آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کان کنی کے منصوبوں میں جوش بڑھنے سے پرتگال لیتھیم کے ہیجان کی گرفت میں

لزبن: پیٹر وائز

اسپین کی سرحد کے قریب واقع شمالی پرتگال کی پہاڑیوں میں دور دراز کا ایک گاؤں کوواس ڈو باروسو مقامی میڈیا جسے لیتھیم بخار یا لیتھیم کا جوش کہہ رہا ہے ،کی گرفت میں ہے۔

مغربی یورپ کے سب سے بڑے لیتھیم کے ذخائر سے تھوڑی دور واقع اس گاؤں میں جوش خروش اس وقت بڑھ گیا جب حکومت نے ملک کو یورپ کا برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کے اہم جزلیتھیم دھات کی پیداوار کا مرکز بنانے منصوبہ تیار کیا۔

قریبی لیتھیم کان تیار کرنے والی برطانوی کمپنی ساوانا ریسورسز کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ آرچر پر اعتماد ہیں کہ اس منصوبے سے یورپ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں مددملے گی اور ایک پسماندہ آبادی والے علاقے میں بے شمار معاشرتی، معاشی اور آبادیاتی فوائد حاصل ہوں گے۔

تاہم متعدد مقامی لوگ اس خوف سے کہ کان کنی سے زمین کی دلکشی متاثر ہوگی، پانی آلودہ ہوجائے گا اور پائیدار کاشت کاری کی ترقی میں خلل آئےگا جس پر مقامی معیشت کا انحصار ہے،اس پیشرفت کو روکنے کے لئے پرعزم ہیں۔

کان کی مخالفت کرنے والی مقامی تحریک کی ترجمان کترینہ اسکیروٹ نے کہا کہ کان کنی اکثر اوقات ایک طفیلی سرمایہ کاری ہوتی ہے، یہ جو کچھ دیتی ہے اس سے زیادہ لے لیتی ہے۔

کان کنی کے ایک درجن سے زائد مخالفت کرنے والے گروپس شمالی پرتگال بھر میں سامنے آئے ہیں،جس کے لیتھیم کے ذخائر نے سفیدسونا کی تیز رفتاری کو متحرک کیا ،مجوزہ لائسنس کیلئے متعدد درخواستیں دی جارہی ہیں اور لیتھیم کی تلاش کے لئے ایک بین الاقوامی لائسنسنگ ٹینڈر رواں سال کے آغاز میں شروع کیا جانا ہے۔حکومت کو توقع ہے کہ پانچ انتہائی امید افزا علاقوں میں تقریبا 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔

لزبن پرتگال میں مکمل لیتھیم ویلیو چین تیار کررہا ہے تاکہ شمالی بندرگاہ لیکس پر لیتھیم ریفائنری تعمیر کرکے جدید یورپی الیکٹرک گاڑیوں کے بیٹری سیلز کی پیداوار کی تحریک کو یورپی یونین کے اندر ہی محدود کیا جائے۔اس وقت یورپ کی تمام بیٹری گریڈ لیتھیم یورپی یونین کے باہر سے درآمد کی جارہی ہے۔

سیکرٹری برائے توانائی جوائو گالمبا نے کہا کہ ہمارا مقصد لیتھیئم کان کنی سے آگے بڑھ کر ایک پورا صنعتی شہر بسانا ہے جو پرتگال کو اس علاقے میں برتری دے گا۔

تاہم کان کنی کے حقوق کے حصول میں تیزی نے لیتھیم مخالف مظاہروں، درخواستوں،سوشل میڈیا مہموں اور پارلیمانی مباحثوں کو تیز کردیا ہے۔مسئلہ نہ صرف مقامی برادریوں کے مستقبل کا ہے بلکہ بہت سارے مہم چلانے والوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے کیلئے برقی گاڑیاں بہتر طریقہ نہیں ہیں۔

سیرا ڈا ایسٹریلا پہاڑی سلسلے کے قریب کان کنی مخالف تحریک کی نمائندہ ریناتا المیڈا کا کہنا ہے کہ ہمیں برقی گاڑیوں کو بجلی فراہم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ بجلی کی پیداوار کی ضرورت ہے جو یقینی طور پر کوئلے سے چلنے والے زیادہ پیداواری یونٹس کی تعمیر کا باعث بنے گی۔گزشتہ سال اس علاقے میں لیتھیم کی موجودگی کے امکان کیلئے پندرہ درخواستیں پیش کی گئیں۔

گزشتہ عشرے کے دوران، نامیاتی کھیتی باڑی اور چھوٹے پیمانے پر پائیدار سیاحت میں سرمایہ کاری نے شمالی پرتگال کے اندرون دیہی میں مقامی کمیونٹیز کی بحالی میں مدد دی،ایک ایسا علاقہ جو2017ی جنگلات کی آگ کی تباہ کاریوں سے ابھی بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

بہت سے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ لیتھیم کی تلاش سے اس پیشرفت میں خلل واقع ہوگا۔سیرا ڈا ایسٹریلا کے قریب ایک چھوٹا مستحکم سیاحت کا کاروبار چلانے والی کترینہ ویرا نے کہا کہ پرتگال نے اس سے قبل کھلے گڑہوں کی کھدائی کی کان کنی کا تجربہ کبھی نہیں کیا جس سے قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام پر بڑا اثر مرتب ہوگا جس پر ہماری ملازمت،کاروبار اور مقامی مصنوعات انحصار کرتے ہیں۔

22 سال کوواس ڈو باروسو میں گزارنے کے بعد اب بیرون ملک تعلیم دینے والی محترمہ اسکیروٹ نے کہا کہ میں نے انفرادی سطح پر اپنی کمیونٹی کے لئے خدشات کا آغاز کیا تھا تاہم اب میں ایک ایسی شہری ہوں جسے اپنے ملک کے بارے میں فکر ہے۔ لیتھیم کی کان کنی اور ریفائننگ پرتگال کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے ملک کو طویل المدتی نقصان پہنچے گا۔

مسٹر آرچر اس سے مختلف یقین رکھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کان کنی کی صنعت میں چھوٹی سی پیشرفت سے یورپ کو کاربن میں کمی کے اہداف کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

انہوں نے تخمینہ لگایا کہ کان کنی کے پندرہ سال کے عرصے میں چین، آسٹریلیا اور لاطینی امریکا سے لیتھیم کے جہاز بھیجنے کی ضرورت کو کم کرکے اور برقی گاڑیوں کے لئے ایک اہم مواد کی فراہمی تقریباََ 100 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کو ختم کردے گا۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ کان مغربی یورپ کے پسماندہ ترین خطوں میں سے ایک میں چھوٹی سی کمیونٹی میں دوبارہ جان ڈال سکتی ہے۔سوانا کو توقع ہے کہ کان میں 200 اور بلاواسطہ طور پر 400 ملازمتیں پیدا ہوں گی، اور مسٹر آرچر نے اندازہ لگایا کہ اس منصوبے سے قومی حکومت اور مقامی بلدیات کو 250 ملین ڈالر ٹیکس اور رائلٹی ملے گی۔

ساوانا ان دو کمپنیوں میں سے ایک ہے جن کو پرتگال میں ابھی تک لیتھیم کی تلاش کیلئے مراعات دی گئی ہیں۔کمپنی جس کی مارکیٹ ویلیو 30 ملین یورو ہے،کا پروجیکٹ میں تقریبا 100 ملین یورو کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ رواں سال کے اوائل میں ماحولیاتی اثرات کے مطالعے کی اشاعت کے بعد امید ہے کہ پروجیکٹ2022 میں مکمل پیمانے پر پیداوار شروع کردے گا۔

ساوانا جس نے مقامی کمیونٹیز سے باقاعدہ ملاقاتیں کیں، اعلیٰ ترین ماحولیاتی معیار کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔مسٹر گلمبا نے اس بات کی بھی ضمانت دی کہ مقامی آبادی کے تمام خدشات کو پوری طرح سے مدنظر رکھا جائے گا۔

مہم چلانے والے تاحال قائل نہیں ہوئے ہیں۔محترمہ المیڈا نے کہا کہ اپنے دیہی علاقوں کو قائم رکھنے اور آلودگی سے پاک ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے اندرون دیہی کو بقید حیات رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ہمارے خوبصورت مناظر ہی ہمارا خام مال ہیں جن پر ہمارے معاش کا انحصار ہوتا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید