آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ27؍جمادی الثانی 1441ھ 22؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارتی یوم جمہوریہ کا جشن منافقت ہے، محبوبہ مفتی

بھارتی یوم جمہوریہ کا جشن منافقت ہے، محبوبہ مفتی


مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی یوم جمہوریہ کا جشن منافقت ہے۔

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کے ساتھ ساتھ بھارتیوں نے بھی نریندر مودی کی انتہا پسند سرکار کو آئینہ دکھادیا۔

کشمیریوں اور بھارتیوں نے کہا کہ یوم جمہوریہ کا جشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی منافقت کا مظاہرہ ہے۔

انہوں نے یوم جمہوریہ کو بھارت میں جمہوریت کی مسخ شدہ شکل کی دردناک یادگار قرار دیا اور کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ اقدام کے ذریعے بھارتی حکومت نے ہٹ دھرمی سے بھارتی آئین کے پرخچے ارا دیے ہیں۔

بھارتیوں اور کشمیر یوں نے یہ بھی کہا کہ بغیر کسی وجہ کے سیاسی قیادت کو مہینوں نظر بند رکھنا بھارت میں جمہوریت کا تاریک ترین موڑ ہے، بھارتی عدالتوں اور میڈیا کا اس پر سوال نہ اٹھانا شرمناک ہے۔

نظر بند کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کا جشن بی جے پی حکومت کی منافقت کا مظاہرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ اقدامات کے ذریعے ہٹ دھرمی سے بھارتی آئین کے پرخچے اڑا دیے، کشمیریوں کے بھارت میں انضمام کے دعویداروں نے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی ایڈیٹوریل ڈائریکٹر سونیا سنگھ نے کہا کہ عمر عبداللّٰہ کی تصویر نے انہیں ہلا کر رکھا دیا ہے، تین سابق وزرائے اعلیٰ کو بغیر کسی جرم کے مہینوں قید میں رکھنا قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے، بھارتی حکومت کسی طرح بھی اس کو جائز ثابت نہیں کرسکتی۔

بھارتی صحافی جیوتی ملہوترا نے کہا کہ بھارت کو اپنا یوم جمہوریہ مناتے وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منتخب نمائندہ وزیراعلیٰ فاروق عبداللّٰہ بغیر کسی وجہ کہ 6 مہینے سے زائد سے جیل میں ہیں جبکہ دو سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللّٰہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند رکھا گیا ہے۔

بھارتی صحافی نیہا ڈکشٹ نے کہا کہ یوم جمہوریہ پر کشمیر کے لیے پیش کیا جانیوالا ٹیبلیو بھارتی جمہوریت کی مسخ شدہ شکل کی دردناک یادگار ہے، مہینوں سے لاک ڈاؤن مقبوضہ کشمیر میں آج سیاسی قیادت قید ہے، کاروبار بند ہے، لوگ بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔

صحافی روہینی سنگھ نے لکھا کہ بغیر کسی وجہ سیاسی قیادت کو مہینوں نظربند رکھنا بھارت میں جمہوریت کی تاریخ کا تاریک ترین موڑ ہے۔ بھارتی عدالتوں اور میڈیا کا اس پر سوال نہ اٹھانا شرمناک ہے۔

صحافی سنکرشن ٹھاکر نے کہا کہ کشمیری قیادت کا مضبوط اعصاب اور عزم و استقامت کا مظاہرہ کرکے جبر کا مقابلہ کرنا قابل تحسین ہے۔

بھارتی صحافی برکھا دت نے کہا کہ ان کے عمرعبداللّٰہ کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ لیکن ان کو اور دیگر سیاسی قیادت کو اتنے طویل عرصے تک بغیر کسی جواز قید کرکے رکھنا غلط ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید