وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نیٹ ورک بڑھانے کے لیے اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جس میں پاکستان سے آئی ٹی سافٹ ویئرزکی ایکسپورٹس بڑھانے پر غور سمیت ملک بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نیٹ ورک کو وسیع کرنے سے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اجلاس کے دوران ٹیلی فون ٹاورزکے ذریعے شہروں کی ڈیجیٹلائزکنیکٹویٹی شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بینڈ وڈتھ اور فائیبرآپٹک کا عمل فوری مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس میں ملک کی سافٹ ویئرایکسپورٹس کو10 بلین ڈالرز تک لے جانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا جبکہ چھوٹے سافٹ وئیرایکسپورٹرز کےلیے ریلیف پیکج متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لوکل سافٹ وئیر کمپنیوں کو سافٹ وئیر سٹی میں سہولتیں دی جائیں گی اور ،فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی ادارے لوکل کمپنیوں سے سافٹ ویئرخریدیں گے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اس اہم اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبائی اور وفاق کی جانب سے عائد ڈبل ٹیکس ختم کر دیا جائے گا اور ایکسپورٹرز کو ڈالر کا ایکسچینچ ریٹ مارکیٹ سے بہتر دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی ملک کا مستقبل ہے لہذا انفارمیش ٹیکنالوجی کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی سیکٹر میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، حکومت آئی ٹی سیکٹر میں قابل نوجوانوں کی ہر ممکن طریقے سے سہولت کاری کے لئے پرعزم ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ فری لانسرز کی سہولت کاری اور ان کو مراعات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں جبکہ آئی ٹی سیکٹر کے فروغ سے شعبے سے وابستہ لاکھوں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں برؤے کار لانے اور نوکریوں کے مواقع میسر آئیں گے۔
اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، شریک چیئرمین پرائم منسٹر ٹاسک فورس برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ڈاکٹر عطا الرحمن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کامرس، کابینہ اور فنانس ڈویژن کے سیکریٹری و دیگر سینئر افسران بھی شریک تھے۔