخلاف متحد ہوگئی، آیت اللہ خامنہ ای


یہ بھی پڑھیئے: جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا، خامنہ ای

آیت اللّٰہ خامنہ ای نے 2012ء میں آخری مرتبہ نماز جمعہ کی اس وقت امامت کی تھی جب ایرانی اسلامی انقلاب کو 33 سال مکمل ہوئے تھے۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے مہدی خلجی کے مطابق ایرانی روحانی رہنما کی جانب سے نمازِ جمعہ کی امامت علامتی طور پر ان مواقع کے لیے مخصوص ہے جب ملکی اعلیٰ ترین قیادت کوئی اہم پیغام دینا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ ماہِ رواں کے اوائل میں عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے امریکی اقدام پر ایران اور امریکا میں کشیدگی اچانک بڑھ گئی جس کے بعد امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دوران ایرانی فوج کی جانب سے گذشتہ ہفتے یوکرین کے مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرایا گیا تھا۔

اس اقدام کے خلاف ایران بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: اسلام میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال منع ہے، خامنہ ای

اس صورتِ حال پر ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز قوم سے متحد رہنے کے لیے اپیل بھی کی تھی۔

8 جنوری کو تہران ایئر پورٹ سے پرواز بھرنے والا یوکرین کا مسافر بردار طیارہ 8 منٹ بعد ہی تباہ ہو گیا تھا، اس حادثے میں طیارے پر سوار عملے اور مسافروں سمیت تمام 176 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایران نے پہلے اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا تاہم 11 جنوری کو ایران کی جانب سے اعتراف کرتے ہوئے اسے انسانی غلطی قرار دیا گیا۔

14 جنوری کو ایرانی حکومت کے ترجمان غلام حسین اسماعیل نے بتایا تھا کہ یوکرین کے طیارے کو گرانے کے حوالے سے کچھ افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھیئے: خامنہ ای نےامریکیوں کو بے وقوف قرار دیدیا

ایرانی دارالحکومت تہران سمیت دیگر شہروں میں ایرانی حکام کی جانب سے یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کے اعتراف کے بعد سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید