آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آرڈی اے ملازمین کی ترقی کے کیس طویل عرصہ سے زیر التواء

راولپنڈی (اپنے نامہ نگار سے ) آرڈی اے افسران کی طرف سے اتھارٹی میٹنگ میں ہونے والے اپنے مفادات کے فیصلوں پر فوری عملدرآمد ہو رہا ہے جبکہ چھوٹے ملازمین کےمعاملات فنانس ڈیپارٹمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ د یئے جاتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق آرڈی اے کی 2011 ء میں ہونے والی اتھارٹی میٹنگ میں پٹواری کو گریڈ پانچ سے 9دینے کی منظوری دی گئی تھی مگر اس کا کیس فنانس ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا گیا حالانکہ وہ اتھارٹی کا ملازم بتایا جاتا ہے ، اس طرح آرڈی اے میں چودہ سال قبل آنے والا یہ پٹواری گریڈ پانچ سے آگے نہ جاسکا جبکہ محکمہ ریونیو پنجاب میں پٹواری کا سکیل 9ہو چکا ہے ، اسی طرح آرڈی اے کی 44اتھارٹی میٹنگ میں آرڈی اے کے بلڈنگ انسپکٹروں کو گریڈ گیارہ سے چودہ جبکہ واسا کے ریونیوانسپکٹروں کو گریڈنو سے چودہ دینے کی منظوری دی گئی تھی ، آرڈی اے کے چھ انسپکٹروں کا کیس تھا جبکہ اس کے مقابلے میں واسا کے 43ملازمین کا کیس تھا جس میں بل ڈسٹری بیوٹرز بھی شامل تھے، واسا حکام نے اس اتھارٹی میٹنگ کے فیصلے پر 4اکتوبر 2019کو عملدرآمد کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا مگر اس کے مقابلے میں آرڈی اے کے 6بلڈنگ انسپکٹر اپنے حق کیلئے کبھی ایک افسر تو کبھی دوسرے افسر کے پاس جا رہے ہیں مگر انہیں اگلا گریڈ نہیں دیا جا رہا۔ ذرائع کے

مطابق اسی اتھارٹی میٹنگ میں ایل ڈی اے کو مثال بناتے ہوئے تمام ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں پچاس فیصد تک منظوری دی گئی جس پر فوری طور پر بغیر فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے منظوری لئے من و عن عملدرآمد بھی کر دیا گیا جس میں افسران کی تنخواہوں میں پچاس ہزار روپے تک ماہانہ اضافہ ہو گیا۔ آرڈی اے حکام کا موقف ہے کہ چونکہ ایل ڈی اے نے بھی اپنے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں پچاس فیصد اضافہ کر رکھا ہے لہٰذا آرڈی اے میں بھی اسی کو مثال بنایا گیا ہے ، بلڈنگ انسپکٹروں وغیرہ کے معاملات کو بھی دیکھ لیا جائے گا۔

اسلام آباد سے مزید