آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا کا سب سے چھوٹا کیڑا

ڈیکوپومورفا ایکمیٹ پیٹرجیگس فیری ٹیل (Dicopomorpha echmepterygis) دنیا کے سب سے چھوٹے کیڑے کا عنوان اس وقت ڈیکوپومورفا ایکمیٹ پیٹرجیگسDicopomorpha echmepterygis کے پاس ہے ، جو ایک قسم کی فیری ٹیل (fairy tale)ہے، جس کی پیمائش تقریبا 0.139 ملی میٹر ہے۔

مشرقی شمالی امریکہ کے پارجیٹائڈ ڈیکوپومورفا ایکمیٹر پیجس کی جغرافیائی حد شمالی امریکا تک پھیلی ہوئی ہے۔

انکا عرصہ زندگی بہت مختصر ہے جوکہ کچھ گھنٹوں سے لے کر کچھ دنوں تک ہوتا ہے۔ یہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والےکیڑوں کی آبادی کوقابو میں رکھتی ہیں۔

مسافر طیارہ ہزاروں فٹ بلندی پر کیوں اڑتا ہے؟

بلندی پر ہونے کی وجہ سے کمرشل طیاروں کو ہوا کی کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ ہوا کے مستحکم ہونے کی وجہ سے جہاز کو پرواز کرنے میں آسانی رہتی ہے اور اضافی ایندھن بھی خرچ نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں کوئی بھی کمرشل فلائٹ کم ایندھن خرچ کر کے اپنی منزل پر پہنچ سکتی ہے۔کم بلندی پر ہوا میں زیادہ ایئر پیکٹس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جہاز کو زیادہ جھٹکے لگتے ہیں اور یہ اس کی رفتار پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

مسافر طیارہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر پر واز کرتے ہوئے


ماہرین کے نزدیک بلندی پر ایمرجنسی کی صورت میں پائلٹ جہاز کو نسبتاً آسانی سے سنبھال سکتا ہے۔ایک اور وجہ کم بلندی پر چھوٹے طیاروں کی پرواز بھی ہے۔ کسی بھی مسافر بردار طیارے کو ان چھوٹے طیاروں کی فضا میں موجودگی سے خطرہ ہوسکتا ہے۔ بلندی پر پرواز کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسافر بردار طیارے کے انجنوں کو ان کی ضرورت کے مطابق اور مطلوبہ مقدار میں آکسیجن ملتی رہے۔

گولڈن پلور

گولڈن پلور ایسا پرندہ ہے جو ہجرت کےلیے مشہور ہے۔ یہ ہرسال الاسکا سے ہوائی جزیرے تک 4000کلومیٹر کا سفر طے کرتا ہے یہ 88 گھنٹے سمندر پر بغیر رکے پرواز کرتا ہے کیونکہ یہ تیر نہیں سکتا، اس لیے رکنا نا ممکن ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ اس پرندے کو سفر مکمل کرنے کے لیے 88گرام جسمانی چربی کی ضرورت پڑتی ہے آپ حیران ہوں گے کہ اس حساب سےیہ اپنی منزل سے 800کلومیٹر پہلے اپنا ایندھن ختم ہو جانے کی وجہ سے گر کیوں نہیں جاتا کیونکہ اس کے جسم میں 76گرام چربی ہوتی ہے؟

اس کا جواب دنگ کر دینے والا ہے کہ یہ اپنے گروہ میں انگریزی حرف vکے شکل میں اکٹھے ہو کر اڑتے ہیں اس طرح ہوا کی مزاحمت اور ٹکر سے بچ کر یہ اپنی 23فیصد توانائی بچا لیتے ہیں اور جب منزل پہنچتے ہیں تو6سے7گرام چربی بچ جاتی ہے.سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کون بتاتا ہے کہ اس شکل کے گروہ میں اڑنے سے یہ بچت ہوگی؟اور ان کے جسم میں اتنے گرام چربی ہونی چاہیے.ان کی منزل کس سمت میں ملے گی کتنا اڑنے کے بعد ہوگی .پس اللہ کی قدرت سے آپ کیسے انکار کر سکتے ہیں۔

جس طرح کند کے مقابلے میں تیز دھار نوکدار یا فانہ نما اشیا سے کاٹنے میں کم قوت درکار ہوتی اسی اصول کے تحت ہوا کے کٹاؤ میں بھی وی شکل کے گروہ میں کم توانائی لگتی ہے۔