آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایمان صغیر

امریکی خلابازوں کو چاند پر لے جانے والے میگا راکٹ کا کور اسٹیج تیّار ہوچکاجو نئے راکٹ کا مرکزی حصّہ ہے

امریکی خلائی ادارہ ناسا اب تک متعدد جہاز اور راکٹ خلا میںبھیج چکا ہے، کبھی کوئی خلا میں زندگی کےاثرات تلاش کرتا ہے تو کوئی مریخ پر پانی کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے ۔ناسا نے چندروز قبل اپنا میگاراکٹ ’’اسپیس لانچ سسٹم ‘‘(ایس ایل ایس )کا کوراسٹیج امریکا کی ریاست نیو اور لینز کی فیکٹری سے تیار کروایا ہےجب کہ 30 منزلہ عمارت سے زیادہ اونچا یہ راکٹ طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نےتیار کیا ہے ۔فی الحال اس پر اہم تجربے کیے جائیںگے۔ ایس ایل ایس یعنی اسپیس لانچ سسٹم ناسا کے آر ٹیمیس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے ،جس کا مقصد 2024ء تک امریکی خلا بازوں کوایک مرتبہ پھرچاند پر لے کر جانا ہے ۔

کور اسٹیج نئے راکٹ کا مرکزی حصہ ہے اور اسی پر جامع تجربات کیے جائیں گے ۔ اسے ایک بڑی سی چوکور کشتی پر لاد کر منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ناسا کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر جم مورہارڈ کا کہنا ہے کہ راکٹ کوراسٹیج کی تیاری ’جوش سے بھر دینے والی کامیابی ہے اور اس دوران ناسا کی ٹیمیں لانچ پیڈ تیار کر رہی ہیں۔

اس پروگرام کا اعلان 2010 ءمیں کیا گیا تھا ،مگر تب سے اب تک اس میں کئی مرتبہ تاخیر ہوئی جب کہ اس کی لاگت میں اضافہ ہوا۔خلائی صنعت سے وابستہ چند افراد کا خیال ہے کہ خلا میں دور دراز تک کے سفر کے لیے بہتر ہو گا کہ کمرشل راکٹس کا استعمال کیا جائے، مگر اس پروگرام کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناسا کے پاس ایسی صلاحیت خود موجود ہونی چاہیے۔

ایم اے ایف سے باہر آنے کے بعد اس کور کو ناسا کے پیگاسس بجرے پر لادا گیا، جس کے بعد یہ آبی راستے سے گزرتا ہوا مسیسیپی میں بے سینٹ لوئس کے قریب ناسا کے اسٹینِس خلائی مرکز پہنچے گا۔ناسا کے اسٹینِس خلائی مرکز میں کی جا رہی اس آزمائشی مہم کو’’گرین رن‘ ‘کا نام دیا گیا ہے اور اس میں پہلی مرتبہ کور اسٹیج کے تمام سسٹمز کو ایک ساتھ چلا کر دیکھا جائے گا۔چار طاقتور آر ایس 25 انجنوں کو تقریباً آٹھ منٹ یا شاید اس سے کم کے لیے مختلف تھروٹل سیٹنگز پر چلایا جائے گا۔ 

یہ لانچ کے دوران درکار تھرسٹ یا قوت کی نقل کرنے جیسا ہو گا ۔ ایس ایل ایس کی کور اسٹیج میں دو ایندھن کے ٹینک ہوں گے ،جس میں سے ایک میں مائع آکسیجن اور دوسرے میں مائع ہائیڈروجن ہو گی۔مجموعی طور پر ان دونوں ٹینکوں میں سات لاکھ 33 ہزار گیلن (27 لاکھ لیٹر) ایندھن ہو گا ،تاکہ دونوں انجنوں کو طاقت فراہم کی جائے۔

ایس ایل ایس کو 1981 سے 2011 تک چلنے والے خلائی شٹل پروگرام کے لیے تیار کی گئی ٹیکنالوجی دوبارہ استعمال کرنے کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔آر ایس 25 انجن وہی ہیں جو خلائی شٹل میں استعمال کیے گئے تھے اور ایس ایل ایس کور اسٹیج کو اس بیرونی ایندھن ٹینک کی طرح تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے شٹل کے انجنوں کو ایندھن فراہم کیا جاتا تھا۔ 

لیکن اس میں چند تبدیلیاں ضرور کی گئی ہیں۔اسپیس شٹل کو لانچ میں مدد دینے والے دو سولِڈ راکٹ بوسٹرز ایس ایل ایس کی کور کی دونوں جانب موجود ہوں گے۔یہ راکٹ ناسا کے جدید ترین خلائی جہاز اورائن کو چاند کے راستے تک پہنچائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ راکٹ کی پہلی لانچ (آرٹیمس 1) 2021 ءمیں کی جائے گی۔

گذشتہ برس ایس ایل ایس پروگرام میں بوئنگ کے سربراہ جان شینن کے مطابق ایک مرتبہ ایس ایل ایس جب قومی صلاحیت بن جائے گا، تو ہمیں کئی برسوں تک کسی دوسری ہیوی لفٹ وہیکل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چنانچہ یہ واقعی بہت نایاب موقع ہے۔یہ اب تک ناسا کی بنائی گئی سب سے بڑی راکٹ ا سٹیج ہے، جس میں اپالو پروگرام کی سیٹرن فائیو راکٹ اسٹیج بھی شامل ہیں۔

ناسا کی ایس ایل ایس اسٹیجز مینیجر جولی بیسلر کا کہنا ہے کہ پرواز کے پہلے ضروری حصے کا فیکٹری سے نکلنا ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے تاریخی موقع ہے اور اس پر کام کرنے والی ٹیم کے لیے فخر کا مقام ہے۔اس دوران ناسا اور اس کے پارٹنرز نے پہلے آرٹیمس مشن کے لیے اورائن اسپیس کرافٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ 

یہ اب ریاست اوہائیو میں پلم بروک اسٹیشن میں حتمی آزمائشوں سے گزارا جا رہا ہے۔آرٹیمس 1 مشن میں اورائن کو چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے بھیجا جائے گا ،تاکہ خلا میں اس کی کارکردگی پرکھی جاسکے۔ اس مشن میں کوئی عملہ نہیں جائے گا۔

آرٹیمس 2 وہ پہلا مشن ہو گا، جس میں چار خلا بازوں پر مشتمل عملے کو بھیجا جائے گا لیکن یہ چاند پر اترنے کے بجائے صرف چاند کا چکر لگا کر واپس آ جائے گا۔آرٹیمس 3 جسے 2024 ءمیں لانچ کرنے کی توقع کی جا رہے ہے، اس میں چاند کے جنوبی قطب پر ایک مرد اور ایک خاتون خلا باز کو اتارا جائے گا۔یہ 1972 ءکے بعد پہلا موقع ہوگا جب خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید