آپ آف لائن ہیں
ہفتہ10؍شعبان المعظم 1441ھ4؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مسئلہ کشمیر: عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالے، سابق وزیراعظم ناروے

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کشمیر پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر مظالم ختم کروانے اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

ناروے کے اہم تھنک ٹینک ’’پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو‘‘ کے زیراہتمام ’’مسئلہ کشمیر اور جنوبی ایشیاء میں اس کے مضمرات‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں ناروے کے دانشور، سیاسی اور سماجی امور کے متعدد محققین اور اسکالرز نے شرکت کی۔

سیمینار  کے دوران سینٹ آف پاکستان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید، جنوبی ایشیاء کے بارے میں تحقییقاتی ادارے ’’ساسی‘‘ کی چیئرپرسن اور وزارت دفاع پاکستان کی مشیر ڈاکٹر ماریہ سلطان، ڈائریکٹر پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو (پری او) کرستئن برگ ہارپویکن، پری او کی سینئر ریسرچر مس کایا بورچہ رے وینک اور سابق رکن نارویجن پارلیمنٹ خالد محمود نے خطاب کیا.

جبکہ ناروے کے سابق وزیراعظم شیل مانگنے بوندے ویک، کشمیر اسکینڈے نوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار علی شاہنواز خان اور ناروے کی پارلیمنٹ میں ایس وے پارٹی کے رکن پیٹر ایدے نے سیمینار کے دوران اپنے تاثرات بیان کئے۔

اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے حق میں طویل عرصے سے آواز بلند کررہا ہے۔ پاکستان جنوب ایشیاء میں امن چاہتا ہے اور خطے میں امن کے لیے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ جنوبی ایشیاء ترقی کے حوالے سے ایک ابھرتا ہوا خطہ ہے، لیکن جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا ہے، خطے کی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ کئی ملین افراد کے حقوق اور ان کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امن کے حوالے سے ناروے کا دنیا میں ایک اہم کردار ہے اور مسئلہ کشمیر پر بھی ناروے سے مذاکرات شروع ہونے چاہئیں۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پانچ اگست سےابتک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت ہی خراب ہوگئی ہے، بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مقبوضہ وادی کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، مودی حکومت نے شہریت کا متنازعہ بل پیش کرکے پورے ملک میں افراتفری پیدا کردی ہے۔ پورے بھارت میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

ڈاکٹر ماریہ نے اپنے خطاب میں تنازعہ کشمیر کے تاریخی پہلوؤں اور موجودہ صورتحال پر سیمینار کے شرکاء کو بریف کیا۔

اس سے قبل ڈائریکٹر پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو(پری او) کرستئن برگ ہارپویکن نے مہمان مقررین کا تعارف کروایا اور سیمینار کا مقصد بیان کیا۔

اس موقع پر پری او کی سینیئر ریسرچر مس کایا بورچہ رے وینک نے بھی اپنی گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں کہا کہ یہ کوئی علاقائی تنازعہ نہیں اور نہ ہی دوطرفہ مسئلہ ہے بلکہ اس کی حیثیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سابق رکن نارویجن پارلیمنٹ خالد محمود نے کہا کہ مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کے سیاسی حقوق کا مسئلہ ہے اور کشمیری طویل عرصے سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

ناروے کے سابق وزیراعظم شیل مانگنے بندے ویک نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔

ناروے کے سابق وزیراعظم اس سے قبل مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشاں رہے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے پچھلے عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کا دورہ بھی کیا۔

کشمیر اسکینڈے نیوین کونسل کے سربراہ سردار علی شاہنواز خان جو کافی عرصے سے مسئلہ کشیر کے حوالے سے کوشاں ہیں، نے سیمینار کے دوران اپنے تاثرات بیان کئے اور اس موضوع پر تین سوالات پیش کئے۔

انھوں نے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں بچوں پر تشدد کرنے کے لیے بھارت کے ایک فوجی جنرل کے حالیہ بیان کے تناظر میں کہا کہ اس طرح کے جرمن نازی طرز کے ٹاچر سیل کے منصوبے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم بڑھیں گے اور یہ بات عالمی برادری کے لیے تشویشناک ہونی چاہیے۔

رکن نارویجن پارلیمنٹ پیٹر ایدے نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی مسئلہ کشمیر پر بات کی ہے اور ہمیں بتایا جائے کہ ہم اس مسئلے کو مزید اجاگر کرنے کے لیے خاص طور وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے کوششوں میں کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سیمینار کے بارے تاثرات بیان کرتے ہوئے نارویجن پاکستانی کمیونٹی کی اہم نمائندہ تنظیم پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین قمراقبال نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر یہ اہم سیمینار تھا اور اس سیمینار کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے ناروے کے اہم حلقوں کو مسئلہ کشمیر کو بہترطور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

دراین اثناء اوسلو میں سفارتخانہ پاکستان کے زیراہتمام کمیونٹی کی ایک تقریب کے دوران سینیٹر مشاہد حسین اور ڈاکٹر ماریہ سلطان نے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کی اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ نارویجن پاکستانی کمیونٹی کی چیدہ چیدہ شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناروے میں پاکستان کے سفیر ظہیر پرویز خان، کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خالد محمود اور قونصلر زیب طیب عباسی بھی موجود تھے۔

مشاہد حسین سید اور ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایا کہ ناروے کا عالمی برادری میں امن کے حوالے سے اہم کردار ہے اور انہیں امید ہے کہ ناروے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریگا۔ ہماری خواہش ہے کہ ناروے سے مسئلہ کشمیر پر ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہو جس میں ناروے کے اہم حلقے کردار ادا کریں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید