آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ میری نانو، صومہ خاتون کی کہانی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’زندگی کا وہ ایک پَل میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے، جس نے میری دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔‘‘ وہ کیسا، کون سا پَل تھا، اُن ہی کی زبانی سُنیے۔

’’مَیں1942ء میں چونڈہ کے قریب ایک گاؤں، خان پور کے ایک متوسّط گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حُسن کی دولت سے خُوب نوازا تھا، خُوب صُورت اور من موہنی صُورت کی وجہ سے والدین کے بقول سب کی توجّہ کا مرکز بنی رہتی تھی، حالاں کہ گھر میں میرا ساتواں نمبر تھا۔ مَیں نے ابھی پائوں پائوں چلنا ہی سیکھا تھا کہ ایک شام مُرغی کے چوزوں سے کھیلتے ہوئے نہ جانے کس کی نظرِبد لگی کہ رات کو اچانک بہت تیز بخار ہوگیا۔ قریب میں کوئی ڈاکٹر، حکیم نہ تھا۔ دو دن تک ماں جی گھر کے ٹوٹکے آزماتی رہیں، مگر بخار اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ 

اُن دنوں میرے والد صاحب کاروباری مصروفیات کی وجہ سے کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ بہرحال، تیسری رات بخار تو اُترگیا، مگر پورا جسم ایک دَم سے ٹھنڈا ہوگیا۔ کپڑے، چادر سب پانی پانی ہوگئے۔ ماں جی نے میری یہ کیفیت دیکھی، تو گھبرا گئیں، انہوں نے دِیے کی لَو تیز کرکے سب بچّوں کو جگادیا کہ ’’دیکھو صومہ کو کیا ہوگیا ہے۔‘‘ بقول اُن کے، اُس وقت میں بالکل ساکت ہوگئی تھی، کوئی جنبش نہیں کررہی تھی، بالکل بے حس و حرکت پڑی تھی۔ بہن، بھائی بھی میری حالت دیکھ کر رونے لگے۔

صبح ہوئی، تو والدہ نے مجھے دوسرے گائوں کسی ہندو حکیم کو دکھانے کا سوچا۔ میری دو بڑی بہنیں بھی تھیں، میری ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر میری ایک بڑی بہن نے بھی ماں کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا اور مجھے گود میں اٹھاکر ماں کے ساتھ چل پڑیں۔ دوسری بہن گھر ہی میں رہ گئیں۔ کافی دُور پیدل سفر کے بعد حکیم صاحب کے پاس پہنچے، تو انہوں نے تفصیلی معائنے کے بعد بتایا کہ بچّی کو ٹائیفائڈ ہوگیا ہے، جس نے جوڑوں کو ڈھیلا اور پٹّھوں کو کم زورکردیا ہے۔ بہرحال، حکیم صاحب نے چند پڑیاں کھانے کو دیں۔ تین ماہ کی تگ و دو اور صبح شام کے علاج سے میں زندگی کی طرف پلٹنے لگی۔ غالباً سات دہائی قبل کے ٹائیفائڈ بخار کو موجودہ دَور میں پولیو کا نام دیا جاتا ہے۔ 

بہرحال، حکیم صاحب کے علاج سے پہلے گردن نے کچھ حرکت پکڑی، پھر دونوں بازو، انگلیاں اور بائیں ٹانگ بھی کچھ بہتر ہونے لگی، مگر دائیں ٹانگ حرکت کرنے سے قاصر رہی۔ ان دنوں قیامِ پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی۔ ایک روز حکیم صاحب، جو کہ ہندو تھے، یہ کہہ کر بھارت روانہ ہوگئے کہ اب بچّی کا علاج آپ لوگ سیال کوٹ میں کروائیں، امید ہے کہ کچھ عرصہ مزید علاج کے بعد یہ چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے گی۔ حکیم صاحب کے یوں اچانک بھارت چلے جانے کے بعد میرے والدین بہت پریشان ہوئے، تاہم ان کی ہدایت کے مطابق میرے علاج کے خاطر جلد ہی سیال کوٹ شفٹ ہوگئے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی وجہ سے سیال کوٹ میں بھی قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ ابّاجی نے ہم سب بہن بھائیوں کو شہر کے ایک اسکول میں داخل کروادیا۔ 

یوں نئے سرے سے زندگی کا آغاز ہوا۔ والد صاحب نے آڑھت کا کام شروع کیا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونے اور سیٹ ہونے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے، لہٰذا اس جھنجھٹ میں میرا علاج بھی حالات کی نذر ہوگیا، لیکن ابّا جی نے ہمّت نہیں ہاری اور دوبارہ میرے علاج معالجے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ انہیں پتا چلا کہ اس مرض کا ایک ماہر ڈاکٹر جرمنی سے میو اسپتال، لاہور آیا ہے، تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مجھے لے کر لاہور پہنچ گئے۔ یوں میو اسپتال، لاہور میں میرا علاج شروع ہوگیا۔ اس دوران میری ٹانگوں کے کئی آپریشن ہوئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری بڑی آپا جب مجھ سے ملنے اسپتال آئیں، تو میرے لیے ایک گڑیا اور باجا بھی لائی تھیں۔ وہاں کئی ہفتے میرا علاج ہوتا رہا، مگر نتیجہ صفر ہی رہا، مایوسی مزید بڑھ گئی اور تھک ہار کر گھر بیٹھ گئے۔

ابّا جی نہایت محنتی، شاعرانہ ذوق کے حسّاس دل انسان تھے، اکیلے کمانے والے تھے، وہ گھر کی دیگر ذمّے داریوں کے ساتھ میرے علاج سے کبھی غافل نہیں رہے، میرے علاج بھی خصوصی توجّہ دیتے رہے۔ بہرحال، وقت گزرتا جارہا تھا۔ بیماری اور معذوری کی وجہ سے میری تعلیم بھی حالات کے نذر ہوچکی تھی۔ خالد بھائی مجھ سے تین برس بڑے تھے، ان کا میرا دن، رات کا ساتھ تھا۔ اکثر وہ میرا نام لے کر اپنی خواہشات ابّاجی سے پوری کروالیتے تھے۔ انہوں نے سائیکل چلانا سیکھی، تو مجھے سیال کوٹ کے قلعے تک کی سیر کروانے لگے۔ اکثر کاندھوں پر اٹھاکر چھوٹی آپا کے گھر بھی لے جایا کرتے۔ اسی طرح دن گزرتے رہے۔اس عرصے میں ابّاجی میرے علاج پر دل کھول کر پیسا خرچ کرتے رہے، مگر میری معذوری ختم نہ ہوسکی۔

رفتہ رفتہ میں نے اپنی ضرورت کے تحت اِدھر اُدھر کم زور لٹکتی ٹانگوں کے ساتھ زمین پر گِھسٹنا سیکھ لیا۔ مجھے ہلتے جُلتے دیکھ کر گھر والے بھی خوش ہوگئے، وقت گزرنے لگا، بدن طاقت ور ہوتا گیا، تو گِھسٹ گِھسٹ کر سیڑھیوں سے چڑھنے اترنے میں ماہر ہوگئی، لیکن جب دوسرے بچّوں کو اپنے پیروں پر چلتا دیکھتی، تو دل اُداس ہوجاتا، بار بار آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ میاں سے سوال کرتی کہ ’’اللّٰہ جی تُونے مجھے ایسا کیوں کردیا۔ میرے بہن بھائی اور سب بچّے اسکول جاتے ہیں، کھیلتے ہیں، میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ جو اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر چل بھی نہیں سکتی۔‘‘ اس موقعے پر میری ماں میری کیفیت بھانپ کر بڑے پیار سے سمجھاتیں، تو میں بیٹھک کے دروازے پر جا بیٹھتی اور گھنٹوں لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی رہتی۔ 

ایک روز اسی طرح بیٹھک کے دروازے پر بیٹھی تھی کہ گدھے پر سوار ایک معذور بچّہ نظر آیا، وہ اپنے منہ سے عجیب انداز سے ’’ایں ایں‘‘ کی آوازیں نکال کر بھیک مانگ رہا تھا۔ مَیں نے نظر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا، توشدّتِ غم سے کانپ کر رہ گئی، اس کے تو چاروں ہاتھ پائوں ٹیڑھے تھے، منہ سے رال ٹپک رہی تھی اور آنکھوں سے بھی پانی بہہ رہا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی میں ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ 

کچھ دیر تک اس بچّے کی حالت پر غور کرتی رہی، پھر صدقِ دل سے اللہ میاں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’’شُکر ہے اللّٰہ جی! میں تو بہت بہتر ہوں، کتنا کچھ کرسکتی ہوں۔ بیڈ پر چڑھ سکتی ہوں، دیوار کا سہارا لے کر لائٹ آن کرسکتی ہوں، تین منزلہ گھر کی سیڑھیاں بھی چڑھ جایا کرتی ہوں۔‘‘ یہی سب باتیں سوچتے ہوئے میں نے اپنے حواس بحال کرکے جب دروازہ کھولا، تو وہاں کوئی نہ تھا۔ گدھا اور بچّہ غائب ہوچکے تھے۔ 

بس یہی میری زندگی کا وہ ایک اہم پَل تھا، جس نے میری زندگی کا رُخ بدل کر رکھ دیا۔ یوں میں نے خوش رہنا اور جینا سیکھ لیا۔ عام لوگوں کی طرح مصروفیات کو اپنی زندگی کا معمول بنالیا۔ میں نے زندگی کے نشیب و فراز سے یہی سیکھا کہ ایک کمی کے سا تھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔ عزم و حوصلہ دیا ہے، کچھ نہ کرنے سے کچھ کرلینا بہتر ہوتا ہے۔ اس کے بعد مَیں اپنے تمام کام خود ہی کرنے لگی، اگرچہ آج میری سلائی مشین بھی میرے ساتھ بوڑھی ہوگئی ہے، لیکن اس کے باوجود ہفتہ بھر میں ایک جوڑا تو سی ہی لیتی ہوں۔ بلاشبہ، حقیقتیں تلخ ہی ہوتی ہیں، لیکن جب انسان انہیںصدقِ دل سے قبول کرلیتا ہے، تو اُن کی کڑواہٹ کم ہوجاتی ہے، لہٰذا ہر وقت اللہ میاں سے شکوے شکایات کے بجائے اس کا شُکر ادا کرنےکی عادت اپنالی جائے، تو زندگی بہت آسان ہوسکتی ہے۔

آج بڑھاپے کی دہلیز پر مختلف بیماریوں کا شکار ہونے کے باوجود میں اپنے رب کی بے حد شُکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھے زندگی کے بے پناہ مسائل کے باوجود جینے کی اُمنگ دی۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کا انجام بخیر کرے، آمین۔‘‘ (صفیہ شاکر، اسلام آباد)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور ان کےقلم کار برائے صفحات جہانِ دیگر، پیارا وطن، ناقابلِ فراموش، متفرق

٭سمندری، تاریخ کے آئینے میں (اکرام الحق چوہدری، سمندری) ٭مرتا کیا نہ کرتا (شکستہ مزاری، کشمور) ٭پاکستانی شمالی علاقہ جات (خواجہ تجمّل حسین، کراچی) ٭ گجرات کا تاریخی پس منظر+ پنّوں کا دیس، کیچ مکران+ جھنگ تا رنگ پور کھیڑا+ترکی تا سوہاوہ +ٹلّہ جوگیاں(حکیم افتخار احمد، لاہور) ٭لاہور سے پشاور براستہ جی ٹی روڈ (مدثر اعجاز) ٭عالی جی!(ناز جعفری، اورنگی ٹاؤن، کراچی) ٭قاتل کیڑے (ڈاکٹر عبدالحمید خان، کوئٹہ) ٭جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم (اجمل بھٹی)سفرِ حرمین شریفین (احمد علی، سیال کوٹ)سیّاحوں کی جنّت پاکستان (پرویز قمر، اورنگی ٹاؤن، کراچی) ٭اپنا قبلہ درست کریں (علیشبہ احمد) ٭کرامات کا سودا (افسانہ مہر) ٭قائدِ عوام، ذوالفقار علی بھٹو +طلبہ کے عالمی دن پر (اختر سردار چوہدری، کسووال) ٭نوشہرہ سے دُرگئی تک ریلوے ٹریک +سیر و سیّاحت بذریعہ ریل+بھارتی سکھوں سے اچھے تعلقات+دعا اور دوا (فرخ ریاض بٹ) ٭جب میں نہ تھا (ضیاء الدین بٹ، مانسہرہ روڈ، ایبٹ آباد) ٭سُوئے حرم وہ عقیدتوں اور چاہتوں کا سفر(ڈاکٹر غزالہ علیم، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ، کراچی) ٭میری محترم عظیم والدہ (شاہ زیب یونس شیخ، لطیف آباد، حیدر آباد) ٭ایک تیری خاطر (شبو شاد شکارپوری، ملیر، کراچی) ٭کینجھر جھیل (ثمر عنایت) ٭ آج کل کی صحافت اور پریس کا کردار (مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا) ٭ اگر یہ پیماں ٹھہرا رنگ و بو کا (تہمینہ مختار) ٭ میرا پاکستان، اللہ تعالیٰ کا انعام (شمیم انور، نارتھ کراچی، کراچی) ٭علّامہ اقبال اور آج کا پاکستان (صبا احمد، کراچی) ٭اوزون (حسن احمد، اسلام آباد) ٭ڈیجیٹل ٹھگ (صدف ایوب) ٭محبت کا عالمی دن (صبا تحسین)٭بلتستان، سیّاحوں کی جنّت (شاکر حسین شمیم)٭پاکستان، کرپشن اور احتساب (بختیار آغا، پشاور) ٭ترکی کے شہر ’’شانلی اورفہ‘‘ میں بیتے دن (انور غازی) ٭دشت و دریا کا سنگم (عبداللہ نظامی، کوٹ سلطان) ٭گرم پانی کے چشمے (محمد آصف ملک) ٭ میڈیا، بچے اور ہم (سہیل رضا تبسّم)۔

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔