آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وفا شعار اوورسیز پاکستانی

تحریر:سید محمد علی عابد۔ ۔برمنگھم
بیرون ممالک آباد پاکستانی جنہیں اوورسیز پا کستانی کہا جا تا ہے ملک کے بے لو ث وفا دار ہیں جو اپنے ملک اور رشتہ دا رو ں سے دو ر مقا می لو گوں کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی لو گوں کی عا دات رہن سہن اجنبی ہے سخت محنت کر کے روپیہ پیسہ کما کر ملک کو زرمبادلہ بہم پہنچا کردلی خو شی حا صل کرنے والے لوگ امید رکھتے ہیں کہ انکے مسا ئل سرکا ری اور عدالتی سطح پر ہمدردی سے حل کئے جا ئیں سال 2019 میں اور سیز پا کستانیوں نے پچھلے چار سالوں کے مقا بلے میں زیا دہ زرمبا دلہ پاکستان بھجوایا ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم چو نکہ بیس، با ئیس سال تک برطانیہ میں مقیم رہے ہیں اسلئے وہ خو د بیرون ملک آبادپاکستانیوں کے مسا ئل سے آگا ہ ہیں اور ان لو گوں کی حب الوطنی پر فخر کر تے ہیں ان لوگوں کے مسائل اپنی آبائی جا ئیداد سے تعلق رکھتے ہیں ان کی غیر حاضری کی وجہ سے انکے رشتہ داروں اور پڑوسی ان کی جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہیں جسے چھڑوانا کاردار ہے ۔تھا نے ،تحصیل اور عدالتوں کے تھکا دینے والے چکر انہیں انصاف کے حصول سے مایوس کر دیتے ہیں علم قانون کا مشہور مقولہ ہے ۔ Justice Delay Is Justice Dened انصاف میں تا خیر نا انصا فی کے مترادف ہے ۔ پنجا ب ہا ئی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب جو اب سپریم کو رٹ کے جج ہیں نے ایک

آرڈر ضلع اور تحصیل کی عدالتوں میں بھجوا یا تھا جس میں فر مایا گیا تھا کہ بیرون ملک آباد پاکستانیوںکے مقدمے ایک سال کے اندر اندر نبٹا ئے جا ئیں یہ مو صو ف کی عنا یت تھی لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نجی عدالتوں نے اس حکم کی روح کے مطا بق عمل نہیں کیا اور ہم بدقسمت لوگ حشمہ حیواں پہ پہنچ کر پیا سے ہی رہے ۔ راقم اپنے والد اور والدہ سے ملنے والی زرعی زمین کا انتقال درج کر وانے کے لئے پچھلے تین سال سے عدالتوں کے دھکے کھا رہا ہے راقم نے اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خانیوال کی خدمت میں عدالت عالیہ کے حکم کی کاپی پیش کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب نے سماعت کر نے والی عدالت کو حکم دیا کہ میری درخواست سچائی پر مبنی ہے میرے کیس کا فیصلہ 31 جو لائی2018 تک ہو نا چا ہیے۔میری بد قسمتی سے جج صاحب تبدیل ہو گئے اور میراکیس نئے جج صاحب کی عدالت میں لگادیاگیا ۔آج تک فیصلہ نہیں ہوا اور مقدمہ کبیر والا کی عدالت میں زیرسماعت ہے کبھی جج صاحب چھٹی پر ہو تے ہیں تاریخ پڑجا تی ہے کبھی وکلاء کی ہڑتال راہ میں حا ئل ہو جا تی ہے میں نے تنگ آکر اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے جب میرے نصیب میں ہوگا فیصلہ آجا ئے گا وکیل صاحب جا نیں اور قا بل احترام عدالت جا نے ۔میں چونکہ عدالتوں کی کا ررو ائی سے نا واقف تھا اس لئے سمجھتا تھا کہ وراثت کے معاملات سیدھے سادھے ہوتے ہیں اس لئے میں نے ایک غلطی کر دی ۔اپنے دوست ڈاکٹر سپل مرحوم کے تین بیٹوں کے لئے وراثت کا سرٹیفکیٹ حاصل کر نے کی حا می بھر ی مختار نا مہ تیار کیا ۔مرحوم کا پاسپورٹ لیا اور Death Certificate لیا اور کسی مشہور اور محنتی وکیل کی خدمات حاصل کر لی درخواست عدالت مجاز میں جمع کروادی گئی ۔مقامی اور انٹرنیشنل اخبار میں اشتہار دے دئیے گئے ۔مرحوم ڈاکٹر کے بھا ئی نے کارروائی روکنے کی درخواست دے دی کہا گیا کہ مرحوم نے چالیس لاکھ روپے ادھار لئے تھے دلوانے کے آرڈر جاری کیا جائے، اس درخواست کو غیر متعلقہ اور جھوٹ پر مبنی ثا بت کرنے میں آٹھ دس ماہ لگ گئے یہ کارروا ئی چل رہی تھی دوسری درخواست مرحوم کی بہن نے عدالت میں جمع کر وادی اور کہا گیا کہ مرحوم نیک دل انسان تھے وہ لیہ میں خیراتی ادارہ کھولنے کے خواہشمند تھے جس تنظیم کے لئے یہ رقم دلوائی گئی تھی انہیں دئیے جا نے کے احکامات صادر فرما ئیں اس مقدمے میں مو صو فہ 60 سے زائد درخواستیں دے چکی ہیں اللہ اللہ کر کے عدالت نے ڈاکٹر صاحب کے تینوں بیٹوں کو ان کا جا ئز وارث تسلیم کر کے وراثت کا سرٹیفیکٹ جا ری کر نے کے احکامات جا ری کر دئیے لیکن رقم کی وصولی کے لئے اس کے برابر ضمانت جمع کروانے کی شرط لگا دی ۔ہم نے یہ شرط ختم کرنے کے لئے ہائیکورٹ کو درخواست دی جو کامیاب ہو گئی سرٹیفیکٹ جا ری ہو گیا حبیب بینک نے رقم دینے سے معذرت کر دی اور تین ماہ کی تگ ودو کے بعد لاہور کی عدالت کے حکم کی کا پی مہیا کر دی ۔یہ حکم یک طرفہ کارروائی کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا اب لاہور میں اس آرڈر کی منسوخی کے لئے کارروائی جا ری ہے دیکھیں کتنا عرصہ ضا ئع ہوتا ہے ۔عدالت اعلیٰ پنجاب کے واضع احکامات موجود ہیں جو تحصیل اورضلع کی عدالت کو اورسیز پاکستانیوں کے مقدمات ایک سال کے اندر اندر طے کرنے کی واضع ہدایت ہے ۔ میاں شہباز شریف نے اپنے دور حکومت میں اپنے دفتر میں اوورسیز کمیشن کا دفتر قا ئم کردیا تھا جو اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کا ازالہ کروانے کا ذمہ دار تھا اس کمیشن کو جب کو ئی شکایت موصول ہوتی تھی یہ کسی اہلکار کے حوالے ہوجا تی تھی درخواست گزار ریفرنس مجاز اہلکار کا نام اورٹیلیفون نمبر شکایت گزار کو مہیا کر دیاجاتا تھا شکایت گزار اپنی درخواست کے بارے میں جب جاننا چاہتا تھا تو اہلکار اسے مطلوبہ انفارمیشن مہیا کر دیتا تھا اہلکار ہر ماہ متعلقہ DCO سے ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی پروگریس کے بارے میں معلومات حاصل کرتارہتا تھا ۔میری دو شکایات تحصیل کبیر والا میں زیر تفتیش تھیں لیکن فیصلہ ہو نے سے پہلے پنجاب حکومت تبدیل ہو گئی، عثمان بزدار ہمارے وزیر اعلیٰ مقرر ہو گئے عمران خان انہیں کارکردگی کے حوالے سے وسیم اکرم پلس تصور کرتے ہیں لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کے دور میں اوورسیز کمیشن غیر فعال ہے معلوم کرنے پر بتایا جاتا ہے کہ سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوا ئی ہو ئی ہے جو اب کے احکامات آنے پر مزید کارروائی کی جا ئے گی۔ وزیر اعظم عمران خان ہم حب ا لوطنی اور وطن کے لئے زرمبادلہ مہیا کرتے ہیں عمران خان نے اپنے قا بل اعتماد دوست زلفی بخاری کو کیبنٹ منسٹر کا درجہ دے کر اہم کام سونپا ہوا ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موصوف کی کارکردگی کا طریقہ کار کسی کو معلوم نہیں ان کے دفتر ،ٹیلیفون نمبر کا عام عوام کو علم ہی نہیں ۔روزنامہ جنگ اوور سیز پاکستانیوں کی مشکلات اور شکایات دور کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ ہے اس کے توسط سے زلفی بخاری اپنا پتہ اور فون نمبر کی تشہیر فرما ئیں تا کہ عام اوور سیز پاکستانی موصوف کی خدمات سے فا ئدہ اٹھا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ مو صوف ہماری درخواست پر فو ری توجہ فرما ئیں گے ۔ عام اوورسیز پاکستانی کے ذہن میں یہ غلط تصور گھر کر رہا ہے کہ موجودہ حکومت وعدے تو بے حد کر تی ہے لیکن عمل درآمد نہیں کرتی ۔

یورپ سے سے مزید