آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

احتجاج میں شدت آنے پر ایچ ایس بی سی کو ہانگ کانگ کی شاخیں بند کرنے پر مجبور کیا گیا

ہانگ کانگ : پرائمروز رورڈان

ہانگ کانگ میں ایچ ایس بی سی(ہانگ کانگ اینڈ شنگھائی بینکنگ کارپوریشن) کو شاخیں بند کرنے اور چند اے ٹی ایم معطل کرنے پر مجبور کیا گیا ، جب احتجاج کیلئے استعمال ہونے والے فنڈز جمع کرنے والے ایک اکاؤنٹ کو بند کرنے کے بعد اس علاقے کا سب سے بڑا بینک پہلی بار نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسپارک الائنس فنڈ کا اکاؤنٹ بند کرنے میں پولیس کی مدد کرنے کے الزام کے بعد مشتعل مظاہرین نے احتجاج کا رخ ایچ ایس بی سی کی جانب کردیا ،خفیہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی پرتشدد گرفتاریوں کے بعد اس کی دس شاخیں یا اے ٹی ایم بند کردی گئی تھیں۔

ایچ ایس بی سی پر حملے بینک کے کوئین روڈ سنٹرل ہیڈکوآرٹر کے باہر کانسی کے شیروں والے مجسموںتک پھیل گئے،کانسی کے شیروں پردوسری جنگ عظیم کے دوران لڑائی سے گولیوں کے نشانات آج بھی موجود ہیں جب یہ علاقہ جاپان کے پاس چلا گیا تھا۔ان کی آنکھوں پر سرخ رنگ پھیر دیا گیا ، ان کی گردن پمفلٹ سے بھر دی گئی تھیں اور ان میں سے ایک کو آگ لگادی گئی تھی۔

یہ بینک جو اپنے منافع کا زیادہ تر حصہ ایشیا سے حاصل کرتا ہے، نےچین کی جانب سے سابق برطانوی کالونی کی آزادی کو خطرے کے خوف کی وجہ سے گزشتہ سال شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران غیرجانبدار رہنے کی کوشش کی۔گزشتہ سال اگست میں ایچ ایس بی سی کی ایک مداخلت اس وقت سامنے آئی جب بینک نے مقامی اخبارات میں پورے صفحے کے اشتہارات نکال کر بحران کے پرامن حل کا مطالبہ کیا تھا۔

سی ایل ایس اے کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر فریزر ہووے نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ہانگ کانگ میں کارپوریٹ ورلڈ کی سمت کا تعین کرنا کتنا مشکل ہے کیونکہ آپ بھی مظاہرین کے غصہ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

مظاہرین نے تحریک کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کو زرد رنگ اور دیگر کو نیلا رنگ یا پولیس اور سرکاری حکام کی پشت پناہی کرنے والی کے طور پر نامزد کیا ہے۔

ایچ ایس بی سی نے کہا ہے کہ نومبر میں اکاؤنٹ بند کرنے کا فیصلہ اصول کے مطابق عمل کی بناء پر اور پولیس کی مداخلت سے قبل ہی کرلیا تھا۔گزشتہ ماہ کے آخر میں پولیس نے منی لانڈرنگ کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لیا اور اسپارک الائنس کی ملکیت 7 ملین ہانگ کانگ ڈالر(90 لاکھ امریکی ڈالر) منجمدکردیئے، مبینہ طور پر کچھ رقم کا ذاتی انشورنس مصنوعات کی خریداری کیلئے غلط استعمال کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منافع کو خطرہ کی بجائے اسے ہدف بناناایچ ایس بی سی کیلئے تعلقات عامہ زیادہ بڑا چیلنج ہے،جو امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے بڑا خطرہ ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں بینک نے سہ ماہی اپ ڈیٹ میں کہا تھا کہ اس نے ہانگ کانگ میں کاکردگی میں لچک کا مظاہرہ کیا۔

اسپارک الائنس کیلئے فنڈ جمع کرنے والے باکس میں 5 سو ہانگ کانگ ڈالر ڈالنے والی امریکی نجی ایکوئٹی فنڈ کی 63 سالہ منتظم ٹریسا لام نے کہا کہ ایچ ایس بی سی ہانگ کانگ کے عوام کا بینک ہے، اب آپ دنیا کی سب سے خوفناک کمیونسٹ پارٹی کیلئے ہانگ کانگ کے شہریوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔

وی سی ایسٹ مینجمنٹ کی مینجنگ دائریکٹر لوئس تس منگ کوونگ نے کہا کہ رواں ہفتے بدامنی کے باوجود ایچ ایس بی سی کے اس سال کے نتائج پر اس واقعےکا کم سے کم اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے گروپ کے اندر کہیں اور مقابلے میں ہانگ کانگ کا حصہ زیادہ ہے،تاہم اگر تجارتی جنگ بتدریج حل ہوجائے تو میرے خیال میں ایچ ایس بی سی اتنا مستحکم ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ساتھ علاقائی منڈیوں کے اندر اپنے کاروبار کا ازالہ کرسکے۔

ایچ ایس بی سی نے کہا کہ بینک شیروں کی مرمت کے بارے میں مشورے کیلئے ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین سے رابطے کررہے ہیں۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید