• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
, ,

چین: جان لیوا وائرس پھیلنے لگا، صدر نے دنیا سے مدد مانگ لی

سارس جیسا ایک وائرس دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں تیزی سے پھیلنے لگا جبکہ یہ اس کی سرحدوں سے نکل کر دوسرے ایشیائی ممالک تک پہنچ گیا ہے۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیماری کے مزید پھیلنے کے خدشات ہیں کیونکہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوسکتی ہے۔

یہ نیا کرونا وائرس چینی شہر ووہان میں پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے چین اور ہانگ کانگ میں 2002 اور 2003 کے دوران 650 لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

اس وقت ووہان میں اس وائرس کے 218 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ بیجنگ اور شنگھائی میں بھی یہ وائرس رپورٹ ہوا ہے۔

سائنسدان اب بھی اس وائرس کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ وائرس کا مچھلی مارکیٹ سے انسانوں میں منتقل ہونے کا امکان ہے۔

اس وائرس کا تعلق سیویئر ایکیوٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (سارس) نامی وائرس سے ہونے کے امکانات ہے جس میں انسانون کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے ژہانگ ننشان نامی نامور سائنسدان کا کہنا ہے کہ ووہان کا دورہ کیے بغیر بھی یہ بیماری دور رہنے والوں کو لاحق ہوسکتی ہے۔

سی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایسا وائرس ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین کے شہر گوانگ ڈونگ میں ایک ہی گھر کے کچھ افراد کو یہ وائرس لاحق ہوا کیونکہ ان میں سے ایک شخص نے ووہان کا دورہ کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ ایک جانور اس وائرس کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے، کچھ محدود حد تک انسان خود بھی اس کی منتقلی کی وجہ ہیں۔

ایک کروڑ سے زائد آبادی والا ووہان قمری سالِ نو کے دوران چینی باشندوں کے لیے سب سے بڑا حب ہے جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے چین کے دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں۔

معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جانا چاہیے۔

شی کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً متعلقہ معلومات جاری کی جائیں جبکہ اس کے لیے زبردست بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔

چینی حکام کے مطابق اس وقت بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں میں بھی یہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے شنگھائی میں وائرس کا شکار ہونے والی 56 سالہ خاتون حال ہی میں ووہان کا دورہ کرکے واپس تجارتی شہر آئی تھیں۔

دوسری جانب ایک اور شمال مشرقی ایشیائی ملک جنوبی کوریا نے بھی اپنے ملک اس مہلک وائرس کے شکار ایک مریض کے اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ شخص بھی چین کے شہر ووہان کا دورہ کرکے جنوبی کوریا پہنچا تھا۔

دیگر ممالک میں تھائی لینڈ اور جاپان بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اس وائرس سے متاثرہ کیسز ان ممالک میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترین