آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گجرات کے فسادات، ملزمان کی ضمانت پر رہائی

اس ہفتے بھارت میں گجرات کے 2002 کے فسادات کے 14 ملزموں کی سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی۔ یہ وہ ملزم تھے جنہیں بڑے تفصیل سے مقدمے چلانے کے بعد درجنوں مسلمانوں کے قتل کا مجرم قرار دیا جاچکا تھا۔ مقتولین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ 2002 میں گجرات کے کئی علاقوں میں فسادات ہوئے تھے اور یہ مقدمہ ایک علاقے سردار پورہ کا تھا،جس میں 56 افراد کو ملزم ٹھہریا گیا تھا۔

بھارتی ریاست گجرات بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور اس کی ڈیڑھ ہزار کلو میٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی ہے جو زیادہ تر جزیرہ نمائے کاٹھیاواڑ سے ملتی ہے۔ اس وقت کاٹھیاوارڑ گجرات کا ہی حصہ ہے جس کے ا یک طرف خلیج کچھ ہے اور دوسری طرف خلیج کھمبات ہے اور شمال سے یہ جزیرہ نما گجرات سے ملا ہوا ہے۔

گجرات کی آبادی اس وقت چھ کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے بھارت کی پانچویں بڑی ریاست ہے۔ اس کو 1960 میں سابقہ صوبے بمبئی کے ستری شمالی اضلاع کو ایک گرے قائم کیا گیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ 1960 میں الگ صوبہ بننے کےبعد سے 1966 تک سترہ سال گجرات میں کانگریس پارٹی کی حکومت رہی تھی، جس میں سب سے طویل عرصہ چھ سال کانگریس کے وزیراعلیٰ کنہیا لال ڈیسائی نے 1965 سے 1971 تک حکومت کی۔

یاد رہے کہ 1967میں انڈین نیشنل کانگریس تقسیم ہوگئی تھی، جب اندرا گاندھی کے خلاف کانگریس کے بڑے اور پرانے رہ نمائوں نے بغاوت کرکے کانگریس آرگنائزیشن کے نام سے ایک الگ دھڑا بنالیا تھا۔ اس طرح گجرات میں بھی کانگریس ٹوٹ گئی تھی اور اس کے وزیراعلیٰ کہنیا لال ڈیسائی نے 1967میں اندرا کی کانگریس چھوڑ کر آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس طرح کنہیا لال 1965 سے 1967 تک دو سال متحدہ کانگریس کے وزیراعلیٰ رہے، پھر 1967 سے 1971 تک چار سال کانگریس (او) یعنی آرگنائزیشن کے وزیراعلیٰ رہے تھے۔ 1972 میں گجرات میں اندرا کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئی مگر صرف دو سال حکومت کرسکی۔ 

پھر 1977 میں جب پورے بھارت میں اندرا کانگریس کو شکست ہوئی تو گجرات میں بھی جنتا پارٹی نے حکومت بنائی جو تین سال چلی پھر 1980 سے 1990 تک دس سال کانگریس کی حکومت رہی، جس میں چھ سال مادھو سنگھ سولنکی اور چار سال امریش چودھری وزیراعلیٰ رہے۔ 1990 سے 1994 تک جنتا دل کی حکومت رہی پھر 1994 سے 1995 تک ایک سال کے لیے دوبارہ کانگریس کی حکومت بنی۔ اب پچھلے پچیس سال سے گجرات میں کانگریس کی حکومت نہیں ہے۔ اب 1998 سے مسلسل گجرات میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہے، ان بائیس برسوں میں مسلسل تیرہ سال نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ 2001 سے 2014 تک برسراقتدار رہے۔

اکتوبر 2001 میں گجرات کے وزیراعلیٰ مودی بنے اور اس کے صرف چار ماہ بعد ہی گجرات میں بڑے پیمانے پر فسادات شروع ہوئے جو فروری اور مارچ 2002 کے مہینوں میں ہوئے، جن میں تین دن تو شدید قتل عام ہوا اور پھر بعد کے تین مہینے وقتاً فوقتاً فسادات ہوتے رہے جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہوا یوں تھاکہ 27فروری 2002 کو گودھرا میں ایک ریل گاڑی میں آگ لگنے سے ساٹھ ہندو یاتری ہلاک ہوگئے ،جو ایودھیا سے واپس آرہے تھے۔ریل گاڑی کا نام سابرمتی ایکسپریس تھا جو گودھرا اسٹیشن پہنچی تو اس میں آگ بھڑ اٹھی۔ گودھرا گجرات کے ضلع ہنچ محل کا صدر مقام ہے۔ گودھرا کا لفظی مطلب ہی ہے گائے کا دیس۔ گودھرا کے ہی مقام پر 1917 میں سردار وبھ بھائی پیشل اور مہاتما گاندھی کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔

27فروری 2001 کو گودھرا میں ریل گاڑی میں آگ لگنےکے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات میں کم از کم ایک ہزار لوگ مارے گئے تھے اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ جن میں 80 فیصد سے زیادہ مسلمان بتائے جاتے ہیں،مگر ایک عام شہریوں کے ٹری بیونل کی رپورٹ کے مطابق مارے جانے والوں کی تعداد دو ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ قتل عام کے دوران عصمت دری کے بھی درجنوں واقعات ہوئے تھے اور ہزاروں مکان و دکانیں جلا دی گئیں تھیں۔ ان سب واقعات کے پیچھے وزیراعلیٰ نریندر مودی کا بھرپور ہاتھ تھا ،جنہوں نے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دی تھی۔

ان واقعات میں پولیس اور سرکاری اہل کار بھی ملوث تھے، جنہوں نے فسادیوں کو مسلمانوں کے پتے بتائے اور باقاعدہ ان کی جائدادوں کی فہرست فراہم کی۔ جتنی تیزی سے یہ کام ہوا ،اس سے ثابت تھا کہ سب منصوبہ بندی سے کیا گیا،مگر بدقسمتی سے دس سال مقدمہ چلنے کے بعد 2012 میں مودی کو تفتیشی ٹیم نے الزامات سے مبرا قرار دے دیا اور یہ بھی کہا کہ ریاستی اہل کاروں پر الزام لگانا غلط تھا۔2013 میں یہ بات سامنے آئی کہ خود تفتیشی ٹیم نے شواہد نظرانداز کیے تھے۔ یہ بلاشبہ ریاستی دہشت گردی کے واقعات تھے جس میں منصوبہ بندی کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

اس کی واضح مثال، نرودا پتیا کا قتل عام تھا جس میں پانچ ہزار لوگوں کے ہجوم نے سو سے زیادہ مسلمانوں کو صرف ایک چھوٹے سے علاقے میں قتل کیا تھا اور اس کی منصوبہ بندی بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد یا عالمی ہندو مجلس نے کی تھی۔بجرنگ دل اصل میں وشوآہندو پریشد کے نوجوانوں کی تنظیم ہے جو ار ایس ایس یا راشٹریہ سیوک سنگھ کے سنگھ پری وار کا حصہ ہے۔ یہ سب ہندو توا یا ہندو قوم پرستی کے علم بردار ہیں۔ بجرنگ دل کو 1984 میں بنایا گیا تھا۔ یو پی میں قیام کے بعد سے یہ پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔ بجرنگ دل ہی وہی تنظیم ہے جو پورے بھارت میں ہزاروں اکھاڑے چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بجرنگ دل پورے بھارت میں بڑے بڑے مندر تعمیر کرتی ہے اور اس طرح ملک میں مذہبی بنیادوں پر نفرتوں کا پرچار کرتی ہے۔

وشوا ہندو پریشد 1964 میں قائم کی گئی تھی ،جس کے بانیوں میں آر ایس ایس کے رہ نما گول وال کر تھے جو 1940 سے 1973 میں اپنی موت تک آر ایس ایس کے سربراہ رہے۔ ان کے علاوہ شیوشنکر آپٹے تھے جو شوا ہندو پریشد کے پہلے جنرل سیکریٹری بنے۔ ان کے ساتھ کے ایم منشی بھی شامل تھے، جو ان سب سے بڑے اور پرانے رہ نما تھے۔تو بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کے غنڈوں نے 2002 میں احمد آباد کے گلبرگ کے علاقے میں بھی سیکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا جن میں معروف مسلمان رہ نما احسان جعفری بھی شامل تھے جو اس وقت 73 برس کے تھے۔ جب گجرات کے فسادات شروع ہوئے تو ان کا گھر مسلمانوں سے بھر گیا جو یہ سمجھ کر وہاں پناہ لینے آئے تھے کہ اتنے بڑے رہ نما کے گھر پر وہ محفوظ رہیں گے۔

لیکن جب احسان جعفری نے ان مسلمان عورتوں اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں بھی قتل کردیا گیا۔ احسان جعفری خود گجراتی نہیں تھے بل کہ مدھیہ پردیش کے شہر برہان پور کے تھے جو بعد میں گجرات آباد ہوئے تھے۔ ان کے خاندان نے 33 برس قبل 1969 کے فسادات میں بھی نقصان اٹھایا تھا۔ کانگریس کے یہ رہ نما 1977 میں اس وقت احمد آباد سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے جب پورے بھارت میں کانگریس کا صفایا ہوگیا تھا۔

اب سپریم کورٹ نے ان تمام ملزموں کو ضمانت پر رہا کردیا ہے جو اس وقت کے فسادات میں مجرم ثابت ہوچکے تھے۔طویل مقدمے کے بعد 31 ملزموں کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی پھر ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد 31 میں سے 14 مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی تھی۔ گو کہ ابھی تک اپیلوں پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے پھر بھی خلاف دستور ضمانت دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کی جیلوں میں دو تہائی قیدی ایسے ہیں جن پر مقدمے چل رہے ہیں اور جنہیں ضمانت نہیں ملی ،ان میں آدھے سے زیادہ پسماندہ قبائلی اور مسلمان ہیں، جب کہ ایک تہائی قیدی ناخواندہ ہیں۔

اس سارے معاملے میں بھارتی عدلیہ کا شرمناک کردار ہے ،کیوں کہ یہ قیدی زیر سماعت نہیں ،بل کہ مجرم قرار دیئے جاچکے تھے۔ جنہیں ضمانت نہیں دی جاتی خاص طور پر قتل کے مجرموں کو۔اس سے قبل 2019 میں بھی سپریم کورٹ نے بابو بجرنگی کو ضمانت دے دی تھی جو ان فسادات کا مرکزی کردار تھا۔ اسے سو مسلمانوں کے قتل پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ،جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے اور یہ مجرم خفیہ کیمرے کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف بڑے فخر سے کرچکا تھا ،جس میں اس نے تفصیل سے بتایا تھا کہ قتل عام کیسے کیا گیا۔

بھارتی عدلیہ کے اس بدلتے ہوئے کردار کے ساتھ بھارت میں سیکولرازم کا مستقبل خاصا مخدوش نظر آرہا ہے۔ جس ملک کو کانگریس نے سیکولر آئین دیا اور قیام پاکستان کے بعد بھی مسلمانوں کو اپنے ملک میں رہنے کا کہا، وہاں اب ہندو قوم پرستی غالب آرہی ہے جس کا الزام صرف بی جے پی کو نہیں دیا جاسکتا۔ اس میں تمام مذہبی تنگ نظر عناصر ملوث اور اس کے ذمہ دار ہیں۔